الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب الغيرة:
باب: غیرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَرَى عَبْدَهُ أَوْ أَمَتَهُ تَزْنِي، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے امت محمد! اللہ سے بڑھ کر غیرت مند اور کوئی نہیں کہ وہ اپنے بندے یا بندی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے۔ اے امت محمد! اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو مجھے معلوم ہے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5221]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← هشام بن عروة الأسدي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5221
| ما أحد أغير من الله أن يزني عبده أو أمته تزني لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5221 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5221
حدیث حاشیہ:
آپ کی مراد احوال آخرت سے تھی جو یقینا آپ کو سب سے زیادہ معلوم تھے۔
آپ کی مراد احوال آخرت سے تھی جو یقینا آپ کو سب سے زیادہ معلوم تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5221]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5221
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی غیرت کا ذکر ہے جسے اپنے حقیقی معنی پر محمول کرنا چاہیے۔
اس کے متعلق کوئی تاویل کرنا اسلاف کے طریقے کے خلاف ہے۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کی نحوست کو بیان کیا ہے کہ آپ اس کے انجام کو خوب جانتے ہیں، نیز آپ نے فرمایا ”آخرت کے احوال جو میرے پیش نظر ہیں اگر تمھیں ان کی اطلاع ہو جائے تو ہر وقت روتے رہو اور تمھیں کبھی ہنسنا نصیب نہ ہو۔
“ واللہ اعلم
(1)
اس حدیث میں بھی اللہ تعالیٰ کی غیرت کا ذکر ہے جسے اپنے حقیقی معنی پر محمول کرنا چاہیے۔
اس کے متعلق کوئی تاویل کرنا اسلاف کے طریقے کے خلاف ہے۔
(2)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کی نحوست کو بیان کیا ہے کہ آپ اس کے انجام کو خوب جانتے ہیں، نیز آپ نے فرمایا ”آخرت کے احوال جو میرے پیش نظر ہیں اگر تمھیں ان کی اطلاع ہو جائے تو ہر وقت روتے رہو اور تمھیں کبھی ہنسنا نصیب نہ ہو۔
“ واللہ اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5221]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق