صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4171
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ هُوَ ابْنُ سَلَّامٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ:" بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ".
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4171
| بايع النبي تحت الشجرة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4171 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4171
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت ثابت بن ضحاک ؓ تین ہجری میں پیدا ہوئے، شام کے علاقے میں سکونت اختیار کی، پھر بصرہ منتقل ہوگئے اور پنتالیس سال کی عمر میں وہیں وفات پائی۔
(عمدة القاري: 194/12)
2۔
امام بخاری ؒ نے بقدر ضرورت اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
امام مسلم ؒ نے پوری حدیث بیان کی جس کے الفاظ یہ ہیں:
”جو مذہب اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے و ہ اپنے کہنے کے مطابق ہے۔
جس نے خود کو قتل کیا اسے قیامت تک اسی طرح سزا دی جائے گی اور انسان جس چیز کا مالک نہیں،اس کی نذرماننا درست نہیں۔
“ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 302(110)
اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے بھی بیان کیا ہے لیکن اس درخت کےنیچے بیعت کرنے کے الفاظ نہیں ہیں، نیز اس میں کسی مومن پرناجائزتہمت لگانے کی وعید ہے۔
(صحیح البخاري، الإیمان والنذور، حدیث: 6652)
1۔
حضرت ثابت بن ضحاک ؓ تین ہجری میں پیدا ہوئے، شام کے علاقے میں سکونت اختیار کی، پھر بصرہ منتقل ہوگئے اور پنتالیس سال کی عمر میں وہیں وفات پائی۔
(عمدة القاري: 194/12)
2۔
امام بخاری ؒ نے بقدر ضرورت اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
امام مسلم ؒ نے پوری حدیث بیان کی جس کے الفاظ یہ ہیں:
”جو مذہب اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے و ہ اپنے کہنے کے مطابق ہے۔
جس نے خود کو قتل کیا اسے قیامت تک اسی طرح سزا دی جائے گی اور انسان جس چیز کا مالک نہیں،اس کی نذرماننا درست نہیں۔
“ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 302(110)
اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے بھی بیان کیا ہے لیکن اس درخت کےنیچے بیعت کرنے کے الفاظ نہیں ہیں، نیز اس میں کسی مومن پرناجائزتہمت لگانے کی وعید ہے۔
(صحیح البخاري، الإیمان والنذور، حدیث: 6652)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4171]
عبد الله بن زيد الجرمي ← ثابت بن الضحاك الأنصاري