🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب الأكفاء فى الدين:
باب: کفائت میں دینداری کا لحاظ ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5088
وَقَوْلُهُ: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا سورة الفرقان آية 54.
1 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «وهو الذي خلق من الماء بشرا فجعله نسبا وصهرا وكان ربك قديرا‏» کہ اللہ وہی ہے جس نے انسان کو پانی (نطفے) سے پیدا کیا، پھر اسے ددھیال اور سسرال کے رشتوں میں بانٹ دیا (اس کو کسی کا بیٹا، بیٹی کسی کا داماد، بہو بنا دیا (یعنی خاندانی اور سسرال دونوں رشتے رکھے) اور اے پیغمبر! تیرا مالک بڑی قدرت والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: Q5088]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5088
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا"، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ: وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5، فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ثُمَّ العَامِرِيِّ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس (مہشم) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ سالم بن معقل رضی اللہ عنہ کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کر دیا۔ پہلے سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون (شبیعہ بنت یعار) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو (جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری «ادعوهم لآبائهم‏» کہ انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو اللہ تعالیٰ کے فرمان «ومواليكم‏» تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے «مولى» اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی رضی اللہ عنہا جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5088
تبنى النبي زيدا وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس إليه وورث من ميراثه حتى أنزل الله ادعوهم لآبائهم إلى قوله ومواليكم
صحيح البخاري
4000
تبنى رسول الله زيدا وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس إليه وورث من ميراثه حتى أنزل الله ادعوهم لآبائهم
سنن النسائى الصغرى
3225
تبنى رسول الله زيدا وكان من تبنى رجلا في الجاهلية دعاه الناس ابنه فورث من ميراثه حتى أنزل الله في ذلك ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5088 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5088
حدیث حاشیہ:
ابوداؤد نے پوری حدیث نقل کی ہے اس میں یوں ہے سہلہ نے کہا آپ کیا حکم دیتے ہیں (کیا ہم سالم سے پردہ کریں)
آپ نے فرمایا تو ایسا کر سالم کو دودھ پلا دے۔
اس نے پانچ بار اس کو دودھ پلایا، اب وہ اس کے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس حدیث کے موافق جس سے پردہ نہ کرنا چاہتیں تو اپنی بھتیجیوں اور بھانجیوں سے کہتیں وہ اس کو دودھ پلا دیتیں گو وہ عمر میں بڑا جوان ہوتا لیکن بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے ایسی رضاعت کی وجہ سے بے پردہ ہونا نہ مانا جب تک بچپنے میں رضاعت نہ ہو۔
وہ کہتی تھیں شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اجازت خاص سالم کے لئے ہی دی ہوگی اوروں کے لئے ایسا حکم نہیں ہے قسطلانی نے کہا یہ حکم سہلہ اور سالم کے لئے خاص تھا یا منسوخ ہے اس کی بحث إن شاءاللہ آگے آئے گی باب کی مطابقت اس طرح ہے کہ سالم غلام تھے مگر ابوحذیفہ نے اپنی بھتیجی کا جو شرفائے قریش میں سے تھیں۔
ان سے نکاح کر دیا تو معلوم ہوا کہ کفاءت میں صرف دین کا لحاظ کافی ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5088]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5088
حدیث حاشیہ:
(1)
پوری حدیث اس طرح ہے کہ حضرت سہلہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
اللہ کے رسول! اب سالم بالغ ہو چکا ہے اور حضرت ابو حذیفہ کو اس کا گھر میں آنا جانا بہت گراں گزرتا ہے، اب آپ اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:
تم اسے دودھ پلادو۔
چنانچہ اس نے پانچ مرتبہ دودھ پلا دیا تو وہ اس کے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا۔
(2)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ حضرت سالم رضی اللہ عنہ ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے مگر حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بھتیجی سے ان کا نکاح کر دیا جو شرفائے قریش میں سے تھیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہم پلہ ہونے میں صرف دین کا لحاظ ہی کافی ہے، اگر اس کے ساتھ ساتھ خاندان اور نسب میں یکسانیت ہو تو بہتر لیکن خاندان اور برادری کو اولین حیثیت نہیں دینی چاہیے۔
جو لوگ دین کو چھوڑ کر صرف برادری ازم کا خیال رکھتے ہیں انھیں آئندہ بہت مشکلات، آزمائشوں اور تکلیفوں سے گزرنا پڑتا ہے اور اگرصرف دینداری کو پیش نظر رکھا اور خاندان کو ثانوی حیثیت دی تو إن شاء اللہ دین کی برکت سے یہ رشتہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
والله اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5088]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3225
غلام کی آزاد عورت سے شادی کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3225]
اردو حاشہ:
شریعت اسلامیہ میں متبنیٰ (گودلیا ہوا، منہ بولا بیٹا یا لے پالک) نہ تو بیٹا ہوتا ہے نہ وارث۔ وہ اپنے اصلی باپ ہی کا بیٹا ہے اور اسی کا وارث۔ اسی طرح کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرنا بھی منع اور حرام ہے۔ الا یہ کہ نسبت اجداد کی طرف ہو جس طرح غزوۂ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو ابن عبدالمطلب فرمایا۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2862، وصحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 1776) کیونکہ وہ زیادہ مشہور تھے اور آپ کے والد جوانی ہی میں فوت ہوگئے تھے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3225]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4000
4000. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوحذیفہ ؓ ان صحابہ كرام ؓ میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ انہوں نے حضرت سالم ؓ کو اپنا لے پالک بنایا اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید سے اس کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جسے لے پالک قرار دیا جاتا لوگ اسے اس (نقلی باپ) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وہ اس (نقلی باپ) کا وارث بھی ہوتا تھا حتی کہ اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری: منہ بولے بیٹوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی نسبت سے پکارو۔۔ حضرت سہلہ‬ ؓ ن‬بی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔۔ اس کے بعد ایک طویل حدیث کا ذکر ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4000]
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒ نے پوری حدیث نقل نہیں کی۔
ابوداود میں مزید ہے کہ سہلہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو سالم ؓ کو بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔
اس سے پردہ نہ تھا۔
اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا، ایسا کرتو سالم ؓ کو دودھ پلادے۔
اس نے پانچ بار دودھ پلایا، پھر سالم ؓ ان کا رضاعی بیٹا سمجھا گیا۔
حضرت عائشہ ؓ کا عمل اس حدیث پر تھا۔
مذکور ولید بن عتبہ جنگ بدر میں حضرت علیؓ کے ہاتھوں سے مارا گیا تھا۔
ابو حذیفہ ؓ اسی کے بھائی تھے۔
جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4000]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4000
4000. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوحذیفہ ؓ ان صحابہ كرام ؓ میں سے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ انہوں نے حضرت سالم ؓ کو اپنا لے پالک بنایا اور اپنی بھتیجی ہند بنت ولید سے اس کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جسے لے پالک قرار دیا جاتا لوگ اسے اس (نقلی باپ) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وہ اس (نقلی باپ) کا وارث بھی ہوتا تھا حتی کہ اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری: منہ بولے بیٹوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی نسبت سے پکارو۔۔ حضرت سہلہ‬ ؓ ن‬بی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔۔ اس کے بعد ایک طویل حدیث کا ذکر ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4000]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت ابو حذیفہ ؓ کے غزوہ بدر میں شریک ہونے کا ذکر ہے۔

ان کا بھائی ولید بن عتبہ اس جنگ میں مارا گیا تھا لیکن حضرت ابو حذیفہ ؓ نے اسلام قبول کیا اور مہاجرین اولین میں سے ہیں۔
ان کی زوجہ محترمہ سہلہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا:
سالم ؓ جوان ہو گئے ہیں اس بنا پر ان کے گھر رہنے سے حضرت ابو حذیفہ ؓ کے دل میں کچھ وسواس پیدا ہوتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دودھ پلانے کا حکم دیا تھا اس کی مکمل تفصیل کتاب النکاح حدیث 5088۔
کے تحت بیان ہوگی۔
ان کا پورا نام سہلہ ؓ بنت سہل ہے یہ وہ سہلہ نہیں جنھوں نے حضرت سالم ؓ کو آزاد کیا تھا کیونکہ وہ انصار خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ان کا تعلق قریش سے ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4000]