🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما ينهى من السباب واللعن:
باب: گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6050
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدًا، فَقُلْتُ: لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ، فَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" أَسَابَبْتَ فُلَانًا؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ" قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي: هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ، قَالَ:" نَعَمْ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ".
مجھ سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے معرور نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے، معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ (غلام بھی) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6050]
حضرت معرور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام نے بھی اسی طرح کی چادر اوڑھ رکھی تھی، میں نے کہا: اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے زیب تن کریں تو آپ کے لیے ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے اور اپنے غلام کو کوئی دوسرا جوڑا پہنا دیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ایک آدمی کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی، اس کی والدہ عجمیہ تھی، میں نے اس کے متعلق اسے طعنہ دے دیا۔ اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تو نے فلاں شخص کو گالی دی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کی ماں کو بھی مطعون کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اندر ابھی دورِ جاہلیت کی خو باقی ہے۔ میں نے عرض کی: اس وقت بھی جبکہ میں بڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یاد رکھو! یہ غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، لہذا جس شخص کے بھائی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے زیرِ دست کر دیا ہو اسے وہ کچھ کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور اسے کسی ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر گراں بار ہو۔ اگر ایسا کام اسے کہے جو اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کام نمٹانے میں اس کا تعاون کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥المعرور بن سويد الأسدي، أبو أمية
Newالمعرور بن سويد الأسدي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← المعرور بن سويد الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عمر بن حفص النخعي، أبو حفص
Newعمر بن حفص النخعي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6050 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6050
حدیث حاشیہ:
اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے تا حیات یہ عمل بنا لیا کہ جو خود پہنتے وہی اپنے غلاموں کو پہناتے جس کا ایک نمونہ یہاں مذکور ہے ایسے لوگ آج کل کہاں ہیں جو اپنے نوکروں خادموں کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں۔
إلا ما شاءاللہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6050]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6050
حدیث حاشیہ:
(1)
جس آدمی سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی تکرار ہوئی تھی وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، ان کی والدہ ماجدہ حبشہ کی رہنے والی سیاہ فام تھی۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے غصے میں آ کر انھیں ماں کا طعنہ دیتے ہوئے کہا:
اے سیاہ لونڈی کے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گالی سے تعبیر فرمایا اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تمہارے اندر ابھی دور جاہلیت کی بو باقی ہے، حالانکہ تم بوڑھے ہو چکے ہو۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ کسی کو اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دینا بہت بری بات ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا بلکہ ایسا کرنے پر برملا اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
(فتح الباري: 574/10)
اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا معمول بنا لیا کہ جو خود پہنتے ویسا ہی اپنے غلاموں کو پہناتے، لیکن آج ایسے لوگ نایاب ہیں جو اپنے نوکروں اور ماتحت عملے سے ایسا برتاؤ کریں۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6050]

Sahih Bukhari Hadith 6050 in Urdu