صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب غزوة أحد:
باب: غزوہ احد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4050
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ , وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةً تَقُولُ: نُقَاتِلُهُمْ , وَفِرْقَةً تَقُولُ: لَا نُقَاتِلُهُمْ , فَنَزَلَتْ: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا سورة النساء آية 88 وَقَالَ: إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا، وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے (منافقین، بہانہ بنا کر) واپس لوٹ گئے۔ پھر صحابہ کی ان واپس ہونے والے منافقین کے بارے میں دو رائیں ہو گئیں تھیں۔ ایک جماعت تو کہتی تھی ہمیں پہلے ان سے جنگ کرنی چاہیے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ان سے ہمیں جنگ نہ کرنی چاہیے۔ اس پر آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا» ”پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہاری دو جماعتیں ہو گئیں ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالی کی وجہ سے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ”طیبہ“ ہے، سرکشوں کو یہ اس طرح اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4050]
حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد کے لیے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے واپس لوٹ آئے۔ (ان واپس آنے والوں کے متعلق) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دو گروہ بن گئے: ایک گروہ کہتا تھا کہ ”ہم ان سے جنگ کریں گے“ اور دوسرا گروہ کہتا کہ ”ہم ان سے نہیں لڑیں گے۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [سورة النساء: 88] ”تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بدعملی کی وجہ سے انہیں سابقہ حالت (کفر) کی طرف لوٹا دیا ہے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ، طیبہ ہے جو گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4050]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4050
| خرج النبي إلى أحد رجع ناس ممن خرج معه وكان أصحاب النبي فرقتين فرقة تقول نقاتلهم وفرقة تقول لا نقاتلهم فنزلت فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا إنها طيبة تنفي الذنوب كما تنفي النار خبث الفضة |
صحيح مسلم |
7031
| خرج إلى أحد فرجع ناس ممن كان معه فكان أصحاب النبي فيهم فرقتين قال بعضهم نقتلهم وقال بعضهم لا فنزلت فما لكم في المنافقين فئتين |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4050 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4050
حدیث حاشیہ:
آیت مذکورہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
بعضوں نے کہا یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا تھا کہ یہ بدلہ اس شخص سے کون لیتا ہے جس نے میری بیوی (حضرت عائشہ ؓ)
کو بد نام کر کے مجھے ایذا دی۔
آیت مذکورہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
بعضوں نے کہا یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا تھا کہ یہ بدلہ اس شخص سے کون لیتا ہے جس نے میری بیوی (حضرت عائشہ ؓ)
کو بد نام کر کے مجھے ایذا دی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4050]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4050
حدیث حاشیہ:
1۔
غزوہ احد کے موقع پر منافقین کی دو قسمیں سامنے آئیں۔
ایک قسم وہ تھی جس کا نفاق کھل کر اس وقت سامنے آیا جب عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی راستے سے مدینہ طیبہ واپس آگیا۔
اور دوسری قسم وہ تھی جو لڑائی شروع ہونے کے بعد شکست کے وقت بھاگ کر مدینہ طیبہ آگئے ان میں مسلمان بھی تھے انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
“ (آل عمران: 155)
2۔
مذکورہ حدیث میں منافقین کی وہ قسم مراد ہے جو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے۔
وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے یا مدینہ ان کے خبث کو دور کردے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کچھ تو راہ راست پر آگئے اور کچھ مختلف روحانی و جسمانی بیماروں میں مبتلا ہو کر خاک میں مل گئے۔
واللہ اعلم۔
1۔
غزوہ احد کے موقع پر منافقین کی دو قسمیں سامنے آئیں۔
ایک قسم وہ تھی جس کا نفاق کھل کر اس وقت سامنے آیا جب عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی راستے سے مدینہ طیبہ واپس آگیا۔
اور دوسری قسم وہ تھی جو لڑائی شروع ہونے کے بعد شکست کے وقت بھاگ کر مدینہ طیبہ آگئے ان میں مسلمان بھی تھے انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
“ (آل عمران: 155)
2۔
مذکورہ حدیث میں منافقین کی وہ قسم مراد ہے جو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے۔
وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے یا مدینہ ان کے خبث کو دور کردے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کچھ تو راہ راست پر آگئے اور کچھ مختلف روحانی و جسمانی بیماروں میں مبتلا ہو کر خاک میں مل گئے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4050]
Sahih Bukhari Hadith 4050 in Urdu
عبد الله بن يزيد الأوسي ← زيد بن ثابت الأنصاري