علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب الموصولة:
باب: جس عورت کے بالوں میں دوسرے کے بال جوڑے جائیں۔
حدیث نمبر: 5942
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ وَالْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ" يَعْنِي، لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے یونس بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا (راوی نے اس طرح بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گودنے والی، گدوانے والی، مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی“ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر لعنت بھیجی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5942]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥صخر بن جويرية البصري، أبو نافع صخر بن جويرية البصري ← نافع مولى ابن عمر | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← صخر بن جويرية البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب يوسف بن موسى الرازي ← الفضل بن دكين الملائي | صدوق حسن الحديث |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5942 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5942
حدیث حاشیہ:
(1)
ان تمام روایات میں مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کرنے اور کروانے کے عمل کو باعث لعنت قرار دیا گیا ہے، البتہ آخری حدیث میں مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان روایات کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس امر کا بیان ہے جیسا کہ پہلے وہ روایات بیان ہو چکی ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا:
آپ مصنوعی بال پیوند کرنے والی عورت کو اس کام سے منع کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا:
”ہاں“ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے۔
(مسند أحمد: 415/1) (2)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک کی ایک آیت سے اس امتناعی حکم کا استنباط کیا ہے، حالانکہ روایات میں اس امر کی صراحت ہے کہ یہ عمل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں باعث لعنت ہے۔
(حدیث: 5934-
5935)
جس آیت کریمہ کا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حوالہ دیا وہ یہ ہے:
”اور رسول تمہیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو اس سے رک جاؤ۔
“ (الحشر: 7)
(1)
ان تمام روایات میں مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کرنے اور کروانے کے عمل کو باعث لعنت قرار دیا گیا ہے، البتہ آخری حدیث میں مصنوعی بالوں کی پیوندکاری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان روایات کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس امر کا بیان ہے جیسا کہ پہلے وہ روایات بیان ہو چکی ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا:
آپ مصنوعی بال پیوند کرنے والی عورت کو اس کام سے منع کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا:
”ہاں“ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے۔
(مسند أحمد: 415/1) (2)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک کی ایک آیت سے اس امتناعی حکم کا استنباط کیا ہے، حالانکہ روایات میں اس امر کی صراحت ہے کہ یہ عمل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں باعث لعنت ہے۔
(حدیث: 5934-
5935)
جس آیت کریمہ کا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حوالہ دیا وہ یہ ہے:
”اور رسول تمہیں جو کچھ دے وہ لے لو اور جس سے تمہیں روک دے تو اس سے رک جاؤ۔
“ (الحشر: 7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5942]
Sahih Bukhari Hadith 5942 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي