🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب الاستعانة بالنجار والصناع فى أعواد المنبر والمسجد:
باب: بڑھئی اور کاریگر سے مسجد کی تعمیر میں اور منبر کے تختوں کو بنوانے میں مدد حاصل کرنا (جائز ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا خَلَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ فَإِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا، قَالَ:" إِنْ شِئْتِ فَعَمِلَتِ الْمِنْبَرَ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کریں۔ میرا ایک بڑھئی غلام بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو منبر بنوا دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أيمن ابن أم أيمن الحبشي
Newأيمن ابن أم أيمن الحبشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن أيمن المخزومي، أبو القاسم
Newعبد الواحد بن أيمن المخزومي ← أيمن ابن أم أيمن الحبشي
ثقة
👤←👥خلاد بن يحيى السلمي، أبو محمد
Newخلاد بن يحيى السلمي ← عبد الواحد بن أيمن المخزومي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
449
ألا أجعل لك شيئا تقعد عليه فإن لي غلاما نجارا قال إن شئت فعملت المنبر
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 449 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:449
حدیث حاشیہ:

پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود منبر بنوانے کی فرمائش کی جبکہ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت نے خود پیش کش کی تھی۔
کہ جب عورت نے پیش کش کی تھی اور وقت منبر کی ضرورت نہ ہوپھرآپ نے منبر کی تیاری کو عورت کی صوابدید پر چھوڑدیا۔
ابھی تیار نہیں ہوا تھا کہ اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کی تیاری کے لیے پیغام بھیج دیا۔
یہ توجیہ اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ پہلے عورت نے خود درخواست کی توآپ نے فرمایا کہ اگر تمہاری رائے ہوتو ٹھیک ہے، چنانچہ جب تیاری میں تاخیر ہوئی تو یاد دہانی کے طور پر آپ نے کہلا بھیجا۔
(فتح الباري: 703/1)

روایت میں صرف بڑھئی اور منبر کی تیاری کا ذکر ہے، مسجد کی تیاری میں کاری گروں سے مدد لینے کو اس پر قیاس کیا گیا ہے، کیونکہ بڑھئی اور دوسرے کاریگروں سے کام لینے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں، اس لیے ہرطرح کے کاریگروں سے کام لینے کا جواز معلوم ہوگیا۔
شاید امام بخاریؒ نے عنوان میں ان روایات کی طرف اشارہ فرمایا ہوجن میں مسجد کی تیاری کے سلسلے میں دوسرے سے تعاون لینے کی صراحت ہے۔
چنانچہ حضرت طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد تعمیر کررہاتھا تو آپ نے دیگر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فرمایا کہ یمامی ؓ کے نزدیک مٹی کا ڈھیر لگا دو کیونکہ یہ مٹی بنانے اوراینٹیں تیار کرنے میں ماہر ہے۔
(الموسوعة الحدیثیة، مسند الإمام أحمد: 463/39)
ایک روایت میں ہے کہ تعمیر مسجد کے وقت یہ مٹی کاگارابنارہاتھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کام بہت پسند آیا۔
آپ نے فرمایا کہ مٹی کا کام اس کے حوالے کردو، کیونکہ یہ اس کا ماہر معلوم ہوتا ہے۔
(الموسوعة الحدیثیة، مسند الإمام أحمد: 465۔
466/39)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 449]

Sahih Bukhari Hadith 449 in Urdu