🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب فضل من ذهب بصره:
باب: اس کا ثواب جس کی بینائی جاتی رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5653
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ:" إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ، عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ"، يُرِيدُ عَيْنَيْهِ، تَابَعَهُ أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، وَأَبُو ظِلَالِ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا، ان سے مطلب بن عبداللہ بن جذب کے غلام عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کے دو محبوب اعضاء (آنکھوں) کے بارے میں آزماتا ہوں (یعنی نابینا کر دیتا ہوں) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5653]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥هلال بن بشر الأزدي، أبو ظلال
Newهلال بن بشر الأزدي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥أشعث بن جابر الحداني، أبو عبد الله
Newأشعث بن جابر الحداني ← هلال بن بشر الأزدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← أشعث بن جابر الحداني
صحابي
👤←👥عمرو بن أبي عمرو القرشي، أبو عثمان
Newعمرو بن أبي عمرو القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق يهم
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← عمرو بن أبي عمرو القرشي
ثقة مكثر
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5653
إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر عوضته منهما الجنة
جامع الترمذي
2400
إذا أخذت كريمتي عبدي في الدنيا لم يكن له جزاء عندي إلا الجنة
المعجم الصغير للطبراني
1002
من أذهبت كريمتيه فصبر واحتسب لم أرض له ثوابا دون الجنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5653 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5653
حدیث حاشیہ:
(1)
آنکھیں انسان کے محبوب اعضاء میں سے ہیں۔
ان کی قدر و قیمت ان حضرات سے معلوم کی جا سکتی ہے جو ان سے محروم ہیں۔
ان کے نہ ہونے پر صبر کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھے اور کسی سے آنکھوں کے نہ ہونے کا شکوہ نہ کرے اور نہ بے چینی اور بے قراری ہی کا اظہار کرے، چنانچہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ صبر کرنے کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کی بھی نیت رکھے۔
(جامع الترمذي، الزھد، حدیث: 2401) (2)
اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کا امتحان لیتا ہے تو اس کی وجہ ناراضی نہیں بلکہ اس کے ذریعے سے کسی دوسری مصیبت کو ٹالتا ہے یا اس کے گناہوں کا کفارہ اور بلندئ درجات کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
اگر اس قسم کی مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے تو اس کی مراد پوری ہو سکتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5653]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2400
نابینا کی فضیلت کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کی پیاری آنکھیں چھین لیتا ہوں تو میرے پاس اس کا بدلہ صرف جنت ہی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2400]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
انسان کوجونعمتیں رب العالمین کی جانب سے حاصل ہیں،
ان میں آنکھ ایک بڑی عظیم نعمت ہے،
یہی وجہ ہے کہ رب العالمین جب کسی بندے سے یہ نعمت چھین لیتا ہے اوربندہ اس پر صبرورضا سے کام لیتا ہے تواسے قیامت کے دن اس نعمت کے بدل میں جس چیزسے نوازا جائے گا وہ جنت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2400]