🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3964
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَتَبْتُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي بَدْرٍ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یوسف بن ماجشون سے یہ حدیث لکھی، انہوں نے صالح بن ابراہیم سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) سے، بدر کے بارے میں عفراء کے دونوں بیٹوں کی حدیث مراد لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عوف الزهري، أبو محمدصحابي
👤←👥إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري، أبو محمد، أبو إسحاق، أبو عبد الله
Newإبراهيم بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الرحمن بن عوف الزهري
له رؤية
👤←👥صالح بن إبراهيم الزهري، أبو عبد الرحمن، أبو عمران
Newصالح بن إبراهيم الزهري ← إبراهيم بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥يوسف بن الماجشون، أبو سلمة
Newيوسف بن الماجشون ← صالح بن إبراهيم الزهري
ثقة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← يوسف بن الماجشون
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3964 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3964
حدیث حاشیہ:
اس روایت کی تفصیل اس طرح ہے:
حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، اچانک مڑا تو کیا دیکھتاہوں کہ میرے دائیں بائیں دونوں عمر جوان ہیں۔
میں دل میں تمنا کرنے لگا:
کاش! میرے دائیں بائیں کڑیل جوان ہوتے۔
اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپ کر مجھے کہا:
چچا جان! مجھے ابوجہل دکھائیں۔
میں نے کہا:
بھتیجے!تم اسے کیا کروگے؟ اس نے کہا:
مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگرمیں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہیں ہوگا یہاں تک کہ جس کی موت پہلے لکھی وہ مرجائے۔
حضرت عبدالرحمان ؓ کہتے ہیں:
مجھے اس کی دلیری پر تعجب ہوا۔
اتنے میں دوسرے شخص نے مجھے اشارے سے متوجہ ہوکر یہی بات کہی۔
میں نے چند لمحوں بعد دیکھا کہ ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر لگارہا ہے۔
میں نے اسے دیکھتے ہی کہا:
یہ ہے وہ ابوجہل جس کے متعلق تم مجھ سے ابھی ابھی پوچھ رہے تھے۔
یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار کرقتل کردیا، پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے کس نے قتل کیا ہے؟ دونوں نے کہا میں نے قتل کیا ہےآپ نے فرمایا:
تم اپنی اپنی تلواریں صاف کرچکے ہو؟ بولے نہیں۔
آپ نے دونوں کی تلواریں دیکھ کر فرمایا:
تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔
البتہ ابوجہل کا سازوسامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دیا۔
دونوں حملہ آوروں کا نام معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء ہے۔
(صحیح البخاري، فرض الخمس، حدیث: 3141)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3964]