صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب قتل أبى جهل:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، وَقَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ: وَفِيهِمْ أُنْزِلَتْ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19، قَالَ: هُمُ الَّذِينَ تَبَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ , وَعَلِيٌّ , وَعُبَيْدَةُ , أَوْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْحَارِثِ , وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ.
مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات (حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی۔“ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم (اور کافروں کی طرف سے) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3965]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں پہلا شخص ہوں گا جو اللہ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانوں ہو کر بیٹھوں گا۔“ قیس بن عباد رحمہ اللہ نے کہا کہ انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دونوں فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ ان سے مراد وہ حضرات ہیں جو غزوہ بدر کے دن ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے لڑائی میں نکلے۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور کفار کی طرف سے شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سامنے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3965 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3965
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ کہ بدر کے دن کافروں کی طرف سے یہ تین شخص میدان میں نکلے تھے اور کہنے لگے اے محمد! ہم سے لڑنے کے لئے لوگوں کو بھیجو۔
ادھر سے انصار مقابلہ کو گئے تو کہنے لگے ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔
ہم تو اپنے برادری والوں سے یعنی قریش والوں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے حمزہ! اٹھو، اے علی! اے عبیدہ! اٹھو، حضرت حمزہ شیبہ کے مقابلہ پر اور علی ولید کے مقابلہ پر کھڑے ہوئے۔
حمزہ نے شیبہ کو علی نے ولید کو مارلیا اور عبیدہ اور عتبہ دونوں ایک دوسرے پر وار کررہے تھے کہ حضرت علی ؓ نے جاکر عتبہ کو ختم کیا اور عبیدہ کو اٹھا لائے۔
ہوا یہ کہ بدر کے دن کافروں کی طرف سے یہ تین شخص میدان میں نکلے تھے اور کہنے لگے اے محمد! ہم سے لڑنے کے لئے لوگوں کو بھیجو۔
ادھر سے انصار مقابلہ کو گئے تو کہنے لگے ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔
ہم تو اپنے برادری والوں سے یعنی قریش والوں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے حمزہ! اٹھو، اے علی! اے عبیدہ! اٹھو، حضرت حمزہ شیبہ کے مقابلہ پر اور علی ولید کے مقابلہ پر کھڑے ہوئے۔
حمزہ نے شیبہ کو علی نے ولید کو مارلیا اور عبیدہ اور عتبہ دونوں ایک دوسرے پر وار کررہے تھے کہ حضرت علی ؓ نے جاکر عتبہ کو ختم کیا اور عبیدہ کو اٹھا لائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3965]
Sahih Bukhari Hadith 3965 in Urdu
قيس بن عباد القيسي ← علي بن أبي طالب الهاشمي