🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة آخرا:
باب: آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا (اس لیے اب متعہ حرام ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَا: كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری اور سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح کر سکتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5118]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
صحابي
👤←👥الحسن بن الحنفية الهاشمي، أبو محمد
Newالحسن بن الحنفية الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← الحسن بن الحنفية الهاشمي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5118
أذن لكم أن تستمتعوا فاستمتعوا
صحيح مسلم
3414
أتانا فأذن لنا في المتعة
صحيح مسلم
3413
أذن لكم أن تستمتعوا يعني متعة النساء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5118 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 5118
فوائد و مسائل:
یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
[صحیح مسلم:1405 یا 3413]
[مسند احمد:51، 47/4]
[مصنف عبدالرزاق:498/17، ح:14033]
[السنن الکبریٰ للنسائی:5539]
[شرح معانی الآثار للطحاوی:24/3] وغیرہ
متعہ کی اجازت منسوخ ہے اور اب قیامت تک متعتہ النکاح حرام ہے۔

تنبيه:
اس حدیث کو عمرو بن دینار تابعی سے امام شعبہ، روح بن القاسم اور ابن جریج نے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [المسند الجامع:101/4،ح:2511]
اس حدیث کے بہت سے شواہد [صحیح مسلم:3418] وغیرہ میں موجود ہیں۔
[توفيق الباري في تطبيق القرآن و صحيح بخاري، حدیث/صفحہ نمبر: 36]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5118
حدیث حاشیہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے نکاح متعہ کے متعلق نہی کا عنوان قائم کیا ہے جبکہ اس حدیث میں اس کی اجازت کا ذکر ہے؟ دراصل صحیح مسلم میں ہے، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا، (صحیح مسلم، النکاح، حدیث: 3418 (1405)
اگرچہ ایک روایت میں ہے:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں اس سے منع فرمایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتناعی حکم کے پیش نظر اس سے منع کیا تھا جیسا کہ حدیث میں ہے:
حضرت عمر رضي اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک نکاح متعہ کی اجازت دی تھی، پھر اس سے منع کر دیا تھا۔
(سنن ابن ماجة، النکاح، حدیث: 1963)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف تشریف فرما ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا:
لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نکاح متعہ کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیهقي: 206/7، و فتح الباري: 216/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5118]