صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب قتل حمزة رضي الله عنه:
باب: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4072
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ. وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ، كَأَنَّهُ حَمِيتٌ. قَالَ فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ بِيَسِيرٍ، فَسَلَّمْنَا، فَرَدَّ السَّلاَمَ، قَالَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ، مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلاَّ عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لاَ وَاللَّهِ إِلاَّ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلاَمًا بِمَكَّةَ، فَكُنْتُ أَسْتَرْضِعُ لَهُ، فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلاَمَ مَعَ أُمِّهِ، فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ. قَالَ فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ أَلاَ تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِي مَوْلاَيَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ، قَالَ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ- وَعَيْنَيْنِ جَبَلٌ بِحِيَالِ أُحُدٍ، بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ- خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ، فَلَمَّا اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ خَرَجَ سِبَاعٌ فَقَالَ هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ يَا سِبَاعُ يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، أَتُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ- قَالَ- وَكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ- قَالَ- فَكَانَ ذَاكَ الْعَهْدَ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ، حَتَّى فَشَا فِيهَا الإِسْلاَمُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولاً، فَقِيلَ لِي إِنَّهُ لاَ يَهِيجُ الرُّسُلَ- قَالَ- فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «آنْتَ وَحْشِيٌّ» . قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ: «أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ» . قُلْتُ قَدْ كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا بَلَغَكَ. قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَكَ عَنِّي» . قَالَ فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ قُلْتُ لأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ- قَالَ- فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ- قَالَ- فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ، كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرُ الرَّأْسِ- قَالَ- فَرَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ- قَالَ- وَوَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ. قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ فَقَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ وَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَتَلَهُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ.
مجھ سے ابو جعفر محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجین بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن فضل نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ کو وحشی (ابن حرب حبشی جس نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور ہندہ زوجہ ابوسفیان نے ان کی لاش کا مثلہ کیا تھا) سے تعارف ہے۔ ہم چل کے ان سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ضرور چلو۔ وحشی حمص میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے پاس کھڑے رہے۔ پھر سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ بیان کیا کہ عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو جسم پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں دیکھ سکتے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: اے وحشی! کیا تم نے مجھے پہچانا؟ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس نے عبیداللہ کو دیکھا اور کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اسے ام قتال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا پھر مکہ میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دایا کی تلاش کے لیے گیا تھا۔ پھر میں اس بچے کو اس کی (رضاعی) ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ غالباً میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تھے۔ بیان کیا کہ اس پر عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہا، ہمیں تم حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا (طعیمہ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔ انہوں نے بتایا کہ پھر جب قریش عینین کی جنگ کے لیے نکلے۔ عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے۔ تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادہ سے ہو لیا۔ جب (دونوں فوجیں آمنے سامنے) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو (قریش کی صف میں سے) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ (اس کی اس دعوت مبازرت پر) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا، اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا (اور اسے قتل کر دیا) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔ وحشی نے بیان کیا کہ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کی سرین کے پار ہو گیا۔ بیان کیا کہ یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں مقیم رہا۔ لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا تو میں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قاصد بھیجا تو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے (اس لیے تم مسلمان ہو جاؤ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمہاری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو جائیں گی) چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا۔ اب میں نے سوچا کہ مجھے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ ممکن ہے میں اسے قتل کر دوں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدل ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی اس کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلا۔ اس سے جنگ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بیان کیا کہ (میدان جنگ میں) میں نے دیکھا کہ ایک شخص (مسیلمہ) ایک دیوار کی دراز سے لگا کھڑا ہے۔ جیسے گندمی رنگ کا کوئی اونٹ ہو۔ سر کے بال منتشر تھے۔ بیان کیا کہ میں نے اس پر بھی اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ اس کے سینے پر لگا اور شانوں کو پار کر گیا۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک صحابی انصاری جھپٹے اور تلوار سے اس کی کھوپڑی پر مارا۔ انہوں (عبدالعزیز بن عبداللہ) نے کہا، ان سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا کہ پھر مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ (مسیلمہ کے قتل کے بعد) ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر اعلان کیا کہ امیرالمؤمنین کو ایک کالے غلام (یعنی وحشی) نے قتل کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4072]
حضرت جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب ہم حمص پہنچے تو مجھے عبیداللہ بن عدی نے کہا: ”کیا تمہیں وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کی خواہش ہے، ہم ان سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں؟“ میں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ وحشی رضی اللہ عنہ نے حمص میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ ہم نے ان کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، گویا وہ پانی سے بھری ہوئی سیاہ مشک ہیں۔ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے ہاں ٹھہرے رہے۔ پھر ہم نے سلام کیا تو انہوں نے ہمارے سلام کا جواب دیا۔ عبیداللہ نے پگڑی کے ساتھ چہرہ ڈھانپا ہوا تھا، حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کو صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں نظر آ رہے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: ”اے وحشی! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟“ وحشی رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ کی طرف دیکھ کر کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا جسے ام قتال بنت ابی عیص کہا جاتا تھا۔ پھر مکہ میں اس کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اس کے لیے کوئی دودھ پلانے والی تلاش کر رہا تھا۔ میں نے اس بچے کو اٹھایا جبکہ اس کی والدہ بھی ہمراہ تھی، پھر میں نے اس بچے کو دودھ پلانے والی کے حوالے کر دیا، گویا اب میں تمہارے قدموں کو دیکھ رہا ہوں (جو اس بچے کے قدموں سے ملتے جلتے ہیں)۔“ اس کے بعد عبیداللہ نے اپنا چہرہ کھولا اور ان سے کہا: ”کیا تم ہمیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بیان کر سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے مالک جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم میرے چچا کے بدلے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ جب قریش کے لوگ عینین کی لڑائی کے سال نکلے، عینین، اُحد پہاڑ کے سامنے ایک پہاڑ کا نام ہے۔ اس وقت میں بھی لڑنے والوں کے ہمراہ نکلا۔ جب لوگوں نے لڑائی کے لیے صف بندی کی تو سباع نے صف سے نکل کر آواز دی: کوئی ہے لڑنے والا؟ یہ سنتے ہی حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لیے نکلے اور کہنے لگے: ”اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کا ختنہ کرتی تھی، کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے؟“ اس کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قصہ پارینہ بنا دیا اور اسے صفحہ ہستی سے نابود کر دیا۔ بہرحال میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے ایک پتھر کی آڑ میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے اپنے نیزے سے ان پر وار کیا اور ان کے زیر ناف ایسا نیزہ پیوست کیا کہ وہ ان کی دونوں سرینوں کے پار ہو گیا۔ یہ ان کا آخری وقت تھا۔ پھر جب قریش مکہ واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ کر مکہ میں مقیم ہو گیا، یہاں تک کہ مکہ میں بھی دین اسلام پھیل گیا۔ اس وقت میں طائف چلا گیا لیکن جب اہل طائف نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قاصد روانہ کیے تو مجھ سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاصدوں کو کچھ نہیں کہتے، اس لیے میں بھی ان کے ہمراہ ہو گیا حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مجھ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وحشی تو ہی ہے؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو نے ہی شہید کیا تھا؟“ میں نے عرض کی: ”آپ کو تو تمام رپورٹ پہنچ چکی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھ سے خود کو چھپا سکتا ہے؟“ بہرحال میں اٹھ کر باہر آ گیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور مسیلمہ کذاب کا ظہور ہوا تو میں نے خیال کیا کہ مسیلمہ کے مقابلے کے لیے جانا چاہیے، ممکن ہے کہ اسے قتل کر کے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا بدلہ اتار سکوں۔ اس کے بعد میں مسلمانوں کے ہمراہ نکلا۔ پھر وہی کچھ ہوا جو ہونا تھا۔ وہاں میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو پراگندہ بالوں کے ساتھ ایک شکستہ دیوار کی اوٹ میں کھڑا تھا گویا وہ خاکستری اونٹ کی مانند ہے۔ میں نے اسے نیزہ یوں مارا کہ اس کی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھ کر اس کے دونوں شانوں کے پار کر دیا۔ پھر ایک انصاری نے دوڑ کر اس کی کھوپڑی پر تلوار کا وار کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ایک لڑکی نے چھت پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ امیر المومنین کو ایک سیاہ غلام نے قتل کر دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4072]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4072
| ألا تخبرنا بقتل حمزة قال نعم إن حمزة قتل طعيمة بن عدي بن الخيار ببدر فقال لي مولاي جبير بن مطعم إن قتلت حمزة بعمي فأنت حر قال فلما أن خرج الناس عام عينين وعينين جبل بحيال أحد بينه وبينه واد خرجت مع الناس إلى القتال فلما أن اصطفوا للقتال خرج سباع فقال هل م |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4072 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4072
حدیث حاشیہ:
عرب میں مردوں کی طرح عورتوں کا بھی ختنہ ہوتا تھا اور جس طرح مردوں کے ختنے مرد کیا کرتے تھے عورتوں کے ختنے عورتیں کیا کرتی تھیں۔
یہ طریقہ جاہلیت میں بھی رائج تھا اور اسلام نے اسے باقی رکھا کیونکہ ابراہیم ؑ کی جو بعض سنتیں عربوں باقی رہ گئی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی۔
چونکہ سباع بن عبدالعزی کی ماں عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی اس لیے حمزہ ؓ نے اسے اس کی ماں کے پیشے کی عار دلائی۔
وحشی مسلمان ہو گیا اور اسلام لانے بعد اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے۔
لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محترم چچا حضرت حمزہ ؓ کو قتل کیا تھا اتنی بے دردی سے کہ جب وہ شہید ہو گئے تو ان کا سینہ چاک کرکے اندر سے دل نکالا اور لاش کو بگاڑدیا۔
اس لیے یہ ایک قدرتی بات تھی کہ انہیں دیکھ کر حمزہ ؓ کی غم انگیز شہادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آجاتی۔
اس لیے آپ نے اس کو اپنے سے دور رہنے کے لیے فرمایا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ ؓ کو سید الشہداء قرار دیا۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں:
قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ حَمْزَةَ فَوَجَدَهُ بِبَطْنِ الْوَادِي قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَحْزَنَ صَفِيَّةُ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَتَكُونُ سُنَّةً بَعْدِي لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وحواصل الطير زَاد بن هِشَامٍ قَالَ وَقَالَ لَنْ أُصَابَ بِمِثْلِكَ أَبَدًا وَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ حَمْزَةَ مَكْتُوبٌ فِي السَّمَاءِ أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ وَرَوَى الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى حَمْزَةَ قَدْ مُثِّلَ بِهِ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ لَقَدْ كُنْتَ وَصُولًا لِلرَّحِمِ فَعُولًا لِلْخَيْرِ وَلَوْلَا حُزْنُ مَنْ بَعْدِكَ لَسَرَّنِي أَنْ أَدَعَكَ حَتَّى تُحْشَرَ مِنْ أَجْوَافٍ شَتَّى ثُمَّ حَلَفَ وَهُوَ بِمَكَانِهِ لَأُمَثِّلَنَّ بِسَبْعِينَ مِنْهُمْ فَنَزَلَ الْقُرْآن وان عَاقَبْتُمْ الْآيَةَ الخ (فتح الباری)
یعنی احد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امیر حمزہ ؓ کی لاش تلاش کرنے نکلے تو اس کو ایک وادی میں پایا جس کا مثلہ کردیا گیا تھا۔
آپ کو اسے دیکھ کر اتنا غم ہوا کہ آپ نے فرمایا اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ بنت عبد المطلب کو اپنے بھائی کی لاش کا یہ حال دیکھ کر کس قدر صدمہ ہوگا اور یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ میرے بعد ہر شہید کی لاش کے ساتھ ایسا ہی کرنا سنت سمجھ لیں گے تو میں اس لاش کو اسی حالت میں چھوڑ دیتا۔
اسے درندے اور پرندے کھا جاتے اور یہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوتے۔
ابن ہشام نے یہ زیادہ کیا کہ آپ نے فرمایا اے حمزہ! ایسا برتاؤ جیسا تمہارے ساتھ ان کافروں نے کیا ہے کسی کے ساتھ کبھی نہ ہوا ہوگا۔
اسی اثناءمیں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور فرمایا کہ حضرت ا میر حمزہ ؓ کا آسمانوں میں یہ نام لکھ دیا گیا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں اور بزار اور طبرانی میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب امیر حمزہ ؓ کی لاش کو دیکھا تو فرمایا اے حمزہ! اللہ پاک تم پر رحم کرے۔
تم بہت ہی صلہ رحمی کرنے والے بہت ہی نیک کام کرنے والے تھے اور اگر تمہارے بعد یہ غم باقی رہنے کا ڈر نہ ہوتا تو میری خوشی تھی کہ تمہاری لاش اسی حال میں چھوڑدیتا اور تم کو مختلف جانورکھا جاتے اور تم ان کے پیٹوں سے نکل کر میدان حشر میں حاضری دیتے۔
پھر آپ نے اسی جگہ قسم کھائی کہ میں کفار کے ستر آدمیوں کے ساتھ یہی معاملہ کروں گا۔
اس موقع پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی اور اگر تم دشمنوں کو تکلیف دینا چاہو تو اسی قدر دے سکتے ہو جتنی تم کو ان کی طرف سے دی گئی ہے اور اگر صبر کرو اور کوئی بدلہ نہ لو تو صبر کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے۔
اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ! میں اب بالکل بدلہ نہ لوں گا بلکہ صبر ہی کروں گا۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
عرب میں مردوں کی طرح عورتوں کا بھی ختنہ ہوتا تھا اور جس طرح مردوں کے ختنے مرد کیا کرتے تھے عورتوں کے ختنے عورتیں کیا کرتی تھیں۔
یہ طریقہ جاہلیت میں بھی رائج تھا اور اسلام نے اسے باقی رکھا کیونکہ ابراہیم ؑ کی جو بعض سنتیں عربوں باقی رہ گئی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی۔
چونکہ سباع بن عبدالعزی کی ماں عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی اس لیے حمزہ ؓ نے اسے اس کی ماں کے پیشے کی عار دلائی۔
وحشی مسلمان ہو گیا اور اسلام لانے بعد اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے۔
لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محترم چچا حضرت حمزہ ؓ کو قتل کیا تھا اتنی بے دردی سے کہ جب وہ شہید ہو گئے تو ان کا سینہ چاک کرکے اندر سے دل نکالا اور لاش کو بگاڑدیا۔
اس لیے یہ ایک قدرتی بات تھی کہ انہیں دیکھ کر حمزہ ؓ کی غم انگیز شہادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد آجاتی۔
اس لیے آپ نے اس کو اپنے سے دور رہنے کے لیے فرمایا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ ؓ کو سید الشہداء قرار دیا۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں:
قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ حَمْزَةَ فَوَجَدَهُ بِبَطْنِ الْوَادِي قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَحْزَنَ صَفِيَّةُ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَتَكُونُ سُنَّةً بَعْدِي لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وحواصل الطير زَاد بن هِشَامٍ قَالَ وَقَالَ لَنْ أُصَابَ بِمِثْلِكَ أَبَدًا وَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ حَمْزَةَ مَكْتُوبٌ فِي السَّمَاءِ أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ وَرَوَى الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى حَمْزَةَ قَدْ مُثِّلَ بِهِ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ لَقَدْ كُنْتَ وَصُولًا لِلرَّحِمِ فَعُولًا لِلْخَيْرِ وَلَوْلَا حُزْنُ مَنْ بَعْدِكَ لَسَرَّنِي أَنْ أَدَعَكَ حَتَّى تُحْشَرَ مِنْ أَجْوَافٍ شَتَّى ثُمَّ حَلَفَ وَهُوَ بِمَكَانِهِ لَأُمَثِّلَنَّ بِسَبْعِينَ مِنْهُمْ فَنَزَلَ الْقُرْآن وان عَاقَبْتُمْ الْآيَةَ الخ (فتح الباری)
یعنی احد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امیر حمزہ ؓ کی لاش تلاش کرنے نکلے تو اس کو ایک وادی میں پایا جس کا مثلہ کردیا گیا تھا۔
آپ کو اسے دیکھ کر اتنا غم ہوا کہ آپ نے فرمایا اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ بنت عبد المطلب کو اپنے بھائی کی لاش کا یہ حال دیکھ کر کس قدر صدمہ ہوگا اور یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ میرے بعد ہر شہید کی لاش کے ساتھ ایسا ہی کرنا سنت سمجھ لیں گے تو میں اس لاش کو اسی حالت میں چھوڑ دیتا۔
اسے درندے اور پرندے کھا جاتے اور یہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوتے۔
ابن ہشام نے یہ زیادہ کیا کہ آپ نے فرمایا اے حمزہ! ایسا برتاؤ جیسا تمہارے ساتھ ان کافروں نے کیا ہے کسی کے ساتھ کبھی نہ ہوا ہوگا۔
اسی اثناءمیں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور فرمایا کہ حضرت ا میر حمزہ ؓ کا آسمانوں میں یہ نام لکھ دیا گیا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں اور بزار اور طبرانی میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب امیر حمزہ ؓ کی لاش کو دیکھا تو فرمایا اے حمزہ! اللہ پاک تم پر رحم کرے۔
تم بہت ہی صلہ رحمی کرنے والے بہت ہی نیک کام کرنے والے تھے اور اگر تمہارے بعد یہ غم باقی رہنے کا ڈر نہ ہوتا تو میری خوشی تھی کہ تمہاری لاش اسی حال میں چھوڑدیتا اور تم کو مختلف جانورکھا جاتے اور تم ان کے پیٹوں سے نکل کر میدان حشر میں حاضری دیتے۔
پھر آپ نے اسی جگہ قسم کھائی کہ میں کفار کے ستر آدمیوں کے ساتھ یہی معاملہ کروں گا۔
اس موقع پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی اور اگر تم دشمنوں کو تکلیف دینا چاہو تو اسی قدر دے سکتے ہو جتنی تم کو ان کی طرف سے دی گئی ہے اور اگر صبر کرو اور کوئی بدلہ نہ لو تو صبر کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے۔
اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ! میں اب بالکل بدلہ نہ لوں گا بلکہ صبر ہی کروں گا۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4072]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4072
حدیث حاشیہ:
1۔
وحشی نے حضرت حمزہ ؓ کو ایسی بے دردی سے قتل کیا کہ ان کا سینہ چاک کرکے اندر سے دل نکالا اور آپ کی لاش کو بگاڑدیا۔
2۔
یہ ایک قدرتی بات تھی کہ وحشی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہ ؓ کی المناک شہادت یاد آجاتی، اس لیے آپ نے اسے اپنے سے دوررہنے کی تلقین فرمائی، بلکہ آپ نے اسے فرمایا:
”اے وحشی!جاؤ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح تم پہلے اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے۔
“ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے سامنے نہیں آئے۔
3۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
اُحد کے موقع پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ ؓ کی لاش تلاش کرنے کے لیے نکلے تو انھیں ایک نشیبی علاقے میں پایا۔
ان کی شکل کو بگاڑدیا گیا تھا۔
انھیں دیکھ کر آپ کو بہت غم ہوا۔
آپ نے فرمایا:
”اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ بنت عبدالمطلب اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر کس قدر صدمے سے نڈھال ہوگی، نیز میرے بعد لوگ شہید کی لاش کے ساتھ ایسا ہی کرنا سنت سمجھ لیں گے تو میں انھیں اس حالت میں چھوردیتا، اسے درندے اور پرندے کھاجاتے پھر قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے برآمد ہوکر میدان حشر میں حاضر ہوتے۔
“ (مسند أبي یعلیٰ (حسین سلیم)
حدیث 3568 و فتح الباري: 464/7)
4۔
اگرچہ اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، تاہم وحشی کے دل میں اللہ کا ڈر تھا انھوں نے سوچا کہ جس طرح میں نے زمانہ کفر میں ایک بڑے جلیل القدر آدمی کو شہید کیا، اسی طرح زمانہ اسلام میں کسی خبیث اور بدترین انسان کو مار کر اس کا بدلہ چکاؤں، چنانچہ انھوں نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے دورخلافت میں مسیلمہ کذاب کو قتل کیا جس کی تفصیل کتاب الفتن میں آئے گی۔
5۔
اس حدیث سے حضرت وحشی ؓ کی ذکاوت اور قیافہ شناسی کا بھی پتہ چلتا ہے۔
ایک روایت میں تفصیل ہے کہ وحشی نے عبیداللہ سے کہا:
جب سے میں نے تجھے تیری رضاعی والدہ کے حوالے کیا، جس نے تجھے دودھ پلایا تھا، اس وقت سے آج تک نہیں دیکھا اور وہ بھی میں نے اس حالت میں اسے دیا تھا کہ وہ ذی طویٰ مقام میں اپنے اونٹ پر سوارتھی تو میں نے تجھے اٹھا کر اس کے حوالے کردیا تھا۔
اٹھاتے وقت مجھے تیراپاؤں نظر آیا تھا۔
اب تو میرے پاس آکر کھڑا ہوا ہے تو میں نے اس پاؤں کو پہچان لیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت وحشی ؓ نے عبیداللہ کے قدموں کو اس بچے کے قدموں سے تشبیہ دی جسے پچاس سال پہلے اٹھایا تھا۔
(فتح الباري: 461/7)
1۔
وحشی نے حضرت حمزہ ؓ کو ایسی بے دردی سے قتل کیا کہ ان کا سینہ چاک کرکے اندر سے دل نکالا اور آپ کی لاش کو بگاڑدیا۔
2۔
یہ ایک قدرتی بات تھی کہ وحشی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہ ؓ کی المناک شہادت یاد آجاتی، اس لیے آپ نے اسے اپنے سے دوررہنے کی تلقین فرمائی، بلکہ آپ نے اسے فرمایا:
”اے وحشی!جاؤ اللہ کے راستے میں جہاد کرو جس طرح تم پہلے اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے تھے۔
“ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے سامنے نہیں آئے۔
3۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
اُحد کے موقع پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ ؓ کی لاش تلاش کرنے کے لیے نکلے تو انھیں ایک نشیبی علاقے میں پایا۔
ان کی شکل کو بگاڑدیا گیا تھا۔
انھیں دیکھ کر آپ کو بہت غم ہوا۔
آپ نے فرمایا:
”اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ بنت عبدالمطلب اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر کس قدر صدمے سے نڈھال ہوگی، نیز میرے بعد لوگ شہید کی لاش کے ساتھ ایسا ہی کرنا سنت سمجھ لیں گے تو میں انھیں اس حالت میں چھوردیتا، اسے درندے اور پرندے کھاجاتے پھر قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے برآمد ہوکر میدان حشر میں حاضر ہوتے۔
“ (مسند أبي یعلیٰ (حسین سلیم)
حدیث 3568 و فتح الباري: 464/7)
4۔
اگرچہ اسلام لانے سے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، تاہم وحشی کے دل میں اللہ کا ڈر تھا انھوں نے سوچا کہ جس طرح میں نے زمانہ کفر میں ایک بڑے جلیل القدر آدمی کو شہید کیا، اسی طرح زمانہ اسلام میں کسی خبیث اور بدترین انسان کو مار کر اس کا بدلہ چکاؤں، چنانچہ انھوں نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے دورخلافت میں مسیلمہ کذاب کو قتل کیا جس کی تفصیل کتاب الفتن میں آئے گی۔
5۔
اس حدیث سے حضرت وحشی ؓ کی ذکاوت اور قیافہ شناسی کا بھی پتہ چلتا ہے۔
ایک روایت میں تفصیل ہے کہ وحشی نے عبیداللہ سے کہا:
جب سے میں نے تجھے تیری رضاعی والدہ کے حوالے کیا، جس نے تجھے دودھ پلایا تھا، اس وقت سے آج تک نہیں دیکھا اور وہ بھی میں نے اس حالت میں اسے دیا تھا کہ وہ ذی طویٰ مقام میں اپنے اونٹ پر سوارتھی تو میں نے تجھے اٹھا کر اس کے حوالے کردیا تھا۔
اٹھاتے وقت مجھے تیراپاؤں نظر آیا تھا۔
اب تو میرے پاس آکر کھڑا ہوا ہے تو میں نے اس پاؤں کو پہچان لیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت وحشی ؓ نے عبیداللہ کے قدموں کو اس بچے کے قدموں سے تشبیہ دی جسے پچاس سال پہلے اٹھایا تھا۔
(فتح الباري: 461/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4072]
Sahih Bukhari Hadith 4072 in Urdu