🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

85. بَابُ الْمَوْصُولَةِ:
باب: جس عورت کے بالوں میں دوسرے کے بال جوڑے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5940
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، ان سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5940]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی، نیز سرمہ والی اور بھروانے والی (تمام عورتوں) پر لعنت فرمائی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5940]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5941
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَامَّرَقَ شَعَرُهَا وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا، أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ".
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5941]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! میری بیٹی کو چیچک نکل آئی ہے اس وجہ سے اس کے تمام بال جھڑ گئے ہیں، اور میں نے اس کا نکاح بھی کر دیا ہے۔ تو کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے پیوند لگانے والی اور لگوانے والی (عورتوں) پر لعنت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5941]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5942
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ وَالْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ" يَعْنِي، لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے یونس بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا (راوی نے اس طرح بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گودنے والی، گدوانے والی، مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر لعنت بھیجی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5942]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سرمہ بھرنے والی اور سرمہ بھروانے والی، نیز مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی (تمام عورتوں) پر لعنت بھیجی ہے۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملعون قرار دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5942]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5943
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ".
مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5943]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے سرمہ بھرنے والی اور بھروانے والی، ابروؤں کے بال اکھاڑنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والی اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والی تمام عورتوں پر لعنت کی ہے۔ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں بھی ملعون ہے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5943]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں