صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب سكرات الموت:
باب: موت کی سختیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 6510
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ، يَشُكُّ عُمَرُ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ"، ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْعُلْبَةُ مِنَ الْخَشَبِ، وَالرَّكْوَةُ مِنَ الْأَدَمِ.
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات کے وقت) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے، پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6510]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کے سامنے لکڑی یا چمڑے کا ایک بڑا برتن تھا جس میں پانی تھا۔ عمر بن سعید کو شک ہے۔ آپ اپنا ہاتھ اس پانی میں ڈالتے، پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بلاشبہ موت بہت سی تکلیفوں پر مشتمل ہے۔“ پھر آپ نے اپنا دست مبارک اوپر اٹھایا اور فرمایا: «فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى» ”رفیقِ اعلیٰ کو پسند کرتا ہوں۔“ یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کر لی گئی اور آپ کا ہاتھ مبارک نیچے ڈھلک گیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ”علبہ لکڑی کا اور رکوہ چمڑے کا برتن ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6510]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6510
| إن للموت سكرات في الرفيق الأعلى حتى قبض ومالت يده |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6510 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6510
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ موت کی سختی کوئی پریشانی نہیں ہے بلکہ نیک بندوں پر اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے درجات بلند ہوں۔
معلوم ہوا کہ موت کی سختی کوئی پریشانی نہیں ہے بلکہ نیک بندوں پر اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے درجات بلند ہوں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6510]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6510
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی:
”اے اللہ! موت کی سختیاں برداشت کرنے پر میری مدد فرما۔
“ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1623)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
جب میں نے موت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو کسی کے لیے موت کی شدت مجھے ناگوار نہیں گزرتی تھی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4446)
معلوم ہوا کہ موت کی سختی کوئی بری نشانی نہیں بلکہ نیک بندوں پر موت کی سختی اس لیے ہوتی ہے کہ ان کے درجات بلند ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں اعلیٰ مراتب ملیں۔
واللہ المستعان
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی:
”اے اللہ! موت کی سختیاں برداشت کرنے پر میری مدد فرما۔
“ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1623)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
جب میں نے موت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو کسی کے لیے موت کی شدت مجھے ناگوار نہیں گزرتی تھی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4446)
معلوم ہوا کہ موت کی سختی کوئی بری نشانی نہیں بلکہ نیک بندوں پر موت کی سختی اس لیے ہوتی ہے کہ ان کے درجات بلند ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں اعلیٰ مراتب ملیں۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6510]
Sahih Bukhari Hadith 6510 in Urdu
ذكوان المدني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق