🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ: {إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ} يَعْنِي زِنَةَ ذَرَّةٍ:
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ ایک ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا، «مثقال ذرة» سے ذرہ برابر مراد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4581
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ، ضَوْءٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ:" وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ضَوْءٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ؟" قَالُوا: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا كَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا، إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ، تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، فَلَا يَبْقَى مَنْ كَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مِنَ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بَرٌّ أَوْ فَاجِرٌ، وَغُبَّرَاتُ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَيُدْعَى الْيَهُودُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَنْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَمَاذَا تَبْغُونَ؟ فَقَالُوا: عَطِشْنَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا، فَيُشَارُ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَى النَّارِ كَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ، ثُمَّ يُدْعَى النَّصَارَى، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَنْ كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ، مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا تَبْغُونَ؟ فَكَذَلِكَ مِثْلَ الْأَوَّلِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فِي أَدْنَى صُورَةٍ مِنَ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا، فَيُقَالُ: مَاذَا تَنْتَظِرُونَ؟ تَتْبَعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، قَالُوا: فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا عَلَى أَفْقَرِ مَا كُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
مجھ سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، کیا سورج کو دوپہر کے وقت دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے، جبکہ اس پر بادل بھی نہ ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کچھ دشواری پیش آتی ہے، جبکہ اس پر بادل نہ ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس اسی طرح تم بلا کسی دقت اور رکاوٹ کے اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ ہر امت اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ حاضر ہو جائے۔ اس وقت اللہ کے سوا جتنے بھی بتوں اور پتھروں کی پوجا ہوتی تھی، سب کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر جب وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے، خواہ نیک ہوں یا گنہگار اور اہل کتاب کے کچھ لوگ، تو پہلے یہود کو بلایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ تم (اللہ کے سوا) کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے کہ عزیر ابن اللہ کی، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا لیکن تم جھوٹے تھے، اللہ نے نہ کسی کو اپنی بیوی بنایا اور نہ بیٹا، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے، ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا دے۔ انہیں اشارہ کیا جائے گا کہ کیا ادھر نہیں چلتے۔ چنانچہ سب کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ وہاں چمکتی ریت پانی کی طرح نظر آئے گی، بعض بعض کے ٹکڑے کئے دے رہی ہو گی۔ پھر سب کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان سے بھی کہا جائے گا کہ تم جھوٹے تھے۔ اللہ نے کسی کو بیوی اور بیٹا نہیں بنایا، پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا چاہتے ہو؟ اور ان کے ساتھ یہودیوں کی طرح برتاؤ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب ان لوگوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا جو صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ وہ نیک ہوں یا گنہگار، تو ان کے پاس ان کا رب ایک صورت میں جلوہ گر ہو گا، جو پہلی صورت سے جس کو وہ دیکھ چکے ہوں گے، ملتی جلتی ہو گی (یہ وہ صورت نہ ہو گی) اب ان سے کہا جائے گا۔ اب تمہیں کس کا انتظار ہے؟ ہر امت اپنے معبودوں کو ساتھ لے کر جا چکی، وہ جواب دیں گے کہ ہم دنیا میں جب لوگوں سے (جنہوں نے کفر کیا تھا) جدا ہوئے تو ہم ان میں سب سے زیادہ محتاج تھے، پھر بھی ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اب ہمیں اپنے سچے رب کا انتظار ہے جس کی ہم دنیا میں عبادت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہارا رب میں ہی ہوں۔ اس پر تمام مسلمان بول اٹھیں گے کہ ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، دو یا تین مرتبہ یوں کہیں گے ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4581]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔ کیا تمہیں دوپہر کے وقت آفتاب دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جبکہ وہ خوب روشن ہو اور درمیان میں کوئی بادل بھی حائل نہ ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری آتی ہے جبکہ وہ چاندنی بکھیر رہا ہو اور اس میں کوئی بادل بھی رکاوٹ نہ ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”نہیں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ رب العزت کو دیکھنے میں اتنی ہی دقت ہو سکتی ہے جتنی سورج یا چاند کو دیکھنے میں ہو سکتی ہے۔“ (یعنی بالکل دشواری نہیں ہوگی۔) جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ”ہر گروہ اس کے پیچھے ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتا تھا“، چنانچہ اللہ کے سوا بتوں اور پتھروں کی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔ سب دوزخ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور ان میں اچھے برے سب طرح کے مسلمان اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ ہوں گے۔ (سب سے پہلے) یہودیوں کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ”وہ کون ہے جس کی تم عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے جو اللہ کا بیٹا ہے۔“ تب ان سے کہا جائے گا کہ ”تم جھوٹے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی بیوی اور بیٹا نہیں بنایا۔ اچھا اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا۔“ چنانچہ انہیں ایک سراب کی طرف اشارہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا: ”وہاں جاؤ۔“ درحقیقت وہ پانی نہیں بلکہ جہنم ہوگا جس کا ایک حصہ دوسرے کو چکنا چور کر رہا ہوگا۔ وہ بے تاب ہو کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور آگ میں کود جائیں گے۔ ان کے بعد عیسائیوں کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے۔“ ان سے کہا جائے گا: ”تم جھوٹے ہو، بھلا اللہ کے لیے بیوی اور اولاد کہاں سے آئی؟“ پھر ان سے کہا جائے گا: ”اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ بھی ایسا ہی کہیں گے جیسا یہودیوں نے کہا تھا۔ (اور وہ بھی دوزخ میں جا گریں گے۔) اب وہی لوگ رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ ہوں گے۔ (اس وقت) ان کے پاس اللہ تعالیٰ ایک صورت میں جلوہ گر ہوگا جو اس پہلی صورت سے ملتی جلتی ہوگی جسے وہ دیکھ چکے ہوں گے۔ ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ ”تم کس کے انتظار میں کھڑے ہو؟ ہر امت تو اپنے معبود کے پاس چلی گئی ہے۔“ وہ عرض کریں گے: ”ہمیں دنیا میں جہاں لوگوں کی زیادہ ضرورت تھی، اس وقت تو ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا تو اس وقت کیوں دیں؟ بلکہ ہم تو اپنے سچے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں جس کی ہم دنیا میں عبادت کرتے تھے۔“ اس وقت پروردگار فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ پھر سب دو یا تین بار یوں کہیں گے: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے نہیں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
450 965 16245

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥حفص بن ميسرة العقيلي، أبو عمرو، أبو عمر
Newحفص بن ميسرة العقيلي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد العزيز الرملي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد العزيز الرملي ← حفص بن ميسرة العقيلي
صدوق يهم
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4581
نعم هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة ضوء ليس فيها سحاب قالوا لا قال وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر ضوء ليس فيها سحاب قالوا لا قال النبي ما تضارون في رؤية الله يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم الق
صحيح مسلم
454
هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة صحوا ليس معها سحاب وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب قالوا لا يا رسول الله قال ما تضارون في رؤية الله تبارك و يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما إذا كان يوم القيامة أذن مؤذن ليتبع كل
سنن ابن ماجه
179
تضامون في رؤية الشمس في الظهيرة في غير سحاب قلنا لا قال فتضارون في رؤية القمر ليلة البدر في غير سحاب قالوا لا قال إنكم لا تضارون في رؤيته إلا كما تضارون في رؤيتهما
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4581 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4581
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے پرورد گار کے لیے صورت ثابت ہوئی۔
اگر صورت نہ ہوپھر اس کا دیدار کیوں کر ہوگا۔
صورت کی حقیقت خود اللہ ہی کو معلوم ہے۔
اہلحدیث صفات باری کی تاویل نہیں کرتے۔
سلف صالح کا یہی طریقہ رہا ہے۔
مسلم کی روایت میں یوںہے۔
مسلمان پہلے اپنے پرورد گار کو نہ پہچان سکیں گے، کیونکہ وہ دوسری صورت میں جلوہ گر ہوگا اور جب وہ فرمائے گا کہ میں تمہارا پرورد گار ہوں تو مسلمان کہیں گے ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پھر پرورد گار اپنی پہلی صورت میں ظاہر ہوگا جس صورت میں مسلمان اس کو دیکھ چکے ہوں گے۔
اس وقت سب مسلمان سجدے میں گر پڑیں گے اور کہیں گے تو بیشک ہمارا پرورد گار ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4581]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4581
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمھارے پاس کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے سے تم اپنے پروردگار کو پہچان لو؟ وہ عرض کریں گے۔
پنڈلی بطور نشانی ہے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن سجدہ ریز ہو جائے گا اور جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے۔
وہ سجدے کے لیے جھکیں گے تو ان کی کمر ایک تختے کی طرح بن جائے گی پھر جہنم پر پل رکھ دیا جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ نجات یافتہ لوگوں سے فرمائے گا جاؤ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چنانچہ وہ جسے پہچانیں گے نکال لائیں گےراوی حدیث حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ اگر تمیں میری بات پر یقین نہیں تو اللہ تعالیٰ كافرمان پڑھ لو:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ (النساء: 40/4۔
وصحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7439)
امام بخاری ؒ نے اس روایت سے عنوان ثابت کیا ہے اور پیش کردہ روایت سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4581]

Sahih Bukhari Hadith 4581 in Urdu