صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنِّكَاحِ الْفَاسِدِ:
باب: بیوہ کے خرچے اور نکاح فاسد کا بیان۔
حدیث نمبر: 5348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ".
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں محمد بن جحادہ نے، انہیں ابوحازم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کے زنا کی کمائی سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5348]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن جحادة الأودي محمد بن جحادة الأودي ← سلمان مولى عزة | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن جحادة الأودي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥علي بن الجعد الجوهري، أبو الحسن علي بن الجعد الجوهري ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت رمي بالتشيع |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5348
| كسب الإماء |
صحيح البخاري |
2283
| كسب الإماء |
سنن أبي داود |
3425
| كسب الإماء |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5348 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5348
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا اگر عمداً کوئی محرم عورت مثلاً ماں بہن بیٹی وغیرہ سے حرام جان کر بھی نکاح کر لے تو اس پر حد قائم کی جائے گی۔
ائمہ ثلاثہ اور اہلحدیث کا یہی فتویٰ ہے۔
اس کا یہ جرم اتنا سنگین ہے کہ اسے ختم کر دینا ہی عین انصاف ہے۔
حافظ نے کہا اگر عمداً کوئی محرم عورت مثلاً ماں بہن بیٹی وغیرہ سے حرام جان کر بھی نکاح کر لے تو اس پر حد قائم کی جائے گی۔
ائمہ ثلاثہ اور اہلحدیث کا یہی فتویٰ ہے۔
اس کا یہ جرم اتنا سنگین ہے کہ اسے ختم کر دینا ہی عین انصاف ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5348]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5348
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان اور پیش کردہ احادیث میں نکاح فاسد کے حق مہر اور زنا کی اجرت کے متعلق وضاحت کی ہے۔
جو اجرت زنا کے عوض دی جاتی ہے اسے مهر البغي کہا جاتا ہے۔
یہ حرام ہے اور اس کی حرمت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں کیونکہ زنا حرام ہے، اس لیے اس کا معاوضہ بھی ناجائز اور حرام ہے۔
اسی طرح گلوکارہ اور نوحہ کرنے والی کی اجرت بھی حرام ہے۔
لیکن نکاح فاسد میں عورت کو اس کا طے شدہ حق مہر دے دیا جاتا ہے اور اس کے فوراً بعد ان میں جدائی کر دی جائے۔
(2)
نکاح فاسد وہ ہے جو گواہوں یا سرپرست کی اجازت کے بغیر کیا جائے۔
اسی طرح دوران عدت میں نکاح کرنا یا وقتی طور پر کسی سے نکاح کرنا بھی نکاح فاسد ہوتا ہے، ایسے نکاح میں عورت کو طے شدہ حق مہر مل جاتا ہے، اس کے علاوہ، وہ کسی چیز کی حق دار نہیں ہے۔
(3)
کسب اماء سے مراد لونڈیوں سے بدکاری کرانا اور ان کا معاوضہ لینا ہے۔
یہ معاوضہ بھی حرام ہے اور بدکار عورت کی کمائی میں شامل ہے۔
واللہ أعلم
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان اور پیش کردہ احادیث میں نکاح فاسد کے حق مہر اور زنا کی اجرت کے متعلق وضاحت کی ہے۔
جو اجرت زنا کے عوض دی جاتی ہے اسے مهر البغي کہا جاتا ہے۔
یہ حرام ہے اور اس کی حرمت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں کیونکہ زنا حرام ہے، اس لیے اس کا معاوضہ بھی ناجائز اور حرام ہے۔
اسی طرح گلوکارہ اور نوحہ کرنے والی کی اجرت بھی حرام ہے۔
لیکن نکاح فاسد میں عورت کو اس کا طے شدہ حق مہر دے دیا جاتا ہے اور اس کے فوراً بعد ان میں جدائی کر دی جائے۔
(2)
نکاح فاسد وہ ہے جو گواہوں یا سرپرست کی اجازت کے بغیر کیا جائے۔
اسی طرح دوران عدت میں نکاح کرنا یا وقتی طور پر کسی سے نکاح کرنا بھی نکاح فاسد ہوتا ہے، ایسے نکاح میں عورت کو طے شدہ حق مہر مل جاتا ہے، اس کے علاوہ، وہ کسی چیز کی حق دار نہیں ہے۔
(3)
کسب اماء سے مراد لونڈیوں سے بدکاری کرانا اور ان کا معاوضہ لینا ہے۔
یہ معاوضہ بھی حرام ہے اور بدکار عورت کی کمائی میں شامل ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5348]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2283
2283. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی(بدکاری کی) کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2283]
حدیث حاشیہ:
آیت قرآنی اور ہر دو احادیث سے حضر ت امام بخاری ؒ نے ثابت فرمایا کہ رنڈی کی کمائی اور لونڈی کی کمائی حرام ہے۔
عہد جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں سے حرام کمائی حاصل کرتے اور ان سے بالجبر پیشہ کراتے تھے۔
اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اسے روکا اور ایسی کمائی کو لقمہ حرام قرار دیا۔
اسی طرح کہانت کا پیشہ بھی حرام قرار پایا نیز کتے کی قیمت سے بھی منع کیا گیا۔
آیت قرآنی اور ہر دو احادیث سے حضر ت امام بخاری ؒ نے ثابت فرمایا کہ رنڈی کی کمائی اور لونڈی کی کمائی حرام ہے۔
عہد جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں سے حرام کمائی حاصل کرتے اور ان سے بالجبر پیشہ کراتے تھے۔
اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اسے روکا اور ایسی کمائی کو لقمہ حرام قرار دیا۔
اسی طرح کہانت کا پیشہ بھی حرام قرار پایا نیز کتے کی قیمت سے بھی منع کیا گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2283]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3425
لونڈیوں کی کمائی لینا منع ہے۔
ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3425]
ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3425]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یعنی لونڈی جب بدکاری یا گانے بجانے سے مال کماتی ہو تو سراسرحرام ہے۔
فائدہ۔
یعنی لونڈی جب بدکاری یا گانے بجانے سے مال کماتی ہو تو سراسرحرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3425]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2283
2283. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی(بدکاری کی) کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2283]
حدیث حاشیہ:
لونڈیوں کی اجرت سے مراد زنا کرکے اجرت حاصل کرنا۔
یہ حرام ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں،البتہ ان کے ہاتھ کی ہنر مندی اور اس کی آمدنی جائز ہے۔
(2)
بہر حال قرآنی آیت اور مذکورہ ہر دو احادیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ رنڈی کی کمائی اور لونڈی کا پیشے کے ذریعے سے کمائی کرنا حرام ہے۔
دور جاہلیت میں کچھ لوگ اپنی لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے بعد حرام کمائی کھاتے تھے، اسلام نے سختی کے ساتھ جسم فروشی سے منع کردیا اور ایسی کمائی کو لقمۂ حرام قرار دیا۔
لونڈیوں کی اجرت سے مراد زنا کرکے اجرت حاصل کرنا۔
یہ حرام ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں،البتہ ان کے ہاتھ کی ہنر مندی اور اس کی آمدنی جائز ہے۔
(2)
بہر حال قرآنی آیت اور مذکورہ ہر دو احادیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ رنڈی کی کمائی اور لونڈی کا پیشے کے ذریعے سے کمائی کرنا حرام ہے۔
دور جاہلیت میں کچھ لوگ اپنی لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے بعد حرام کمائی کھاتے تھے، اسلام نے سختی کے ساتھ جسم فروشی سے منع کردیا اور ایسی کمائی کو لقمۂ حرام قرار دیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2283]
Sahih Bukhari Hadith 5348 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي