یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب لبس القسي:
باب: مصر کا ریشمی کپڑا پہننا مرد کے لیے کیسا ہے۔
حدیث نمبر: Q5838
وَقَالَ عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: مَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ:" ثِيَابٌ أَتَتْنَا مِنَ الشَّأْمِ أَوْ مِنْ مِصْرَ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا حَرِيرٌ، وَفِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُنْجِ وَالْمِيثَرَةُ، كَانَتِ النِّسَاءُ تَصْنَعُهُ لِبُعُولَتِهِنَّ مِثْلَ الْقَطَائِفِ يُصَفِّرْنَهَا" وَقَالَ جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ، فِي حَدِيثِهِ الْقَسِّيَّةُ" ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ فِيهَا الْحَرِيرُ وَالْمِيثَرَةُ جُلُودُ السِّبَاعِ" قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: عَاصِمٌ أَكْثَرُ وَأَصَحُّ فِي الْمِيثَرَةِ.
عاصم ابن کلیب نے بیان کیا کہ ان سے ابوبردہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا «قسي» کیا چیز ہے؟ بتلایا کہ یہ کپڑا تھا جو ہمارے یہاں (حجاز میں) شام یا مصر سے آتا تھا اس پر چوڑی ریشمی دھاریاں پڑی ہوتی تھیں اور اس پر ترنج جیسے نقش و نگار بنے ہوئے تھے اور «ميثرة» زین پوش وہ کپڑا کہلاتا تھا جسے عورتیں ریشم سے اپنے شوہروں کے لیے بناتی تھیں۔ یہ جھالر دار چادر کی طرح ہوتی تھی وہ اسے زرد رنگ سے رنگ دیتی تھیں جیسے اوڑھنے کے رومال ہوتے ہیں اور جریر نے بیان کیا کہ ان سے زید نے بیان کیا کہ «قسية» وہ چوخانے کپڑے ہوتے تھے جو مصر سے منگوائے جاتے تھے اور اس میں ریشم ملا ہوا ہوتا تھا اور «ميثرة» درندوں کے چمڑے کے زین پوش۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ «ميثرة» کی تفسیر میں عاصم کی روایت کثرت طرق اور صحت کے اعتبار سے بڑھی ہوئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: Q5838]
حدیث نمبر: 5838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اشعث بن ابی شعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے بیان کیا اور ان سے ابن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سرخ «ميثرة» اور «قسي» کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5838]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہمیں سرخ میثرہ «الْمَيْثَرَةِ» اور قسی «الْقَسِّيِّ» کپڑوں سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥معاوية بن سويد المزني، أبو سويد معاوية بن سويد المزني ← البراء بن عازب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← معاوية بن سويد المزني | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← سفيان الثوري | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥محمد بن مقاتل المروزي، أبو الحسن محمد بن مقاتل المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5838
| نهانا النبي عن المياثر الحمر والقسي |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5838 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5838
حدیث حاشیہ:
قسطلانی نے کہاکہ اکثر علماءکے نزدیک زین پوش وہی منع ہے جس میں خالص ریشم ہو یا ریشم زیادہ ہو سوت کم ہو۔
اگر دونوں آدھے آدھے ہوں تو ایسے کپڑوں کا استعمال درست رکھا ہے کیونکہ اسے حریر نہیں کہہ سکتے آج کل ٹسر وغیرہ کا یہی حال ہے۔
قسطلانی نے کہاکہ اکثر علماءکے نزدیک زین پوش وہی منع ہے جس میں خالص ریشم ہو یا ریشم زیادہ ہو سوت کم ہو۔
اگر دونوں آدھے آدھے ہوں تو ایسے کپڑوں کا استعمال درست رکھا ہے کیونکہ اسے حریر نہیں کہہ سکتے آج کل ٹسر وغیرہ کا یہی حال ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5838]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5838
حدیث حاشیہ:
(1)
سرخ میثرہ سے مراد وہ دیباج یا ریشم کی گدی ہے جو عجمی لوگ اپنی سواریوں پر بچھاتے تھے۔
اگر خالص ریشم کی ہوں تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
اگر اس میں ملاوٹ ہے تو دیکھا جائے اگر کپڑا ریشم ہے تو بھی منع ہے کیونکہ حکم کا دارومدار اکثریت پر ہوتا ہے اور اگر ریشم کم ہے اور روئی وغیرہ زیادہ ہے تو جمہور اہل علم اسے جائز کہتے ہیں۔
(فتح الباري: 363/10) (2)
ہمارے ہاں ٹسر (کچے ریشم)
سے کپڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں، ہمارے رجحان کے مطابق ان میں بہت کم ریشم ہوتا ہے، لہذا ان کا استعمال بھی جائز ہے۔
واللہ أعلم
(1)
سرخ میثرہ سے مراد وہ دیباج یا ریشم کی گدی ہے جو عجمی لوگ اپنی سواریوں پر بچھاتے تھے۔
اگر خالص ریشم کی ہوں تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
اگر اس میں ملاوٹ ہے تو دیکھا جائے اگر کپڑا ریشم ہے تو بھی منع ہے کیونکہ حکم کا دارومدار اکثریت پر ہوتا ہے اور اگر ریشم کم ہے اور روئی وغیرہ زیادہ ہے تو جمہور اہل علم اسے جائز کہتے ہیں۔
(فتح الباري: 363/10) (2)
ہمارے ہاں ٹسر (کچے ریشم)
سے کپڑے بھی تیار کیے جاتے ہیں، ہمارے رجحان کے مطابق ان میں بہت کم ریشم ہوتا ہے، لہذا ان کا استعمال بھی جائز ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5838]
Sahih Bukhari Hadith 5838 in Urdu
معاوية بن سويد المزني ← البراء بن عازب الأنصاري