🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب مرجع النبى صلى الله عليه وسلم من الأحزاب ومخرجه إلى بني قريظة ومحاصرته إياهم:
باب: غزوہ احزاب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واپس لوٹنا اور بنو قریظہ پر چڑھائی کرنا اور ان کا محاصرہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4124
وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ.
اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4124]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري
Newعدي بن ثابت الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← عدي بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4124 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4124
حدیث حاشیہ:
جملہ احادیث مذکورہ بالا میں کسی نہ کسی طرح سے یہودیان بنو قریظہ سے لڑائی کا ذکر ہے۔
اسی لیے ان کو اس باب کے ذیل لایا گیا۔
یہود اپنی فطرت کے مطابق ہر وقت مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے سوچتے رہتے تھے۔
اسی لیے مدینہ کو ان سے صاف کرنا ضروری ہوا اور یہ جنگ لڑی گئی جس میں اللہ نے مدینہ کو ان شریر الفطرت یہودیوں سے پاک کردیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4124]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4124
حدیث حاشیہ:

جب غزوہ احزاب کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور کفار کوحسرت وناکامی کے ساتھ واپس کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مسلمانوں کی عزت وناموس کی حفاظت کون کرے گا؟حضرت کعب بن مالک ؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ، اور حضرت حسان بن ثابت ؓ کھڑے ہوئے تو آپ نے حضرت حسان ؓ کا انتخاب کرکے فرمایا:
ان کی مذمت کرو، روح القدس، یعنی حضرت جبرئیل ؑ آپ کی مدد کریں گے۔
اس روایت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ قریظہ کے موقع پر حضرت حسسان ؓ سے یہ خدمت لی تھی۔
(فتح الباري: 520/7)

حضرت حسان ؓ کا انتخاب اس لیے ہوا کہ انھیں میدان کارزار میں کودنے سے گھبراہٹ ہوتی تھی، اس لیے تیر وسنان سے دفاع کے بجائے زبان وبیان سے دفاع کا کام ان سے لیا جبکہ حضرت کعب بن مالک ؓ، اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ میدان جنگ میں تجربہ کار تھے۔
اس کی تائید درج ذیل واقعہ سے ہوتی ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر عورتوں اوربچوں کو حضرت حسان ؓ کے ساتھ دفاع نامی قلعے میں رکھا گیا تھا۔
اتفاق سے ایک یہودی قلعے کے اندر آگیا توحضرت صفیہ بنت عبدالمطلب ؓ نے حضرت حسان ؓ سے کہا کہ یہ یہودی قلعے کا چکرلگا رہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ؓ تو مصروف ہیں، آپ جائیں اور اسے قتل کریں، حضرت حسان ؓ فرمایا:
آپ جانتی ہیں کہ میں اس کام کا آدمی نہیں ہوں۔
اس کے بعد حضرت صفیہ ؓ نے خود اپنا کمر بند باندھا اور خیمے سے ایک لکڑی اٹھائی، پھر لکڑی سے اس یہودی کو مار مار کر اس کا خاتمہ کردیا۔
اس کے بعد حضرت حسان ؓ سے کہا کہ وہ مرا پڑا ہے، آپ جائیں اور اس کے کپڑے اور مال واسباب لے آئیں۔
چونکہ وہ مرد ہے، اس لیے میں نے اس کے ہتھیار نہیں اُتارے۔
حضرت حسان ؓ گویا ہوئے:
مجھے اس کے ہتھیار اور سامان کی کوئی ضرورت نہیں۔
(السیرةالنبویة لابن ھشام: 239/2)

بہرحال مذکورہ احادیث میں کسی نہ کسی طرح سے بنوقریظہ کے یہودیوں کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے غزوہ بنوقریظہ کے ذیل میں انھیں بیان فرمایا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہود مدینہ اپنی فطرت کے مطابق مسلمانوں کی بیخ کنی کے منصوبے بناتے رہتے تھے، اس لیے مدینہ طیبہ کو ان سانپوں سے پاک کرنا ضروری ہوگیا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں قبائل سے مدینے کو پاک کردیا تاکہ مسلمان بلاخوف وخطر اسلام کی آبیاری کریں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4124]