Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ذبيحة الأعراب ونحوهم:
باب: دیہاتیوں یا ان کے جیسے (احکام دین سے بےخبر لوگوں) کا ذبیحہ کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ قَوْمًا قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لَا نَدْرِي أَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا، فَقَالَ:" سَمُّوا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَكُلُوهُ"، قَالَتْ: وَكَانُوا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالْكُفْرِ، تَابَعَهُ عَلِيٌّ، عَنْ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَتَابَعَهُ أَبُو خَالِدٍ، وَالطُّفَاوِيُّ.
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ بن حفص مدنی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ (گاؤں کے) کچھ لوگ ہمارے یہاں گوشت (بیچنے) لاتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام بھی (ذبح کرتے وقت) لیا تھا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم ان پر کھاتے وقت اللہ کا نام لیا کرو اور کھا لیا کرو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ لوگ ابھی اسلام میں نئے نئے داخل ہوئے تھے۔ اس کی متابعت علی نے دراوردی سے کی اور اس کی متابعت ابوخالد اور طفاوی نے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5507]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، أبو المنذرصدوق يهم
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← محمد بن عبد الرحمن الطفاوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← سليمان بن حيان الجعفري
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← علي بن المديني
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥أسامة بن حفص المدني
Newأسامة بن حفص المدني ← هشام بن عروة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عبيد الله القرشي، أبو ثابت
Newمحمد بن عبيد الله القرشي ← أسامة بن حفص المدني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5507
قوما يأتونا باللحم لا ندري أذكر اسم الله عليه أم لا فقال سموا عليه أنتم وكلوه قالت وكانوا حديثي عهد بالكفر
بلوغ المرام
1151
قوما ياتوننا باللحم لاندري اذكر اسم الله عليه ام لا؟ فقال: ‏‏‏‏سموا الله عليه انتم وكلوه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5507 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5507
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ ذبیحے پر بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں کیونکہ اگر ضروری ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو گوشت کھانے کی اجازت نہ دیتے لیکن یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ اعراب اگرچہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے لیکن وہ بسم اللہ کے پڑھنے سے جاہل نہ تھے۔
عین ممکن ہے کہ وہ بسم اللہ پڑھ کر ہی ذبح کرتے ہوں لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے متعلق شبہ کا اظہار کیا کہ شاید وہ بسم اللہ نہ پڑھتے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا شبہ دور فرمایا کہ مسلمان کے متعلق اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
جب وہ مسلمان ہیں تو یقیناً وہ بسم اللہ پڑھتے ہوں گے، البتہ تم اپنے شبہے کو دور کرنے کے لیے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔
اس سلسلے میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے:
مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے، خواہ وہ اللہ کا نام لے یا نہ لے۔
لیکن یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے۔
(إرواء الغلیل: 169/8، رقم: 2537، و فتح الباري: 787/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5507]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1151
شکار اور ذبائح کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں جس کے متعلق ہمیں معلوم نہیں کہ وہ گوشت کس طرح کا ہوتا ہے آیا اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہوتا ہے یا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر اللہ کا نام لو اور کھا لو۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1151»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الذبائح، باب ذبيحة الأعراب ونحوهم، حديث:5507.»
تشریح:
1. اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جب تک حتمی اور یقینی طور پر کسی ذبیحے کے بارے میں معلوم نہ ہو جائے کہ اس پر بسم اللہ نہیں پڑھی گئی اور وہ حرام ہے‘ اس وقت تک محض شبہات کی بنا پر اسے حرام قرار نہیں دینا چاہیے بالخصوص جبکہ وہ ذبیحہ کسی مسلمان بھائی کا ہو۔
2. اہل کتاب کے بارے میں اگر یقین ہو کہ اس نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہے‘ مثلاً: خود ذبح کرتے دیکھا ہے یا کسی بااعتماد مسلمان نے دیکھا ہے تو اہل کتاب کے اس شخص کا ذبح کیا ہوا بھی درست ہے۔
دوسرے غیر مسلموں کا ذبح کیا ہوا جائز نہیں۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1151]