🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب النسوة اللاتي يهدين المرأة إلى زوجها:
باب: وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5162
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا زَفَّتِ امْرَأَةً إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ".
ہم سے فضیل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ایک دلہن کو ایک انصاری مرد کے پاس لے گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! تمہارے پاس لہو (دف بجانے والا) نہیں تھا، انصار کو دف پسند ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن سابق التميمي، أبو سعيد، أبو جعفر
Newمحمد بن سابق التميمي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن يعقوب الرخامي، أبو العباس
Newالفضل بن يعقوب الرخامي ← محمد بن سابق التميمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5162
ما كان معكم لهو فإن الأنصار يعجبهم اللهو
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5162 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5162
حدیث حاشیہ:
ابو الشیخ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکالا انصار کی ایک یتیم لڑکی کی شادی میں دلہن کے ساتھ گئی جب لوٹ کر آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے دولہا والوں کے پاس جا کر کیا کہا۔
میں نے کہا کہ سلام کیا۔
مبارکباد دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دف بجانے والی لونڈی ساتھ میں ہوتی وہ دف بجاتی اور یوں گاتی أتیناکم أتیناکم فحیانا و حیاکم ہم تمہارے ہاں آئے تم کو اور ہم کو یہ شادی مبارک ہو۔
معلوم ہوا کہ اس حد تک دف کے ساتھ مبارک باد کے ایسے شعر کہنا جائز ہے مگر آج کل جو گانے بجانے لہو و لعب کے طریقے شادیوں میں اختیار کئے جاتے ہیں یہ ہرگز جائز نہیں ہیں کیونکہ اس سے سراسر فسق و فجور کو شہ ملتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5162]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5162
حدیث حاشیہ:
(1)
عربوں کے ہاں یہ قدیم عادت ہے کہ کچھ عورتیں دلھن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے دلھا کے لیے پیش کرتی ہیں اور اسے مبارک باد دیتی ہیں۔
اسلام نے بھی اس عادت کو برقرار رکھا ہے۔
(2)
اگرچہ اس حدیث میں مبارک باد کا ذکر نہیں ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان سے ان روایات کی طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زیر کفالت بچی کی شادی ایک انصاری سے کی اور میں ان عورتوں میں شامل تھی جنھوں نے اس کا بناؤ سنگھار کر کے دلھا کے پیش کیا۔
جب میں لوٹ کر واپس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
تم نے وہاں جا کر کیا کیا؟ میں نے کہا:
ہم نے سلام کیا اور اللہ تعالیٰ سے خیر و برکت کی دعا کی، اس کے بعد ہم واپس آ گئے۔
آپ نے فرمایا:
تم اپنے ساتھ دل لگی کا سامان لے کر جاتیں تو بہتر ہوتا کیونکہ انصار کو یہ بات بہت پسند ہے۔
(فتح الباري: 281/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5162]