🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب شهود الملائكة بدرا:
باب: جنگ بدر میں فرشتوں کا شریک ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3995
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَوْمَ بَدْرٍ هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ".
مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ہتھیار لگائے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن موسى التميمي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4041
هذا جبريل آخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب
صحيح البخاري
3995
هذا جبريل آخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3995 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3995
حدیث حاشیہ:
جن کو اللہ تعالی نے مسلمانوں کی مدد کے لیے اور بھی بہت سے فرشتوں کے ساتھ میدان جنگ میں بھیجا ہے۔
سعید بن منصور کی روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ سرخ گھوڑے پر سوار تھے۔
اس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے۔
ابن اسحاق نے ابو واقد لیثی سے نکالا کہ میں بدر کے دن ایک کافر کو مارنے چلا مگر میرے پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر خود بخود تن سے جدا ہوکر گر پڑا۔
ابھی میری تلوار اس کے قریب پہنچی بھی نہ تھی۔
بیہقی نے نکا لا کہ بدر کے دن ایک سخت آندھی چلی پھر دوسری مرتبہ ایک سخت آندھی چلی۔
پہلی آندھی حضرت جبرئیل ؑ کی آمد تھی۔
دوسری حضرت میکائیل ؑ کی آمد پر تھی۔
اگرچہ اللہ کا ایک ہی فرشتہ دنیا کے سارے کافروں کو مارنے کے لیے کافی تھا مگر پرور دگارکو یہ منظور ہوا کہ فرشتوں کو بطور سپاہیوں کے بھیجے اور ان سے عادت اور قوت بشری کے موافق کام لے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3995]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3995
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ سرخ گھوڑے پر سوار تھے جس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے زرہ پہنے اور گردو غبار سے اٹے ہوئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:
اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے جدا نہ ہوں حتی کہ آپ راضی ہو جائیں کیا آپ خوش ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ہاں میں راضی ہوں۔
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی پھر بیدار ہوئے تو فرمایا:
اے ابو بکر !تمھیں خوشبخری ہو کہ تمھارے پاس اللہ کی مدد آگئی ہے یہ جبرئیل ؑ اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔
(السیرة التبوبة لابن هشام: 626/1 و فتح الباري: 390/7)

اس جنگ میں فرشتوں کے اترنے میں یہ حکمت تھی کہ مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرنا مقصود تھا جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فرشتوں کی شمولیت اس لیے تھی کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمھارے دل مطمئن ہو جائیں۔
(آل عمران: 126/3)
ویسے تو حضرت جبرئیل ؑ اپنے پرسے مشرکین کو تہس نہیں کر سکتے تھے لیکن ایسا کرنا عام عادت کے خلاف تھا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3995]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4041
4041. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن فرمایا: یہ حضرت جبریل ؑ ہیں جو ہتھیار بند اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4041]
حدیث حاشیہ:

یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے وہاں غزوہ اُحد کے بجائے غزوہ بدر کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3995)
حافظ ابن حجر ؒ نے "تنبیہ" کا عنوان دے کر اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس حدیث میں غزوہ اُحد کے الفاظ وہم پر مبنی ہیں۔
(فتح الباري: 436/7)
لیکن اسے وہم قراردینا صحیح نہیں۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مقامات پر یہ ا لفاظ استعمال فرمائے ہوں، پھر فرشتوں کا اترنا دونوں غزوات میں ثابت ہے جیسا کہ خود امام بخاری ؒ نے ایک حدیث پیش کی ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اُحد کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جو سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔
میں نے اس سے پہلے اور اس کےبعد انھیں نہیں دیکھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4054)
صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں:
اُحد کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دوآدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، جنھوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔
میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد انھیں نہیں دیکھا۔
وہ حضرت جبرئیل ؑ اور میکائیل ؑ تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004(2306)
ان روایات سے معلوم ہواکہ فرشتوں کی حاضری یوم بدر کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
احد میں ان کی حاضری بلکہ لڑنا بھی ثابت ہے، اس لیے اس روایت میں "یوم اُحد" کے الفاظ کو وہم قراردینا محل نظر ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4041]

Sahih Bukhari Hadith 3995 in Urdu