🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب موت النجاشي:
باب: نجاشی (حبشہ کے بادشاہ) کی وفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ:" مَاتَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ , فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ أَصْحَمَةَ".
ہم سے ابوربیع سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس دن نجاشی (حبشہ کے بادشاہ) کی وفات ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج ایک مرد صالح اس دنیا سے چلا گیا، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ حجة
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع
Newسليمان بن داود العتكي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3879
صلى على أصحمة النجاشي كبر عليه أربعا
صحيح البخاري
3877
حين مات النجاشي مات اليوم رجل صالح فقوموا فصلوا
صحيح البخاري
3878
صلى على أصحمة النجاشي صفنا وراءه فكنت في الصف
صحيح البخاري
1334
صلى على أصحمة النجاشي كبر أربعا
صحيح البخاري
1317
صلى على النجاشي كنت في الصف الثاني أو الثالث
صحيح البخاري
1320
توفي اليوم رجل صالح من الحبش فهلم فصلوا عليه صففنا فصلى النبي عليه ونحن صفوف
صحيح مسلم
2208
مات اليوم عبد لله صالح أصحمة فقام فأمنا وصلى عليه
صحيح مسلم
2209
أخا لكم قد مات فقوموا فصلوا عليه قمنا فصفنا صفين
صحيح مسلم
2207
صلى على أصحمة النجاشي كبر عليه أربعا
سنن النسائى الصغرى
1976
كنت في الصف الثاني يوم صلى رسول الله على النجاشي
سنن النسائى الصغرى
1975
أخاكم قد مات فقوموا فصلوا عليه
سنن النسائى الصغرى
1972
أخاكم النجاشي قد مات قوموا فصلوا عليه صف بنا كما يصف على الجنازة وصلى عليه
مسندالحميدي
1328
قد مات اليوم عبد صالح، فقوموا فصلوا على أصحمة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3877 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3877
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ نجاشی مسلمان ہو گیا تھا۔
جیسا کہ دوسری روایت میں مذکور ہے مگر امام بخاری ؒ اپنی شرط پر نہ ہونے کی وجہ سے اس روایت کو یہاں نہیں لائے اور یہ باب جو قائم کیا اور اس میں جوحدیث بیان کی اس سے بھی اس کا اسلام لانا ثابت ہوا۔
اس حدیث سے نماز جنازہ غائبانہ پڑھنا بھی ثابت ہوا۔
جو لوگ نماز جنازہ غائبانہ کے انکار ی ہیں ان کے پاس منع کی کوئی صریح صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔
اصحمہ اس کا لقب تھا اصل نام عطیہ تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3877]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1972
جنازہ پر صف بندی کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، (پھر) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1972]
1972۔ اردو حاشیہ: صف بندی فرمائی یعنی باقاعدہ جنازہ پڑھا، نہ کہ صرف دعا کی۔ غائبانہ نماز جنازہ کی بحث حدیث نمبر 1948 میں گزر چکی ہے، ملاحظہ فرمائیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1972]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1317
1317. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1317]
حدیث حاشیہ:
بہر حال دو صف ہوں یا تین صف ہر طرح جائز ہے۔
مگر تین صفیں بنانا بہتر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1317]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1320
1320. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج ملک حبشہ کا ایک صالح شخص فوت ہو گیا ہے،آؤ،اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ حضرت جابر ؓ نے کہا:ہم نے صفیں درست کیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی جبکہ ہم آپ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ ابو زبیرحضرت جابر ؓ سے بیان کرتے ہیں،انھوں نے فرمایا:میں دوسری صف میں تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1320]
حدیث حاشیہ:
ان سب حدیثوں سے میت غائب پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنا ثابت ہوا۔
امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ اور اکثر سلف کا یہی قول ہے۔
علامہ ابن حزم ؒ کہتے ہیں کہ کسی بھی صحابی سے اس کی ممانعت ثابت نہیں اور قیاس بھی اسی کو مقتضی ہے کہ جنازے کی نماز میں دعا کرنا ہے اور دعا کرنے میں یہ ضروری نہیں کہ جس کے لیے دعا کی جائے وہ ضرور حاضر بھی ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبش نجاشی کا جنازہ غائبانہ ادا فرمایا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز جنازہ غائبانہ درست ہے، مگر اس بارے میں علمائے احناف نے بہت کچھ تاویلات سے کام کیا ہے۔
کچھ لوگوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کا پردہ ہٹاکر اللہ نے نجاشی کا جنازہ ظاہر کردیا تھا۔
کچھ کہتے ہیں کہ یہ خصوصیات نبوی سے ہے۔
کچھ نے کہا کہ یہ خاص نجاشی کے لیے تھا۔
بہر حال یہ تاویلات دورازکار ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نجاشی کے لیے پھر معاویہ بن معاویہ مزنی کے لیے‘ نماز جنازہ غائبانہ ثابت ہے۔
حضرت مولانا عبیداللہ صاحب شیخ الحدیث مبارکپوری ؒ فرماتے ہیں:
وأجيب عن ذلك بأن الأصل عدم الخصوصية، ولو فتح باب هذا الخصوص؛ لأنسد كثير من أحكام الشرع. قال الخطابي:
زعم أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان مخصوصاً بهذا الفعل فاسد؛ لأن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا فعل شيئاً من أفعال الشريعة كان علينا إتباعه والإيتساء به، والتخصيص لا يعلم إلا بدليل، ومما يبين ذلك أنه - صلى الله عليه وسلم - خرج بالناس إلى الصلاة فصف بهم وصلوا معه، فعلم أن هذا التأويل فاسد. وقال ابن قدامة:
نقتدي بالنبي - صلى الله عليه وسلم - ما لم يثبت ما يقتضي اختصاصه۔
(مرعاة)
یعنی نجاشی کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ غائبانہ کو مخصوص کرنے کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اصل میں عدم خصوصیت ہے اور اگر خواہ مخواہ ایسے خصوص کا دروازہ کھولا جائے گا‘ تو بہت سے احکام شریعت یہی کہہ کر مسدود کردئیے جائیں گے کہ یہ خصوصیات نبوی میں سے ہیں۔
امام خطابی نے کہا کہ یہ گمان کہ نماز جنازہ غائبانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھی بالکل فاسد ہے۔
اس لیے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام کریں تو اس کا اتباع ہم پر واجب ہے۔
تخصیص کے لیے کوئی کھلی دلیل ہونی ضروری ہے۔
یہاں تو صاف بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہمراہ لے کر نجاشی کی نماز پڑھانے کے لیے نکلے۔
صف بندی ہوئی اور آپ نے نماز پڑھائی۔
ظاہر ہوا کہ یہ تاویل فاسد ہے۔
ابن قدامہ نے کہا کہ جب تک کسی امر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت صحیح دلیل سے ثابت نہ ہو ہم اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کریں گے۔
کچھ روایات جن سے کچھ اختصاص پر روشنی پڑسکتی ہے مروی ہیں۔
مگر وہ سب ضعیف اور ناقابل استناد ہیں۔
علامہ ابن حجرؒ نے فرمایا کہ ان پر توجہ نہیں دی جاسکتی۔
اور واقدی کی یہ روایت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نجاشی کے جنازہ اور زمین کا درمیانی پردہ ہٹا دیا گیا تھا بغیر سند کے ہے جو ہرگز استدلال کے قابل نہیں ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے شرح سفر السعادت میں ایسا ہی لکھا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1320]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1334
1334. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو چار تکبیریں کہیں۔ یز ید بن ہارون اور عبد الصمد نے بھی سلیم بن حیان سے اصحمہ بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1334]
حدیث حاشیہ:
نجاشی حبش کے ہر بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا۔
جیسا کہ ہر ملک میں بادشاہوں کے خاص لقب ہوا کرتے ہیں شاہ حبش کا اصل نام اصحمہ تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1334]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1317
1317. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1317]
حدیث حاشیہ:
(1)
صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نجاشی کے جنازے کیلیے کھڑے ہوئے اور دو صفیں بنائیں۔
(صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 2209 (952)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت جابر ؓ کو تیسری صف کے بارے میں شک تھا کہ وہ تھی یا نہیں، اسی لیے بخاری کی مذکورہ روایت میں أو کا لفظ ذکر کیا گیا ہے، نیز صحیح بخاری ہی کی ایک روایت میں وضاحت ہے کہ آپ نے اپنے پیچھے ہماری صف بندی فرمائی۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3878)
واضح رہے کہ جنازے کے لیے امام کے پیچھے تین یا طاق تعداد میں صفیں بنانے کا ذکر کسی صحیح حدیث میں نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1317]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1334
1334. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو چار تکبیریں کہیں۔ یز ید بن ہارون اور عبد الصمد نے بھی سلیم بن حیان سے اصحمہ بیان کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1334]
حدیث حاشیہ:
(1)
نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا متعدد صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر ؓ سے مروی احادیث کو امام بخاری ؒ نے بیان کیا ہے۔
ان کے علاوہ حضرت ابن عباس، حضرت عقبہ بن عامر، حضرت ابو امامہ اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے بھی چار تکبیریں کہنے کے متعلق احادیث منقول ہیں۔
بعض صحابہ کرام ؓ سے نو تک تکبیرات کہنا بھی ثابت ہے، لیکن جمہور اہل علم، امام احمد، امام شافعی اور امام مالک ؒ نے چار تکبیروں کو راجح قرار دیا ہے۔
(نیل الأوطار: 714/2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ نماز جنازہ پر چار اور پانچ تکبیریں کہی جاتی تھیں۔
حضرت عمر ؒ نے لوگوں کو چار تکبیریں کہنے پر جمع کر دیا۔
(فتح الباری: 258/3) (2)
یزید بن ہارون کی روایت کو امام بخاری ؒ نے خود ہی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3879)
اور عبدالصمد کی روایت کو اسماعیلی نے متصل سند سے ذکر کیا ہے۔
(فتح الباری: 259/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1334]