🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4171
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ هُوَ ابْنُ سَلَّامٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ:" بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ".
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثابت بن الضحاك الأنصاري، أبو زيدصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← ثابت بن الضحاك الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥معاوية بن سلام الحبشي، أبو سلام
Newمعاوية بن سلام الحبشي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥يحيى بن صالح الوحاظي، أبو زكريا، أبو صالح
Newيحيى بن صالح الوحاظي ← معاوية بن سلام الحبشي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← يحيى بن صالح الوحاظي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4171
بايع النبي تحت الشجرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4171 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4171
حدیث حاشیہ:

حضرت ثابت بن ضحاک ؓ تین ہجری میں پیدا ہوئے، شام کے علاقے میں سکونت اختیار کی، پھر بصرہ منتقل ہوگئے اور پنتالیس سال کی عمر میں وہیں وفات پائی۔
(عمدة القاري: 194/12)

امام بخاری ؒ نے بقدر ضرورت اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
امام مسلم ؒ نے پوری حدیث بیان کی جس کے الفاظ یہ ہیں:
جو مذہب اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے و ہ اپنے کہنے کے مطابق ہے۔
جس نے خود کو قتل کیا اسے قیامت تک اسی طرح سزا دی جائے گی اور انسان جس چیز کا مالک نہیں،اس کی نذرماننا درست نہیں۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 302(110)
اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے بھی بیان کیا ہے لیکن اس درخت کےنیچے بیعت کرنے کے الفاظ نہیں ہیں، نیز اس میں کسی مومن پرناجائزتہمت لگانے کی وعید ہے۔
(صحیح البخاري، الإیمان والنذور، حدیث: 6652)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4171]