صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب غزوة العشيرة أو العسيرة:
باب: غزوہ عشیرہ یا عسرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3949
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْوَاءَ ثُمَّ بُوَاطَ ثُمَّ الْعُشَيْرَةَ.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ مقام ابواء کا ہوا، پھر جبل بواط کا، پھر عشیرہ کا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: Q3949]
حدیث نمبر: 3949
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقِيلَ لَهُ:" كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ؟" قَالَ:" تِسْعَ عَشْرَةَ"، قِيلَ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ؟ قَالَ:" الْعُسَيْرَةُ أَوْ الْعُشَيْرُ" , فَذَكَرْتُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: الْعُشَيْرُ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے کہ میں ایک وقت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے؟ انہوں نے کہا انیس۔ میں نے پوچھا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں۔ میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ کہا کہ عسیرہ یا عشیرہ۔ پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (صحیح لفظ) عشیرہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4471
| كم غزوت مع رسول الله قال سبع عشرة كم غزا النبي قال تسع عشرة |
صحيح البخاري |
3949
| كم غزا النبي من غزوة قال تسع عشرة كم غزوت أنت معه قال سبع عشرة أيهم كانت أول قال العسيرة أو العشير فذكرت لقتادة فقال العشير |
صحيح البخاري |
4404
| غزا تسع عشرة غزوة حج بعد ما هاجر حجة واحدة لم يحج بعدها حجة الوداع |
صحيح مسلم |
3035
| غزا تسع عشرة حج بعد ما هاجر حجة واحدة حجة الوداع |
صحيح مسلم |
4692
| كم غزا رسول الله قال تسع عشرة كم غزوت أنت معه قال سبع عشرة غزوة أول غزوة غزاها قال ذات العسير أو العشير |
صحيح مسلم |
4693
| غزا تسع عشرة غزوة حج بعد ما هاجر حجة لم يحج غيرها حجة الوداع |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3949 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3949
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار قریش کے ایک قافلہ کی خبر سن کر تشریف لے گئے تھے مگر قافلہ تو نہیں ملا ہاں جنگ بدر اس کے نتیجہ میں وقوع میں آئی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار قریش کے ایک قافلہ کی خبر سن کر تشریف لے گئے تھے مگر قافلہ تو نہیں ملا ہاں جنگ بدر اس کے نتیجہ میں وقوع میں آئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3949]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3949
حدیث حاشیہ:
1۔
غزوہ بدر کا سبب عشیرہ کا سفرتھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سردارابوسفیان کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے جو شام سے مالِ تجارت لے کر واپس مکے جارہے تھے۔
اور ابوجہل وغیرہ اس کے تعاون کے لیے نکلے۔
مالِ تجارت والا قافلہ تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن مقام بدر پر اسلام اور کفر کے مابین عظیم معرکہ برپا ہوا جس میں ابوجہل اور قریش کے بڑے بڑے سورما مارے گئے۔
کفر کی ٹوٹ گئی اور اسلام کا عروج شروع ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے کتاب المغازی کا آغاز غزوہ عشیرہ سے کیا ہے اور اس میں زید بن ارقم ؓ کی روایت لائے ہیں، حالانکہ اہل سیر کا اتفاق ہے کہ اس سے پہلے تقریباً تین غزوات ہوچکےتھے۔
اس بنا پر حضرت زید بن ارقم ؓ کے قول کی یہ توجیہ ہوگی کہ شاید اس وقت حضرت زید ؓ مسلمان نہ ہوئے ہوں، یا انھوں نے چھوٹے چھوٹے غزوات کو ذکر کرنا مناسب خیال نہ کیا ہو، یا انھوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا ہو اور اس عشیرہ سے پہلے غزوات کا انھیں علم نہ ہوسکا۔
3۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کی غرض اول المغازی کو بیان کرنا نہیں بلکہ غزوہ عشیرہ کاخاص طورپر اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ غزوہ بدر کبریٰ کے لیے بطور تمہید کے ہے۔
انھوں نے ابن اسحاق کا قول بھی اسی لیے ذکر کیا جاتا ہےتاکہ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے اول المغازی کا وہم دور ہوجائے۔
4۔
غزوہ عشیرہ سے پہلے سرایا اور غزوات حسب ذیل ہیں:
۔
سریہ سیف البحر رمضان 1ہجری۔
۔
سریہ رابغ شوال 1ہجری۔
۔
غزوہ ابواء صفر 2ہجری۔
۔
سریہ ضرار ذی القعدہ 1ہجری۔
۔
غزوہ بواط ربیع الاول 2ہجری۔
۔
غزوہ سفوان ربیع الاول 2ہجری۔
۔
اس کے بعد غزوہ عشیرہ جمادی الاولیٰ 2ہجری میں پیش آیا۔
پھر سریہ نخلہ رجب 2ہجری میں ہوا۔
آخر میں غزوہ بدر کبریٰ ہوا جو حق وباطل کے درمیان حقیقی فیصلہ کن غزوہ تھا جسے قرآن نے یوم الفرقان کا نام دیا ہے۔
5۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ جنگیں خود لڑی ہیں ان میں بدر، اُحد، احزاب، بنی مصطلق، خبیر، مکہ، حنین اور طائف سرفہرست ہیں۔
بنوقریظہ سے جنگ، احزاب ہی کا حصہ تھا۔
واللہ اعلم۔
1۔
غزوہ بدر کا سبب عشیرہ کا سفرتھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سردارابوسفیان کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے جو شام سے مالِ تجارت لے کر واپس مکے جارہے تھے۔
اور ابوجہل وغیرہ اس کے تعاون کے لیے نکلے۔
مالِ تجارت والا قافلہ تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن مقام بدر پر اسلام اور کفر کے مابین عظیم معرکہ برپا ہوا جس میں ابوجہل اور قریش کے بڑے بڑے سورما مارے گئے۔
کفر کی ٹوٹ گئی اور اسلام کا عروج شروع ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے کتاب المغازی کا آغاز غزوہ عشیرہ سے کیا ہے اور اس میں زید بن ارقم ؓ کی روایت لائے ہیں، حالانکہ اہل سیر کا اتفاق ہے کہ اس سے پہلے تقریباً تین غزوات ہوچکےتھے۔
اس بنا پر حضرت زید بن ارقم ؓ کے قول کی یہ توجیہ ہوگی کہ شاید اس وقت حضرت زید ؓ مسلمان نہ ہوئے ہوں، یا انھوں نے چھوٹے چھوٹے غزوات کو ذکر کرنا مناسب خیال نہ کیا ہو، یا انھوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا ہو اور اس عشیرہ سے پہلے غزوات کا انھیں علم نہ ہوسکا۔
3۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کی غرض اول المغازی کو بیان کرنا نہیں بلکہ غزوہ عشیرہ کاخاص طورپر اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ غزوہ بدر کبریٰ کے لیے بطور تمہید کے ہے۔
انھوں نے ابن اسحاق کا قول بھی اسی لیے ذکر کیا جاتا ہےتاکہ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے اول المغازی کا وہم دور ہوجائے۔
4۔
غزوہ عشیرہ سے پہلے سرایا اور غزوات حسب ذیل ہیں:
سریہ سیف البحر رمضان 1ہجری۔
سریہ رابغ شوال 1ہجری۔
غزوہ ابواء صفر 2ہجری۔
سریہ ضرار ذی القعدہ 1ہجری۔
غزوہ بواط ربیع الاول 2ہجری۔
غزوہ سفوان ربیع الاول 2ہجری۔
اس کے بعد غزوہ عشیرہ جمادی الاولیٰ 2ہجری میں پیش آیا۔
پھر سریہ نخلہ رجب 2ہجری میں ہوا۔
آخر میں غزوہ بدر کبریٰ ہوا جو حق وباطل کے درمیان حقیقی فیصلہ کن غزوہ تھا جسے قرآن نے یوم الفرقان کا نام دیا ہے۔
5۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ جنگیں خود لڑی ہیں ان میں بدر، اُحد، احزاب، بنی مصطلق، خبیر، مکہ، حنین اور طائف سرفہرست ہیں۔
بنوقریظہ سے جنگ، احزاب ہی کا حصہ تھا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3949]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4692
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید، لوگوں کو نماز استسقاء پڑھانے کے لیے نکلے، تو دو رکعتیں پڑھ کر بارش کے لیے دعا مانگی، اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوئی، میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے سوا اور کوئی نہ تھا، یا میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا، تو میں نے ان سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت کی؟ انہوں نے جواب دیا، انیس (19) میں، میں نے پوچھا، تو نے آپ کے ساتھ کتنے غزوات میں حصہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4692]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غزوہ سے مراد وہ جنگ ہے،
جس میں آپ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور ان کی تعداد میں اختلاف ہے،
جس کی وجہ یہ ہے،
بعض نے معمولی غزوات کو نظر انداز کر دیا،
یا قریبی غزوات کو ایک دوسرے میں داخل کر دیا،
جیسا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے پہلا غزوہ ذات العسیر یا ذات العشیر کو قرار دیا ہے حالانکہ اس سے پہلے غزوہ ابوایا ودان،
غزوہ بواط اور غزوہ تعاقب کر زبن جابرفہری ہو چکے تھے اور غزوہ ذات العسیر چوتھا غزوہ تھا،
موسیٰ بن عقبہ،
محمد بن اسحاق اور محمد بن سعد وغیر ہم ےغزوات کی تفصیل تعداد ستائیس (27)
لکھی ہے،
جن میں نو غزوات میں جنگ میں حصہ لیا اور غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کو ایک شمار کریں تو تعداد آٹھ ہو گی،
صحیح تعداد یہ ہے،
بعض نے تعداد انیس (19)
اکیس (21)
بائیس(22)
چوبیس(24)
پچیس (25)
اور چھبیس(26)
بھی لکھی ہے۔
فوائد ومسائل:
غزوہ سے مراد وہ جنگ ہے،
جس میں آپ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور ان کی تعداد میں اختلاف ہے،
جس کی وجہ یہ ہے،
بعض نے معمولی غزوات کو نظر انداز کر دیا،
یا قریبی غزوات کو ایک دوسرے میں داخل کر دیا،
جیسا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے پہلا غزوہ ذات العسیر یا ذات العشیر کو قرار دیا ہے حالانکہ اس سے پہلے غزوہ ابوایا ودان،
غزوہ بواط اور غزوہ تعاقب کر زبن جابرفہری ہو چکے تھے اور غزوہ ذات العسیر چوتھا غزوہ تھا،
موسیٰ بن عقبہ،
محمد بن اسحاق اور محمد بن سعد وغیر ہم ےغزوات کی تفصیل تعداد ستائیس (27)
لکھی ہے،
جن میں نو غزوات میں جنگ میں حصہ لیا اور غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کو ایک شمار کریں تو تعداد آٹھ ہو گی،
صحیح تعداد یہ ہے،
بعض نے تعداد انیس (19)
اکیس (21)
بائیس(22)
چوبیس(24)
پچیس (25)
اور چھبیس(26)
بھی لکھی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4692]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4404
4404. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس جنگیں لڑیں اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک ہی حج کیا ہے، یعنی حجۃ الوداع۔ اس کے بعد آپ نے کوئی حج نہیں کیا۔ ابو اسحاق کا بیان ہے کہ آپ نے (ہجرت سے پہلے) مکہ میں ایک اور حج کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4404]
حدیث حاشیہ:
یہ ابو اسحاق کا خیال ہے صحیح یہ ہے کہ آپ نے مکہ میں رہتے وقت بہت حج کئے تھے۔
آپ ہر سال حج کرتے تھے۔
(وحیدی)
یہ ابو اسحاق کا خیال ہے صحیح یہ ہے کہ آپ نے مکہ میں رہتے وقت بہت حج کئے تھے۔
آپ ہر سال حج کرتے تھے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4404]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4471
4471. حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم ؓ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے؟ انہوں نے کہا: سترہ (17) میں۔ میں نے (پھر) پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (خود) کتنے غزوات میں حصہ لیا؟ انہوں نے فرمایا: انیس (10) (غزوات) میں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4471]
حدیث حاشیہ:
یعنی ان جہادوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشریف لے گئے۔
جنگ ہویا نہ ہو۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اکیس جہاد ایسے منقول ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہیں۔
بعض نے کہا آپ ستائیس جہادوں میں خود تشریف لے گئے ہیں اور47 لشکر ایسے روانہ کئے ہیں جن میں خود شریک نہیں ہوئے، جن جہادوں میں جنگ ہوئی وہ نو ہیں۔
بدر، احد، مریسیع، خندق، بنی قریظہ، خیبر، فتح مکہ، حنین، اور طائف۔
یعنی ان جہادوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشریف لے گئے۔
جنگ ہویا نہ ہو۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اکیس جہاد ایسے منقول ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہیں۔
بعض نے کہا آپ ستائیس جہادوں میں خود تشریف لے گئے ہیں اور47 لشکر ایسے روانہ کئے ہیں جن میں خود شریک نہیں ہوئے، جن جہادوں میں جنگ ہوئی وہ نو ہیں۔
بدر، احد، مریسیع، خندق، بنی قریظہ، خیبر، فتح مکہ، حنین، اور طائف۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4471]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4404
4404. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس جنگیں لڑیں اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک ہی حج کیا ہے، یعنی حجۃ الوداع۔ اس کے بعد آپ نے کوئی حج نہیں کیا۔ ابو اسحاق کا بیان ہے کہ آپ نے (ہجرت سے پہلے) مکہ میں ایک اور حج کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4404]
حدیث حاشیہ:
1۔
ابواسحاق کی روایت سے وہم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے ایک حج کیا ہے، حالانکہ آپ نے ہجرت سے پہلے متعدد حج کیے ہیں کیونکہ آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی حج ترک نہیں کیا۔
2۔
قریش کے لیے توحج بیت اللہ وجہ فخرومباہات تھا، اس سے وہ دوسرے قبائل سے پہچانے جاتے تھے۔
جب قریش کافر ہونے کے باوجود حج ترک نہ کرتے تھے تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑدیتے ہوں گے؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ حضرت جبیر بن معطم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج کے موقع پر دیکھا تھا کہ آپ میدان عرفات میں وقوف کررہے تھے جبکہ قریش مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے، نیز اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر مختلف قبائل کو دین اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
انصار کے ساتھ تینوں بیعتیں بھی حج کے موقع پر ہوئی تھیں۔
(فتح الباري: 134/8)
1۔
ابواسحاق کی روایت سے وہم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے ایک حج کیا ہے، حالانکہ آپ نے ہجرت سے پہلے متعدد حج کیے ہیں کیونکہ آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی حج ترک نہیں کیا۔
2۔
قریش کے لیے توحج بیت اللہ وجہ فخرومباہات تھا، اس سے وہ دوسرے قبائل سے پہچانے جاتے تھے۔
جب قریش کافر ہونے کے باوجود حج ترک نہ کرتے تھے تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑدیتے ہوں گے؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ حضرت جبیر بن معطم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج کے موقع پر دیکھا تھا کہ آپ میدان عرفات میں وقوف کررہے تھے جبکہ قریش مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے، نیز اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر مختلف قبائل کو دین اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
انصار کے ساتھ تینوں بیعتیں بھی حج کے موقع پر ہوئی تھیں۔
(فتح الباري: 134/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4404]
أبو إسحاق السبيعي ← زيد بن أرقم الأنصاري