صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. باب المتشبع بما لم ينل، وما ينهى من افتخار الضرة:
باب: جھوٹ موٹ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کرنا عورت کے واسطے منع ہے۔
حدیث نمبر: 5219
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مثنٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا اور ان سے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا یعنی (دوسروں کے کپڑے) مانگ کر پہنے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5219]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا مجھے گناہ تو نہیں ہوگا اگر میں اپنے خاوند کی دی ہوئی چیز کو خوب بڑھا چڑھا کر ظاہر کروں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نہ دیا جائے اس کا خوب بڑھا کر اظہار کرنے والا ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5219]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5219
| المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور |
صحيح مسلم |
5584
| المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور |
سنن أبي داود |
4997
| المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور |
المعجم الصغير للطبراني |
1053
| المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور |
مسندالحميدي |
321
| المتشبع بما لم ينل كلابس ثوبي زور |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5219 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5219
حدیث حاشیہ:
اور لوگوں میں یہ ظاہر کرے کہ یہ کپڑے میرے ہیں، ایسا شیخی مارنے والا آخر میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
گویا آپ نے سوکن کے سامنے بھی غلط بیانی کی اجازت نہیں دی کمال تقویٰ یہی ہے۔
اور لوگوں میں یہ ظاہر کرے کہ یہ کپڑے میرے ہیں، ایسا شیخی مارنے والا آخر میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے۔
گویا آپ نے سوکن کے سامنے بھی غلط بیانی کی اجازت نہیں دی کمال تقویٰ یہی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5219]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5219
حدیث حاشیہ:
(1)
متشبع کے معنی ہیں:
سیرابی کو ظاہر کرنا، حالانکہ وہ سیر شدہ نہیں ہے۔
اسے کپڑوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ سیرابی یا کپڑے دونوں انسان کو چھپا لیتے ہیں، ایک باطنی طور پر دوسرا ظاہری لحاظ سے۔
(2)
بعض حضرات نے دو جھوٹے کپڑوں کے یہ معنی کیے ہیں کہ ایک جھوٹا آدمی، جھوٹی گواہی دینے کے لیے شریف آدمی کی چادر اور تہبند پہن لے تا کہ جھوٹے آدمی کی شرافت ظاہر ہو۔
اس طرح بعض عورتیں اپنی قمیص کے نیچے دوسرے رنگ والا باڈر لگا لیتی ہیں تاکہ وہ دو قمیص ظاہر ہوں۔
(3)
عورت کی طرف سے یہ مذموم حرکت ہے کہ وہ اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کہے کہ خاوند نے مجھے یہ کچھ دیا ہے، حالانکہ اس نے اسے کچھ نہ دیا ہو۔
یہ عورت اس جھوٹے شخص کی طرح ہے جو ریاکاری کے طور پر زاہدوں جیسے کپڑے پہن لیتا ہے، حالانکہ وہ زاہد نہیں ہے۔
(فتح الباري: 394/9)
(1)
متشبع کے معنی ہیں:
سیرابی کو ظاہر کرنا، حالانکہ وہ سیر شدہ نہیں ہے۔
اسے کپڑوں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ سیرابی یا کپڑے دونوں انسان کو چھپا لیتے ہیں، ایک باطنی طور پر دوسرا ظاہری لحاظ سے۔
(2)
بعض حضرات نے دو جھوٹے کپڑوں کے یہ معنی کیے ہیں کہ ایک جھوٹا آدمی، جھوٹی گواہی دینے کے لیے شریف آدمی کی چادر اور تہبند پہن لے تا کہ جھوٹے آدمی کی شرافت ظاہر ہو۔
اس طرح بعض عورتیں اپنی قمیص کے نیچے دوسرے رنگ والا باڈر لگا لیتی ہیں تاکہ وہ دو قمیص ظاہر ہوں۔
(3)
عورت کی طرف سے یہ مذموم حرکت ہے کہ وہ اپنی سوکن کا دل جلانے کے لیے کہے کہ خاوند نے مجھے یہ کچھ دیا ہے، حالانکہ اس نے اسے کچھ نہ دیا ہو۔
یہ عورت اس جھوٹے شخص کی طرح ہے جو ریاکاری کے طور پر زاہدوں جیسے کپڑے پہن لیتا ہے، حالانکہ وہ زاہد نہیں ہے۔
(فتح الباري: 394/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5219]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4997
ایسی چیزوں کے پاس میں ہونے کا بیان جو آدمی کے پاس نہ ہو جھوٹ کا لبادہ اوڑھنا ہے۔
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: ”جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4997]
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: ”جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4997]
فوائد ومسائل:
کسی مسلمان کو دھوکا دینا یا مانگے تانگے کی چیز پر اترنا کسی صاحب ایمان کو زیب نہیں دیتا ہے۔
اسی طرح سوکنوں کا آپس میں ایسی کیفیت پیدا کرنا کہ دوسری کڑھنے لگے جائز نہیں۔
یا کوئی اپنے آپ کو دکھلاوے کے طور پر زاہد ظاہرکرے، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہو۔
کسی مسلمان کو دھوکا دینا یا مانگے تانگے کی چیز پر اترنا کسی صاحب ایمان کو زیب نہیں دیتا ہے۔
اسی طرح سوکنوں کا آپس میں ایسی کیفیت پیدا کرنا کہ دوسری کڑھنے لگے جائز نہیں۔
یا کوئی اپنے آپ کو دکھلاوے کے طور پر زاہد ظاہرکرے، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4997]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:321
321- فاطمہ بنت منذر اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کے پاس جو کچھ نہ ہو، اسے اپنے پاس موجود ظاہر کرنے والا اسی طرح ہے، جس طرح اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:321]
فائدہ:
۔ اس حدیث میں جھوٹ کی ایک قسم کا بیان ہے کہ انسان ظاہری اعتبار سے وہ ظاہر کرے جو حقیقت میں اس کے پاس نہ ہو، یہ جھوٹ ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔ یہ جھوٹ کی عام قسم ہے، اللہ تعالیٰ ٰ اس سے بچنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمین۔
۔ اس حدیث میں جھوٹ کی ایک قسم کا بیان ہے کہ انسان ظاہری اعتبار سے وہ ظاہر کرے جو حقیقت میں اس کے پاس نہ ہو، یہ جھوٹ ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔ یہ جھوٹ کی عام قسم ہے، اللہ تعالیٰ ٰ اس سے بچنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 321]
Sahih Bukhari Hadith 5219 in Urdu
فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية