صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب فضل المعوذات:
باب: معوذات کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5017
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، فَقَرَأَ فِيهِمَا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» (تینوں سورتیں مکمل) پڑھ کر ان پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥المفضل بن فضالة القتباني، أبو معاوية المفضل بن فضالة القتباني ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← المفضل بن فضالة القتباني | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5748
| إذا أوى إلى فراشه نفث في كفيه ب قل هو الله أحد و بالمعوذتين جميعا ثم يمسح بهما وجهه وما بلغت يداه من جسده |
صحيح البخاري |
5017
| إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرأ فيهما قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات |
جامع الترمذي |
3402
| إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرأ فيهما قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات |
سنن أبي داود |
5056
| إذا أوى إلى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما وقرأ فيهما قل هو الله أحد و قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5017 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5017
حدیث حاشیہ:
ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت عبد اللہ بن اسلم کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہہ! وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں پھر فرمایا کہہ! تو انہوں نے ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ پڑھی۔
آپ نے فرمایا کہہ! پھر ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ پڑھی آپ نے پھر یہی فرمایا تو ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھی تو آپ نے فرمایا اسی طرح پناہ مانگا کر ان جیسی پناہ مانگنے کی اورسورتیں نہیں ہیں۔
ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت عبد اللہ بن اسلم کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہہ! وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں پھر فرمایا کہہ! تو انہوں نے ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ پڑھی۔
آپ نے فرمایا کہہ! پھر ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ پڑھی آپ نے پھر یہی فرمایا تو ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھی تو آپ نے فرمایا اسی طرح پناہ مانگا کر ان جیسی پناہ مانگنے کی اورسورتیں نہیں ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5017]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5017
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پہلے ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر معوذات پڑھتے تھے۔
حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے کیونکہ پڑھنے کے بعد پھونک مارنے سے برکت کی امید کی جا سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ اس سے مقصود جادو گروں کی مخالفت ہو کیونکہ وہ پڑھ کر پھونک مارتے ہیں اور آپ نے پڑھنے سے پہلے پھونک ماری۔
(عمدة القاري: 559/13)
ہمارے رجحان کے مطابق دم کا طریقہ یہ ہے کہ معوذات پڑھ کر پھونک ماری جائے تا کہ نفحات طیبہ سے شفا کی امید کی جا سکے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پہلے ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر معوذات پڑھتے تھے۔
حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے کیونکہ پڑھنے کے بعد پھونک مارنے سے برکت کی امید کی جا سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ اس سے مقصود جادو گروں کی مخالفت ہو کیونکہ وہ پڑھ کر پھونک مارتے ہیں اور آپ نے پڑھنے سے پہلے پھونک ماری۔
(عمدة القاري: 559/13)
ہمارے رجحان کے مطابق دم کا طریقہ یہ ہے کہ معوذات پڑھ کر پھونک ماری جائے تا کہ نفحات طیبہ سے شفا کی امید کی جا سکے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5017]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5056
سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں «قل هو الله أحد» «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5056]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں «قل هو الله أحد» «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5056]
فوائد ومسائل:
سوتے وقت آخری تین سورتوں کا دم بہت سی ظاہری اور باطنی بیماریوں بالخصوص نظر بد جادو اور شیطانی اثرات کا علاج ہے۔
بشرط یہ کہ انسان ایمان ویقین کےساتھ پابندی سے عمل کرے۔
سوتے وقت آخری تین سورتوں کا دم بہت سی ظاہری اور باطنی بیماریوں بالخصوص نظر بد جادو اور شیطانی اثرات کا علاج ہے۔
بشرط یہ کہ انسان ایمان ویقین کےساتھ پابندی سے عمل کرے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5056]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3402
