🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. باب لا يقل خبثت نفسي:
باب: آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس پلید ہو گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6180
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، وہ زہری سے، وہ ابوامامہ بن سہل سے، وہ اپنے باپ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا لیکن یوں کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔ اس حدیث کو عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالدثقة ثبت
👤←👥سهل بن حنيف الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو ثابت، أبو الوليد، أبو سعد
Newسهل بن حنيف الأنصاري ← عقيل بن خالد الأيلي
صحابي
👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة
Newأسعد بن سهل الأنصاري ← سهل بن حنيف الأنصاري
له رؤية
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6180
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
صحيح مسلم
5880
لا يقل أحدكم خبثت نفسي وليقل لقست نفسي
سنن أبي داود
4978
لا يقولن أحدكم خبثت نفسي وليقل لقست نفسي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6180 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6180
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے لیے ایسے الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے جو اس کی عزت و کرامت کے منافی نہ ہوں، ایسے برے الفاظ اور برے ناموں سے بچنا چاہیے جو انسانی وقار کے خلاف ہوں۔
(2)
حدیث میں لفظ خبیث کے بجائے لقس کے لفظ کو اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے، حالانکہ دونوں کا مفہوم ایک ہے لیکن خبیث کا لفظ اور ظاہری معنی انسانی وقار کے خلاف تھے، اس لیے اس سے باز رہنے کا کہا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی برے ناموں کے بجائے اچھے نام رکھ دیتے تھے۔
(فتح الباري: 692/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6180]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4978
میرا نفس خبیث ہو گیا کہنے کی ممانعت کا بیان۔
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی میرا نفس خبیث ہو گیا نہ کہے، بلکہ یوں کہے میرا جی پریشان ہو گیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4978]
فوائد ومسائل:
چونکہ لفظ خبث اور خبیث کا اطلاق باطل اعتقاد کفر (جھوٹ) اور حرام کاموں پر بھی ہوتا ہے۔
اس لیے ہدایت فرمائی گئی کہ مسلمان کی زبان نامناسب الفاظ سے پاک رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4978]