🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما ينهى من السباب واللعن:
باب: گالی دینے اور لعنت کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6045
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ".
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اور کافر ہو جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6045]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: اگر کوئی شخص دوسرے کو فسق اور کفر سے متہم کرتا ہے اور وہ در حقیقت فاسق یا کافر نہ ہو تو یہ (فسق اور کفر) کہنے والے پر لوٹ آتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6045]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥أبو الأسود الدؤلي، أبو الأسود
Newأبو الأسود الدؤلي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥يحيى بن يعمر القيسي، أبو سعيد، أبو سليمان، أبو عدي
Newيحيى بن يعمر القيسي ← أبو الأسود الدؤلي
ثقة
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← يحيى بن يعمر القيسي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عمر التميمي، أبو معمر
Newعبد الله بن عمر التميمي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت قدري
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6045
لا يرمي رجل رجلا بالفسوق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6045 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6045
حدیث حاشیہ:
(1)
فسق وکفر سے متہم کرنے سے مراد دوسرے کو اے فاسق اور اے کافر کہنا ہے۔
اگر تہمت زدہ انسان حقیقتاً فاسق یا کافر نہیں تو فسق وکفر کہنے والے پر لوٹ آتا ہے، یعنی وہ فاسق اور کافر بن جاتا ہے۔
کسی کی طرف فسق اور کفر کی نسبت کرنا اسے گالی دینا ہے۔
اس کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر اس میں فسق یا کفر نہیں پایا جاتا تو کہنے والا خود فاسق یا کافر بن جاتا ہے۔
(2)
اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ اگر کسی میں کفرو فسق کا سبب پایا جاتا ہے تو اسے فاسق یا کافر کہنے میں کوئی گناہ نہیں بلکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کچھ تفصیل ہے:
اگر اس سے مراد اسے شرمندہ کرنا ہے یا اس کی بری شہرت مقصود ہے اور اسے اذیت دینے کا ارادہ ہے تو ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ انسان کو پردہ پوشی کا حکم دیا گیا ہے۔
جب تک کسی کے ساتھ نرم برتاؤ ممکن ہو اس پر سختی کرنا حرام ہے۔
بسا اوقات ایسا اقدام اس کی گمراہی اور اس پر اصرار کا سبب بن جاتا ہے اور اگر اسے یا کسی دوسرے کو اس کاحال بیان کرنے سے اخلاص اور نصیحت مطلوب ہے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
(فتح الباري: 572/10)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6045]

Sahih Bukhari Hadith 6045 in Urdu