سوتے وقت قرآن پڑھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد» ، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۱؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3402]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد» ، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۱؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3402]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
انہیں معوذات کہا جاتا ہے،
کیوں کہ ان کے ذریعہ سے اللہ رب العالمین کے حضور پناہ کی درخواست کی جاتی ہے،
معلوم ہوا کہ سوتے وقت ان سورتوں کو پڑھنا چاہیے تاکہ سوتے میں اللہ کی پناہ حاصل ہو جائے۔
وضاحت:
1؎:
انہیں معوذات کہا جاتا ہے،
کیوں کہ ان کے ذریعہ سے اللہ رب العالمین کے حضور پناہ کی درخواست کی جاتی ہے،
معلوم ہوا کہ سوتے وقت ان سورتوں کو پڑھنا چاہیے تاکہ سوتے میں اللہ کی پناہ حاصل ہو جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3402]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5748
5748. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر قل ھو اللہ احد اور معوذ پڑھ کر پھونکتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور جسم کے جس حصے تک ہاتھ جاتا وہاں پھیرتے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: جب آپ بیمار ہوئے تو مجھے اس طرح کرنے کا حکم دیا (راوی حدیث) یونس بیان کرتے ہیں: میں نے ابن شہاب کو دیکھا کہ وہ بھی جب بستر پر لیٹتے تو اس طرح کرتے تھے [صحيح بخاري، حديث نمبر:5748]
حدیث حاشیہ:
ان سورتوں کا پڑھ کر دم کرنا مسنون ہے اللہ پاک جملہ بدعات مروجہ وشرکیہ دم جھاڑ وں سے بچا کر سنت ماثور ہ دعاؤں کو وظیفہ بنانے کی ہر مسلمان کو سعادت بخشے آمین۔
ان سورتوں کا پڑھ کر دم کرنا مسنون ہے اللہ پاک جملہ بدعات مروجہ وشرکیہ دم جھاڑ وں سے بچا کر سنت ماثور ہ دعاؤں کو وظیفہ بنانے کی ہر مسلمان کو سعادت بخشے آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5748]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5748
5748. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر قل ھو اللہ احد اور معوذ پڑھ کر پھونکتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور جسم کے جس حصے تک ہاتھ جاتا وہاں پھیرتے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: جب آپ بیمار ہوئے تو مجھے اس طرح کرنے کا حکم دیا (راوی حدیث) یونس بیان کرتے ہیں: میں نے ابن شہاب کو دیکھا کہ وہ بھی جب بستر پر لیٹتے تو اس طرح کرتے تھے [صحيح بخاري، حديث نمبر:5748]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ اس بیماری کا واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔
شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی دم کرتے تھے، جب بیماری نے شدت اختیار کر لی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، وہ آپ کو دم کرتی تھیں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے لفظ "نفث" سے عنوان ثابت کیا ہے کہ معوذات پڑھ کر اس طرح اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے کہ اس میں تھوڑا سا لعاب دہن بھی شامل ہو جاتا۔
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ دم کرتے وقت نفث نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ موقف درست نہیں جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ خیبر کے دن حضرت سلمہ بن اکوع کو چوٹ لگی تو لوگ کہنے لگے "سلمہ تو گیا" مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجھ پر تین بار پھونک ماری جس میں ہلکا لعاب دہن بھی تھا، اس کے بعد اب تک مجھے اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
(صحیح البخاری، المغازی، حدیث: 4206)
(1)
یہ اس بیماری کا واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔
شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی دم کرتے تھے، جب بیماری نے شدت اختیار کر لی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، وہ آپ کو دم کرتی تھیں۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے لفظ "نفث" سے عنوان ثابت کیا ہے کہ معوذات پڑھ کر اس طرح اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے کہ اس میں تھوڑا سا لعاب دہن بھی شامل ہو جاتا۔
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ دم کرتے وقت نفث نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ موقف درست نہیں جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ خیبر کے دن حضرت سلمہ بن اکوع کو چوٹ لگی تو لوگ کہنے لگے "سلمہ تو گیا" مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے مجھ پر تین بار پھونک ماری جس میں ہلکا لعاب دہن بھی تھا، اس کے بعد اب تک مجھے اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
(صحیح البخاری، المغازی، حدیث: 4206)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5748]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق