🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1M 1. باب قوله: {فأوحى إلى عبده ما أوحى} :
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو بھی وحی کی“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4857
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرًّا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى {9} فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى {10} سورة النجم آية 9-10، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ: أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ".
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، ان سے زائدہ بن قدامہ کوفی نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا کہ میں نے زر بن حبیش سے اس آیت کے بارے میں پوچھا «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى‏» الخ یعنی سو دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندے پر وحی کی جو کچھ بھی نازل کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4857]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم
Newزر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← زر بن حبيش الأسدي
ثقة
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة ثبت
👤←👥طلق بن غنام النخعي، أبو محمد
Newطلق بن غنام النخعي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4857
محمدا رأى جبريل له ست مائة جناح
صحيح مسلم
433
رأى جبريل له ست مائة جناح
صحيح مسلم
432
رأى جبريل له ست مائة جناح
جامع الترمذي
3277
رأى جبريل وله ست مائة جناح
جامع الترمذي
3283
رأى رسول الله جبريل في حلة من رفرف قد ملأ ما بين السماء والأرض
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4857 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4857
حدیث حاشیہ:
تو فاوحٰی الی عبدہ ما اوحٰی میں عبدہ کی ضمیر اللہ کی طرف پھرے گی اور فاوحٰی کی ضمیر حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف قرینہ کلام بھی اسی کا مقتضی ہے کہ کیونکہ شدید القویٰ اور ذومرۃ یہ حضرت جبرائیل کے صفات ہیں بعضوں نے کہا خود پروردگار مراد ہے اس صورت میں اوحٰی اور عبدہ دونوں کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹے گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4857]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4857
حدیث حاشیہ:

یہ وحی غالباً وہی تھی جو سورہ مدثر کی ابتدائی آیات پر مشتمل ہے۔
یہ وحی حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کی تھی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مسلک ہے لہٰذا ان کے مذہب کے مطابق آیت کریمہ کے یہ معنی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے کی طرف وحی کی۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کے ہاں اس آیت کے یہ معنی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی۔
(فتح الباري: 777/8)
اس صورت میں (أَوْحَىٰ اور عَبْدِهِ)
دونوں کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے گی۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4857]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3277
سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر۔
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا (النجم: ۹)، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3277]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا (النجم: 9)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3277]