صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. باب قول الرجل للرجل اخسأ:
باب: کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو۔
حدیث نمبر: 6172
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ:" قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَمَا هُوَ؟" قَالَ: الدُّخُّ، قَالَ:" اخْسَأْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6172]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابنِ صائد سے فرمایا: ”میں نے (اس وقت) اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے وہ کیا ہے؟“ وہ بولا: «الدُّخُّ» ”دخان“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چل دفع ہو جا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6172]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6172
| خبأت لك خبيئا فما هو قال الدخ قال اخسأ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6172 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6172
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن صیاد کے متعلق دجال ہونے کا اندیشہ تھا۔
حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں سورۃ الدخان تصور کیا، پھر ابن صیاد سے فرمایا:
تو رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے تو بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ شیطان نے لفظ دخ تک اس کی رہنمائی کی تو وہ بھی دُخ دُخ کہنے لگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ذلیل انسان دور ہو جا، اب تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
“ اب تو انسانی وقار کے قابل نہیں رہا، بلکہ تو حیوانات سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔
اس واقعے کی مزید تفصیل درج ذیل حدیث میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن صیاد کے متعلق دجال ہونے کا اندیشہ تھا۔
حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں سورۃ الدخان تصور کیا، پھر ابن صیاد سے فرمایا:
تو رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے تو بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ شیطان نے لفظ دخ تک اس کی رہنمائی کی تو وہ بھی دُخ دُخ کہنے لگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ذلیل انسان دور ہو جا، اب تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
“ اب تو انسانی وقار کے قابل نہیں رہا، بلکہ تو حیوانات سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔
اس واقعے کی مزید تفصیل درج ذیل حدیث میں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6172]
Sahih Bukhari Hadith 6172 in Urdu
عمران بن ملحان العطاردي ← عبد الله بن العباس القرشي