صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ السِّبَابِ وَاللَّعْنِ:
باب: گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 6044
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِباب الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ"، تَابَعَهُ غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، کہا میں نے ابووائل سے سنا اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“ غندر نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6044]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“ محمد بن جعفر نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6044]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6045
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ".
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اور کافر ہو جائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6045]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص دوسرے کو فسق اور کفر سے متہم کرتا ہے اور وہ در حقیقت فاسق یا کافر نہ ہو تو یہ (فسق اور کفر) کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6045]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6046
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبابا، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ:" مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہیں تھے، نہ آپ لعنت ملامت کرنے والے تھے اور نہ گالی دیتے تھے، آپ کو بہت غصہ آتا تو صرف اتنا کہہ دیتے، اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی پہ خاک لگے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6046]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ لعنت کرنے والے تھے، نیز گالی گلوچ بھی نہیں کرتے تھے بلکہ کسی کو عتاب و زجر کرتے وقت فرماتے: «مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ» ”اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَلَيْسَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ اصحاب شجر (بیعت رضوان کرنے والوں) میں سے تھے، انہوں نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے (کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں) تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر ان چیزوں کی نذر صحیح نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں نہ ہوں اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کر لی اسے اسی چیز سے آخرت میں عذاب ہو گا اور جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی تو یہ اس کے خون کرنے کے برابر ہے اور جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو وہ ایسا ہے جیسے اس کا خون کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6047]
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور یہ اصحابِ شجرہ سے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ملتِ اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی قسم اٹھائی تو وہ اپنے کہنے کے مطابق بن جاتا ہے، ابنِ آدم کا ایسی چیز کے متعلق نذر ماننا صحیح نہیں جس کا وہ مالک نہیں، جس نے دنیا میں خود کو کسی چیز کے ساتھ قتل کیا تو قیامت کے دن اسی کے ساتھ اسے سزا دی جائے گی، جس نے کسی مومن پر لعنت کی تو یہ اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور جس نے کسی مسلمان کو کفر سے متہم کیا تو اس کو مار ڈالنے کی طرح ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6047]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6048
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ، رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ"، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَقَالَ: أَتُرَى بِي بَأْسٌ، أَمَجْنُونٌ أَنَا اذْهَبْ.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ایک صاحب کو غصہ آ گیا اور بہت زیادہ آیا، ان کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر (غصہ کرنے والا شخص) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک صاحب نے جا کر غصہ ہونے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور کہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگا کیا تم مجھ کو روگی سمجھتے ہو یا دیوانہ؟ جا اپنا راستہ لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6048]
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے تھے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے گالی گلوچ کی۔ ان میں سے ایک کو بہت زیادہ غصہ آیا حتی کہ اس کا چہرہ پھول گیا اور رنگ متغیر ہو گیا۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کلمہ جانتا ہوں، اگر یہ شخص وہ (کلمہ) کہہ دے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔“ چنانچہ ایک آدمی اس (غصہ ہونے والے) کے پاس گیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے مطلع کیا، اور کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ اس نے کہا: ”کیا تجھے گمان ہے کہ مجھے کوئی بیماری ہے؟ یا میں دیوانہ ہوں؟ جاؤ اپنا راستہ لو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6048]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6049
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَ النَّاسَ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَإِنَّهَا رُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لیلۃ القدر کی بشارت دینے کے لیے حجرے سے باہر تشریف لائے، لیکن مسلمانوں کے دو آدمی اس وقت آپس میں کسی بات پر لڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں (لیلۃ القدر کے متعلق) بتانے کے لیے نکلا تھا لیکن فلاں فلاں آپس میں لڑنے لگے اور (میرے علم سے) وہ اٹھا لی گئی۔ ممکن ہے کہ یہی تمہارے لیے اچھا ہو۔ اب تم اسے 29 رمضان اور 27 رمضان اور 25 رمضان کی راتوں میں تلاش کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6049]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لیلۃ القدر کی بشارت دینے کے لیے گھر سے نکلے۔ اس دوران مسلمانوں کے دو آدمی کسی بات پر جھگڑنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس لیے گھر سے نکلا تھا کہ تمہیں شبِ قدر کی بشارت دوں، لیکن فلاں فلاں جھگڑنے لگے، اس لیے وہ اٹھا لی گئی۔ ممکن ہے کہ یہی تمہارے لیے اچھا ہو۔ اب تم اسے انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں رمضان کی راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6049]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6050
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدًا، فَقُلْتُ: لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ، فَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" أَسَابَبْتَ فُلَانًا؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ" قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي: هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ، قَالَ:" نَعَمْ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ".
مجھ سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے معرور نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے، معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ (غلام بھی) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6050]
حضرت معرور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام نے بھی اسی طرح کی چادر اوڑھ رکھی تھی، میں نے کہا: ”اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے زیب تن کریں تو آپ کے لیے ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے اور اپنے غلام کو کوئی دوسرا جوڑا پہنا دیں۔“ انہوں نے بتایا کہ ”میرے اور ایک آدمی کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی، اس کی والدہ عجمیہ تھی، میں نے اس کے متعلق اسے طعنہ دے دیا۔ اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تو نے فلاں شخص کو گالی دی ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس کی ماں کو بھی مطعون کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اندر ابھی دورِ جاہلیت کی خو باقی ہے۔“ میں نے عرض کی: ”اس وقت بھی جبکہ میں بڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یاد رکھو! یہ غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، لہذا جس شخص کے بھائی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے زیرِ دست کر دیا ہو اسے وہ کچھ کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور اسے کسی ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر گراں بار ہو۔ اگر ایسا کام اسے کہے جو اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کام نمٹانے میں اس کا تعاون کرے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة