🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
112. باب لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم، والدخول على المغيبة:
باب: محرم کے سوا کوئی غیر مرد کسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے اور ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو سفر وغیرہ میں گیا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5233
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابو معبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5233]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نافذ مولى ابن عباس، أبو معبد
Newنافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← نافذ مولى ابن عباس
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3006
لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم اذهب فحج مع امرأتك
صحيح البخاري
5233
لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم ارجع فحج مع امرأتك
صحيح مسلم
3272
لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم
جامع الترمذي
2166
يد الله مع الجماعة
بلوغ المرام
587
‏‏‏‏لا يخلون رجل بامراة إلا ومعها ذو محرم ولا تسافر المراة إلا مع ذي محرم
بلوغ المرام
961
لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5233 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5233
حدیث حاشیہ:
امام احمد نے ظاہر حدیث پر عمل کر کے فرمایا کہ یہ حکم وجوباً ہے۔
اس لئے کہ جہاد اس کے بدل دوسرے مسلمان بھی کر سکتے ہیں مگر اس کی عورت کے ساتھ۔
سوائے محرم کے اور کوئی نہیں جا سکتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5233]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5233
حدیث حاشیہ:
(1)
شوہر پر بیوی کی حفاظت و صیانت ضروری ہے، اس لیے حج کے لیے اس کا ساتھ جانا ضروری ہے۔
جہاد کا فریضہ دوسرے لوگ ادا کر سکتے ہیں اور اس کے قائم مقام ہو سکتے ہیں لیکن عورت کے ساتھ محرم کے علاوہ اور کوئی نہیں جا سکتا۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر عورت کے ساتھ محرم نہ ہو تو اس پر حج فرض نہیں ہے، خواہ وہ کتنی مال دار ہو۔
(عمدة القاري: 208/14)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5233]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 587
حج کی فضیلت و فرضیت کا بیان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ ارشاد فرماتے سنا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہرگز اکیلا نہ ہو مگر اس کے ساتھ محرم ہو اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ پس ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول! بیشک میری عورت حج کے لئے روانہ ہوئی اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں شامل ہونے کیلئے لکھا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 587]
587 لغوی تشریح:
«لَايَخُلُونَّ» یہ نون تاکید کے ساتھ «خلوة» سے نہی کا صیغہ ہے۔
«ذُو مَحْرَمٟ» میم اور را پر زبر اور ان کے مابین حا ساکن ہے۔ اس سے عورت کے وہ قریبی مراد ہیں جن سے اس کا نکاح حرام ہے جیسے باپ، بیٹا بھائی وغیرہ۔
«اُكْتُتِبْتُ» باب افتعال سے متکلم مجہول کا صیغہ ہے، یعنی میرا نام مجاہدین کی فہرست میں شامل ہے اور مجھے فلاں غزوے کے لیے متعین کیا گیا ہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت اپنے خاوند یا محرم کے بغیر حج نہیں کر سکتی اور عورت کے لیے یہ بھی فی الجملہ «مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا» کے حکم میں شامل ہے۔ یہ عورت کے لیے زائد شرط ہے، اگر یہ پوری ہو گی تو اس پر حج واجب ہے ورنہ اس پر حج کا فریضہ عائد ہی نہ ہو گا۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غیر محرم مرد اور عورت کے لیے تنہائی میں علیحدہ ہونا حرام ہے، بلکہ ایک حدیث میں ہے، جب بھی دونوں علیحدہ ہوں گے تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہو گا۔ اس طرح عورت کے لیے محرم کے بغیر تنہا سفر کرنا بھی حرام ہے۔ بعض فقہاء نے بعض ادلہ کی بنا پر بوڑھی، قافلہ کی صورت میں یا ذی حشمت عورت کو اس کی اجازت دی ہے مگر حدیث کے صریح الفاظ اس بات کی نفی کرتے ہیں۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت پر حج فرض ہو تو نماز کی طرح اس کی اجازت خاوند سے ضروری نہیں، البتہ نفلی حج ہو تو عورت کو بہر نوع اجازت لے کر جانا چاہیے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 587]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3272
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے سنا: کوئی مرد، کسی عورت کے ساتھ، اس کے محرم کے بغیر تنہائی میں نہ رہے یا اکیلا نہ ہو اور عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی حج پر جا رہی ہے، اور میرا نام فلاں فلاں لڑائی میں لکھ دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3272]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا اگر خاوند اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جا سکتا ہو تو اسے ایسے فریضہ کو ترک کر دینا چاہیے جس کے لیے وقت متعین نہیں ہے یا اس کی جگہ کوئی اور شخص جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3272]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3006
3006. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور نہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے۔ یہ سن کر ایک شخص کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنا نام فلاں فلاں جہاد کے لیے لکھوادیا ہے لیکن میری اہلیہ حج کے لیے جا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: جاؤ تم اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3006]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ اس کی عورت کے ساتھ دوسرا مرد نہیں جاسکتا اور جہاد میں اس کے بدل دوسرا شخص شریک ہوسکتا ہے تو آپ نے ضروری کام کو غیر ضروری پر مقدم رکھا۔
عورت اپنی شخصیت میں ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے۔
اس لئے وہ اپنے مال سے خود حج پر جاسکتی ہے۔
مگر خاوند کا ساتھ ہونا یا اس کی طرف سے کسی ذی محرم کا ساتھ بھیج دینا ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3006]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3006
3006. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور نہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے۔ یہ سن کر ایک شخص کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنا نام فلاں فلاں جہاد کے لیے لکھوادیا ہے لیکن میری اہلیہ حج کے لیے جا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: جاؤ تم اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3006]
حدیث حاشیہ:

محرم وہ شخص ہے جس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔
محرم بغیر کسی عورت کو سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کا نام جہاد میں لکھا جائے اور اس کی بیوی نے حج کرنا ہو تو اسے اپنی بیوی کے ہمراہ جانا چاہیے۔
اس کے لیے جہاد میں جانا ضروری نہیں کیونکہ جہاد میں تو اس کا کوئی دوسرا قائم مقام ہو سکتا ہے لیکن بیوی کے ساتھ جانے کے لیے کوئی اجنبی قائم مقام نہیں ہو سکتا۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہم معاملات کو عارضی امور پر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضروری کام کو اہمیت دی ہے چنانچہ سفر حج اور سفر جہاد میں تعارض کی صورت میں آپ نے سفرحج کو ترجیح دی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3006]