علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3917
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، قَالَ: ابْتَاعَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عَنْ مَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ , فَخَرَجْنَا لَيْلًا فَأَحْثَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ , ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَيْءٌ مِنْ ظِلٍّ، قَالَ: فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً مَعِي , ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ , فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيدُ مِنَ الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا , فَسَأَلْتُهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ، فَقَالَ: أَنَا لِفُلَانٍ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لَهُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ؟ قَالَ: نَعَمْ , فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: انْفُضْ الضَّرْعَ، قَالَ: فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ , وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ عَلَيْهَا خِرْقَةٌ قَدْ رَوَّأْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَضِيتُ , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا وَالطَّلَبُ فِي إِثْرِنَا.
ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن یوسف نے، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے حدیث سنی وہ بیان کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان خریدا اور میں ان کے ساتھ اٹھا کر پہنچانے لایا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عازب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر ہجرت کا حال پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ چونکہ ہماری نگرانی ہو رہی تھی (یعنی کفار ہماری تاک میں تھے) اس لیے ہم (غار سے) رات کے وقت باہر آئے اور پوری رات اور دن بھر بہت تیزی کے ساتھ چلتے رہے، جب دوپہر ہوئی تو ہمیں ایک چٹان دکھائی دی۔ ہم اس کے قریب پہنچے تو اس کی آڑ میں تھوڑا سا سایہ بھی موجود تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا جو میرے ساتھ تھا۔ آپ اس پر لیٹ گئے، اور میں قرب و جوار کی گرد جھاڑنے لگا۔ اتفاق سے ایک چرواہا نظر پڑا جو اپنی بکریوں کے تھوڑے سے ریوڑ کے ساتھ اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا اس کا مقصد اس چٹان سے وہی تھا جس کے لیے ہم یہاں آئے تھے (یعنی سایہ حاصل کرنا) میں نے اس سے پوچھا لڑکے تو کس کا غلام ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں کا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی بکریوں سے کچھ دودھ نکال سکتے ہو اس نے کہا کہ ہاں پھر وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری لایا تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے اس کا تھن جھاڑ لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر اس نے کچھ دودھ دوہا۔ میرے ساتھ پانی کا ایک چھاگل تھا۔ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ یہ پانی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ساتھ لے رکھا تھا۔ وہ پانی میں نے اس دودھ پر اتنا ڈالا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا دودھ نوش فرمایئے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا جس سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے پھر کوچ شروع کیا اور ڈھونڈنے والے لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3908
| تبعه سراقة بن مالك بن جعشم فدعا عليه النبي فساخت به فرسه قال ادع الله لي ولا أضرك فدعا له عطش رسول الله فمر براع قال أبو بكر فأخذت قدحا فحلبت فيه كثبة من لبن فأتيته فشرب حتى رضيت |
صحيح البخاري |
3615
| أسرينا ليلتنا ومن الغد حتى قام قائم الظهيرة وخلا الطريق لا يمر فيه أحد فرفعت لنا صخرة طويلة لها ظل لم تأت عليه الشمس فنزلنا عنده وسويت للنبي مكانا بيدي ينام عليه وبسطت فيه فروة وقلت نم يا رسول الله وأنا أنفض لك ما حولك فنام وخرجت أنفض م |
صحيح البخاري |
2439
| انطلقت فإذا أنا براعي غنم يسوق غنمه فقلت لمن أنت قال لرجل من قريش فسماه فعرفته فقلت هل في غنمك من لبن فقال نعم فقلت هل أنت حالب لي قال نعم فأمرته فاعتقل شاة من غنمه ثم أمرته أن ينفض ضرعها من الغبار ثم أمرته أن ينفض كفيه فقال هكذا ضرب إ |
صحيح البخاري |
3917
| أخذ علينا بالرصد فخرجنا ليلا فأحثثنا ليلتنا ويومنا قام قائم الظهيرة ثم رفعت لنا صخرة فأتيناها ولها شيء من ظل فرشت لرسول الله فروة معي ثم اضطجع عليها النبي فانطلقت أنف |
صحيح البخاري |
3652
| اشترى أبو بكر من عازب رحلا بثلاثة عشر درهما فقال أبو بكر لعازب مر البراء فليحمل إلي رحلي فقال عازب لا حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم قال ارتحلنا من مكة فأحيينا أو سرينا ليلتنا ويو |
صحيح مسلم |
7521
| أسرينا ليلتنا كلها حتى قام قائم الظهيرة وخلا الطريق فلا يمر فيه أحد حتى رفعت لنا صخرة طويلة لها ظل لم تأت عليه الشمس بعد فنزلنا عندها فأتيت الصخرة فسويت بيدي مكانا ينام فيه النبي في ظلها ثم بسطت عليه فروة ثم قلت نم يا رسول الله وأنا أنف |
صحيح مسلم |
5239
| أخذت قدحا فحلبت فيه لرسول الله كثبة من لبن فأتيته به فشرب حتى رضيت |
صحيح مسلم |
5238
| حلبت له كثبة من لبن فأتيته بها فشرب حتى رضيت |
Sahih Bukhari Hadith 3917 in Urdu
البراء بن عازب الأنصاري ← أبو بكر الصديق