صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ الْخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ:
باب: خلع کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q5273
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: الظَّالِمُونَ سورة البقرة آية 229 وَأَجَازَ عُمَرُ الْخُلْعَ دُونَ السُّلْطَانِ، وَأَجَازَ عُثْمَانُ الْخُلْعَ دُونَ عِقَاصِ رَأْسِهَا، وَقَالَ طَاوُسٌ: إِلا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ سورة البقرة آية 229 فِيمَا افْتَرَضَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْعِشْرَةِ وَالصُّحْبَةِ، وَلَمْ يَقُلْ قَوْلَ السُّفَهَاءِ: لَا يَحِلُّ حَتَّى تَقُولَ: لَا أَغْتَسِلُ لَكَ مِنْ جَنَابَةٍ.
اور خلع میں طلاق کیونکر پڑے گی؟ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا «ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا» کہ ”اور تمہارے لیے (شوہروں کے لیے) جائز نہیں کہ جو (مہر) تم انہیں (اپنی بیویوں کو) دے چکے ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس لو، سوا اس صورت کے جبکہ زوجین اس کا خوف محسوس کریں کہ وہ (ایک ساتھ رہ کر) اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے خلع جائز رکھا ہے۔ اس میں بادشاہ یا قاضی کے حکم کی ضرورت نہیں ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر جورو اپنے سارے مال کے بدلہ میں خلع کرے صرف جوڑا باندھنے کا دھاگہ رہنے دے تب بھی خلع کرانا درست ہے۔ طاؤس نے کہا کہ «إلا أن يخافا أن لا يقيما حدود الله» کا یہ مطلب ہے کہ جب جورو اور خاوند اپنے اپنے فرائض کو جو حسن معاشرت اور صحبت سے متعلق ہیں ادا نہ کر سکیں (اس وقت خلع کرانا درست ہے)۔ طاؤس نے ان بیوقوفوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ خلع اسی وقت درست ہے جب عورت کہے کہ میں جنابت یا حیض سے غسل ہی نہیں کروں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: Q5273]
حدیث نمبر: 5273
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَا يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ (کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی)۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5273]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”باغ قبول کر کے اس کو آزاد کر دو۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ: ”اس روایت میں «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» کا ذکر کرنے میں ازہر بن جمیل کی متابعت نہیں کی گئی (بلکہ اس طریق سے دوسروں نے مرسل روایت بیان کی ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5273]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5275
| تردين حديقته قالت نعم فردتها وأمره يطلقها |
صحيح البخاري |
5273
| أتردين عليه حديقته قالت نعم قال رسول الله اقبل الحديقة وطلقها تطليقة |
صحيح البخاري |
5276
| تردين عليه حديقته فقالت نعم فردت عليه وأمره ففارقها |
سنن النسائى الصغرى |
3493
| أتردين عليه حديقته قالت نعم قال رسول الله اقبل الحديقة وطلقها تطليقة |
سنن ابن ماجه |
2056
| أتردين عليه حديقته قالت نعم فأمره رسول الله أن يأخذ منها حديقته ولا يزداد |
بلوغ المرام |
914
| أتردين عليه حديقته ؟ |
Sahih Bukhari Hadith 5273 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي