🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب التبسم والضحك:
باب: مسکرانا اور ہنسنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6085
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَقَالَ:" عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ" فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ إِنَّكَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، ان سے محمد بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے خرچ دینے کے لیے تقاضا کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6085]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ اس وقت آپ کے پاس ازواجِ مطہرات جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں، وہ آپ سے اخراجات کا تقاضا کر رہی تھیں اور بآواز بلند باتیں کر رہی تھیں، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ جلدی سے پسِ پردہ چلی گئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تو وہ اندر آ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہنس رہے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہنساتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پر مجھے حیرت ہوئی جو ابھی میرے پاس (اخراجات کا تقاضا کر رہی) تھیں۔ جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پسِ پردہ چلی گئیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ وہ آپ سے ہیبت زدہ ہوں۔ پھر انہوں نے عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ انہوں نے کہا: بلاشبہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت گیر اور درشت خو ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابنِ خطاب! مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر آتا دیکھ لے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6085]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥محمد بن سعد الزهري، أبو القاسم
Newمحمد بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي، أبو عمر
Newعبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي ← محمد بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الحميد بن عبد الرحمن العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← إبراهيم بن سعد الزهري
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6085
ما لقيك الشيطان سالكا فجا إلا سلك فجا غير فجك
صحيح البخاري
3683
ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك
صحيح البخاري
3294
ما لقيك الشيطان قط سالكا فجا إلا سلك فجا غير فجك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6085 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6085
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت عظمیٰ پر روشنی پڑتی ہے کہ شیطان بھی ان سے ڈرتا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ شیطان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سائے سے بھاگتا ہے۔
اب یہ اشکال نہ ہوگا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی افضلیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نکلتی ہے کیونکہ یہ ایک خاص معاملہ ہے، چور ڈاکو جتنا کوتوال سے ڈرتے ہیں اتنا خود بادشاہ سے نہیں ڈرتے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6085]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3683
3683. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی جبکہ اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ بہت اصرارکے ساتھ نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ایسے حالات میں ان کی آوازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازی سے بلند ہو رہی تھیں۔ جب حضرت عمر ؓ نے اجازت طلب کی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دی، جب حضرت عمر ؓ اندر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے۔ حضرت عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ آپ کے دندان مقدسہ کو ہمیشہ ہنستا رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں لیکن جب انھوں نے تمھاری آواز سنی تو جلدی سے پس پردہ چلی گئیں۔ عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ زیادہ حق دار ہیں کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3683]
حدیث حاشیہ:
آپ نے دعا فرمائی تھی یا اللہ! اسلام کو عمر یا پھر ابوجہل کے اسلام سے عزت عطاکر۔
اللہ نے حضرت عمر ؓ کے حق میں آپ کی دعا قبول فرمائی۔
جن کے مسلمان ہونے پر مسلمان کعبہ میں اعلانیہ نماز پڑھنے لگے اور تبلیغ اسلام کے لیے راستہ کھل گیا۔
ان کے اسلام لانے کا واقعہ مشہور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3683]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3294
3294. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ اس وقت آپ کے پاس چند قریشی عورتیں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے محو گفتگو تھیں اور باآواز بلند آپ سے خرچہ بڑھانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ لیکن جونہی حضرت عمر ؓنے اجازت طلب کی تو وہ اٹھیں اور جلدی سے پس پردہ چلی گئیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے انھیں اجازت دی تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے (یہ مسکراہٹ کیسی ہے؟) آپ نے فرمایا: میں ان عورتوں پر تعجب کررہا ہوں جو میرے پاس بیٹھی تھی، جب انھوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے حجاب میں چلی گئی ہیں۔ حضرت عمر ؓنے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس امر کے زیادہ حقدار تھے کہ یہ آپ سے ڈریں۔ پھر انہوں نے کہا: اے اپنی جانوں سے دشمنی کرنے والیو! تم مجھ سے ڈرتی ہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3294]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے کہ شیطان حضرت عمر ؓکے سایہ سے بھاگتا ہے۔
رافضیوں نے اس حدیث کی صحت پر اعتراض کیا ہے جو سراسر جہالت اور نفسانیت پر مبنی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہ وقت رحمۃ للعالمین تھے اور بادشاہوں کا رحم و کرم اس درجہ ہوتا ہے کہ بدمعاشوں کو بھی بادشاہ سے فضل و کرم کی توقع ہوتی ہے۔
حضرت عمرؓ کوتوال کی طرح تھے۔
کوتوال کا اصلی فرض یہی ہوتا ہے کہ بدمعاشوں اور ڈاکوؤں کو پکڑے اور بدمعاش جتنا کوتوال سے ڈرتے ہیں، اتنا بادشاہ سے نہیں ڈرتے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3294]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3294
3294. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ اس وقت آپ کے پاس چند قریشی عورتیں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے محو گفتگو تھیں اور باآواز بلند آپ سے خرچہ بڑھانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ لیکن جونہی حضرت عمر ؓنے اجازت طلب کی تو وہ اٹھیں اور جلدی سے پس پردہ چلی گئیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے انھیں اجازت دی تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے (یہ مسکراہٹ کیسی ہے؟) آپ نے فرمایا: میں ان عورتوں پر تعجب کررہا ہوں جو میرے پاس بیٹھی تھی، جب انھوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے حجاب میں چلی گئی ہیں۔ حضرت عمر ؓنے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس امر کے زیادہ حقدار تھے کہ یہ آپ سے ڈریں۔ پھر انہوں نے کہا: اے اپنی جانوں سے دشمنی کرنے والیو! تم مجھ سے ڈرتی ہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3294]
حدیث حاشیہ:

اس حقیقت کے علاوہ حضرت عمر ؓ کی دوخصوصیات نمایاں تھیں جو حسب ذیل ہیں:
الف۔
آپ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے میں کسی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ اس کی پرواہی کرتے تھے۔
کتب حدیث میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں اور یہ عنوان تو مستقل تصنیف کا تقاضا کرتاہے۔
ب۔
آپ دینی معاملات میں بہت سخت تھے۔
ان دوخصوصیات کی بنا پر آپ کو اللہ کی طرف سے یہ اعزاز ملا کہ شیطان آپ کا سامنا نہیں کرسکتا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے آپ کا معصوم ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو حضرات انبیاء ؑ کا خاصا ہے جس میں اور کوئی شریک نہیں ہے۔

شیطان کے فرار سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ وسوسہ اندازی سے بھی عاجز ہوگیا تھا۔
(فتح الباري: 61/7)

دینی پختگی اور فریضہ امر بالمعروف کی ادائیگی سے کسی حد تک شیطان کی شرارتوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
اگرچہ حضرت عمر ؓ جیسا امتیاز تو حاصل نہیں ہوسکتا، تاہم ان صفات سے شیطانی وساوس پر کنٹرول ہوسکتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3294]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3683
3683. حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی جبکہ اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ بہت اصرارکے ساتھ نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ایسے حالات میں ان کی آوازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازی سے بلند ہو رہی تھیں۔ جب حضرت عمر ؓ نے اجازت طلب کی تو وہ جلدی سے پردے میں چلی گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دی، جب حضرت عمر ؓ اندر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے۔ حضرت عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ آپ کے دندان مقدسہ کو ہمیشہ ہنستا رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں لیکن جب انھوں نے تمھاری آواز سنی تو جلدی سے پس پردہ چلی گئیں۔ عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ زیادہ حق دار ہیں کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3683]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے حضرت عمر ؓ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ ان سے شیطان بھی ڈرتا ہے حتی کہ وہ حضرت عمر ؓ کو کسی راستے میں دیکھ کراپنا راستہ بدل لیتا ہے،یعنی خود شیطان بھی ان سے بہت ہبیت زدہ اور ہراساں ہے۔

حضرت عمر ؓ کو عورتوں کا ہیبت زدہ ہونا اسی طرح معلوم ہوا کہ وہ جلدی سےصرف آواز ہی سن کر پردے میں چلی گئیں،اگرصرف پردہ ہی مقصود تھا تو وہاں بیٹھی بیٹھی اپنی چادروں سے پردہ کرسکتی تھیں۔
اس کے علاوہ کچھ عورتیں حضرت عمر کی محارم تھیں جیسا کہ حضر ت حفصہ ؓہیں،ان سب کا پردے میں چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سب حضرت عمر ؓ سے ہبیت زدہ تھیں اور آپ سے ڈرتی تھیں۔
صرف پردہ کرنے کے لیے ہی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہیں اٹھی تھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کردار پر اس لیے تعجب کیا کہ انھوں نے جلد بازی سے کام لیا اور اس امر کا انتظار نہیں کیا کہ حضرت عمر ؓکو اندر آنے کی اجازت ملتی ہے یا نہیں۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3683]

Sahih Bukhari Hadith 6085 in Urdu