🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ , وَفَاطِمَةَ , عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: لِأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ إِلَّا نِطَاقِي، قَالَ: فَشُقِّيهِ , فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ میں نے اپنے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کر لو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین (دو پٹکوں والی) ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسماء کو «ذات النطاقين‏.‏» کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥فاطمة بنت المنذر الأسدية
Newفاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← فاطمة بنت المنذر الأسدية
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3907
صنعت سفرة للنبي وأبي بكر حين أرادا المدينة فقلت لأبي ما أجد شيئا أربطه إلا نطاقي قال فشقيه ففعلت فسميت ذات النطاقين
صحيح البخاري
2979
والله ما أجد شيئا أربط به إلا نطاقي قال فشقيه باثنين فاربطيه بواحد السقاء وبالآخر السفرة ففعلت فلذلك سميت ذات النطاقين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3907 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3907
حدیث حاشیہ:
یہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی صاحبزادی ہیں ان کو ذات النطاقین کہا جاتا ہے۔
کیونکہ انہوں نے ہجرت کی رات میں اپنے پٹکے کو پھاڑ کر دو حصے کئے تھے ایک حصہ میں توشہ دان باندھا اور دوسرے کو مشکیزہ پر باندھ دیا تھا۔
حضرت عائشہ ؓ سے دس سال بڑی تھیں ان ہی کے فرزند حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو حجاج ظالم نے قتل کرایا تھا اس حادثہ کے کچھ دن بعد ایک سو سال کی عمر پاکر حضرت اسماء ؓ نے73ھ میں انتقال فرمایا۔
رضي اللہ عنها و أرضاها آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3907]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3907
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے حضرت اسماء ؓ کو اپنا ازاربند پھاڑنے کا مشورہ دیا تھا وہ ان کے والد گرامی حضرت ابوبکر ؓ تھے۔
انھوں نے ہجرت کی رات اپنے پٹکے کو پھاڑ کر دوحصے کرلیے:
ایک حصے سے توشہ دان باندھا اوردوسرے کو خود استعمال کیا۔
چونکہ اس کا ایک حصہ خود استعمال کیا، اس لیے اسے ذات النطاق بھی کہاجاتا ہے۔
(فتح الباري: 294/7۔
)

حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کو امام بخاری ؒ نے متصل سند سے بھی بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4665)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3907]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2979
2979. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا تو میں نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے گھر میں آپ کے لیے سفری کھانا تیار کیا۔ انھوں نےفرمایا: جب مجھے آپ کے توشہ دان اور پانی کے مشکیزے باندھنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو میں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اپنے کمر بند کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی جس سے میں انھیں باندھوں تو حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: تم اپنے کمر بند کے دو حصے کر لو۔ ایک سے پانی کے ظرف کو باندھوں اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ میں نے ایسا ہی کیا تو اس وجہ سے میرا نام ذات النطاقین رکھا گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2979]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی کا نام اسماء ؓ ہے۔
یہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی والدہ ہیں۔
مکہ ہی میں اسلام لائیں۔
اس وقت تک صرف سترہ آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔
یہ حضرت عائشہ ؓ سے دس برس بڑی تھیں۔
اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے بعد ۷۳ھ میں بعمر ایک سو سال آپ نے مکہ ہی میں انتقال فرمایا۔
باب کا مطلب یوں ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس نیک خاتون نے ہجرت کے سفر کے وقت ناشتہ تیار کیا۔
اسی سے ہر سفر میں خواہ حج کا سفر ہو یا جہاد کا راشن ساتھ لے جانے کا اثبات ہوا۔
خاص طور پر فوجوں کے لئے راشن کا پورا انتظام کرنا ہر متمدن حکومت کے لئے ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2979]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2979
2979. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا تو میں نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے گھر میں آپ کے لیے سفری کھانا تیار کیا۔ انھوں نےفرمایا: جب مجھے آپ کے توشہ دان اور پانی کے مشکیزے باندھنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو میں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اپنے کمر بند کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی جس سے میں انھیں باندھوں تو حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: تم اپنے کمر بند کے دو حصے کر لو۔ ایک سے پانی کے ظرف کو باندھوں اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ میں نے ایسا ہی کیا تو اس وجہ سے میرا نام ذات النطاقین رکھا گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2979]
حدیث حاشیہ:
(سُفره)
وہ کھانا ہے جسے مسافر لوگ سفر میں اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں۔
اس وقت اسے عموماً چمڑے کے بنے ہوئے توشہ دان میں رکھا جاتا تھا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نیک خاتون نے سفر ہجرت کے لیے کھانا تیار کیا۔
اس سے ہر سفر میں خواہ وہ حج کا سفر ہو یا جہاد کا راشن ساتھ لے جانے کا اثبات ہوا اور ایسا کرنا توکل کے منافی نہیں جیسا کہ بعض صوفیا کا خیال ہے۔
یہ سفرہجرت تھا۔
سفر جہادکو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
فوج کے لیے راشن کا پورا انتظام کرنا ہر مہذب حکومت کے لیے ضروری ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2979]