🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب صفة الجنة والنار:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6564
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ:" لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ".
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے قیامت کے دن میری شفاعت ان کے کام آ جائے اور انہیں جہنم میں ٹخنوں تک رکھا جائے جس سے ان کا بھیجا کھولتا رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6564]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الله بن خباب الأنصاري
Newعبد الله بن خباب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← عبد الله بن خباب الأنصاري
ثقة مكثر
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← يزيد بن الهاد الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن حمزة الزبيري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن حمزة الزبيري ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3885
لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من النار يبلغ كعبيه يغلي منه دماغه
صحيح البخاري
6564
لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من النار يبلغ كعبيه يغلي منه أم دماغه
صحيح مسلم
513
لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من نار يبلغ كعبيه يغلي منه دماغه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6564 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6564
حدیث حاشیہ:
قرآن شریف میں ﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ (مدثر: 48) (ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کام نہ دے گی)
لیکن آیت میں نفع سے یہ مراد ہے کہ وہ دوزخ سے نکال لیے جائیں، یہ فائدہ کافروں اور مشرکوں کے لیے نہیں ہوسکتا۔
اس صورت میں حدیث اور آیت میں اختلاف نہیں رہے گا مگر دوسری آیت میں جو یہ فرمایا ﴿فلا یُخَفَّفُ عَنهُمُ العذابُ﴾ (البقرة: 86) (یعنی ان سے عذاب کم نہیں کیا جائے گا)
اس کا جواب یوں بھی دے سکتے ہیں کہ جو عذاب ان پر شروع ہوگا وہ ہلکا نہیں ہوگا یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ بعض کافروں پر شروع ہی سے ہلکا عذاب مقرر کیا جائے، بعض کے لیے سخت ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6564]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 6564
فوائد و مسائل:
یہ حدیث درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
[صحيح مسلم:210 يا 513]
[مسند احمد:55،50،9،8/3]
[مسند ابي يعلٰي:1360]
[صحيح ابي عوانه:98،97/1]
[صحيح ابن حبان:6238 يا 6271، وسنده صحيح]
[دلائل النبوه للبهيقي:347/2]
معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے آپ کے چچا کے عذاب میں کچھ تخفیف ہو گی لیکن اس تخفیف کے باوجود اس کا دماغ آگ کی گرمی کی وجہ سے کھول رہا ہو گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض جہنمیوں کو دوسرے جہنمیوں کے مقابلے میں زیادہ عذاب ہوتا ہے۔ یہ بات قرآن مقدس کی کسی آيت کے خلاف نہیں ہے۔ قرآن مقدس میں جس استغفار و شفاعت سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد مذکور شخص کے لئے جہنم کے عذاب کا خاتمہ اور جنت میں داخلہ ہے اور یہ دونوں باتیں ابوطالب والی حدیث مذکور میں مفقود ہیں قرآن و حدیث میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
[توفيق الباري في تطبيق القرآن و صحيح بخاري، حدیث/صفحہ نمبر: 34]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6564
حدیث حاشیہ:
(1)
قرآن مجید میں ہے:
کفار کو سفارش کرنے والوں کی سفارش کام نہیں دے گی۔
(المدثر: 48)
اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں جہنم سے نہیں نکالا جائے گا۔
ایک دوسری آیت میں ہے کہ کفار سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔
(البقرة: 86/2)
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو عذاب ان پر شروع ہو گا اس میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔
ابو طالب پر شروع ہی سے ہلکا عذاب ہو گا۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہنم میں تمام کفار کو ایک جیسا عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ اس میں مختلف مدارج ہوں گے۔
عقل اس کا تقاضا کرتی ہے کہ کچھ کافر اپنے کفر کے ساتھ اسلام کے دشمن بھی ہوں گے لیکن کچھ کافر کفر پر ہوں گے لیکن مسلمانوں کے ساتھ ان کی دشمنی نہیں ہو گی۔
سورۂ ممتحنہ میں کفار کی اس تفریق کو برقرار رکھا گیا ہے۔
واللہ اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6564]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 513
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ ہوا، آپؐ نے فرمایا: امید ہے، قیامت کے دن میری سفارش اس کو نفع دے گی اور اسے ہلکی آگ میں ڈالا جائے گا، جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی، اس سے اس کا دماغ کَھول رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:513]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وحمایت اور آپ کا تحفظ ودفاع،
اللہ تعالیٰ کے ہاں،
اس درجہ مقبول ہے کہ کفر کے باوجود،
یہ ابو طالب کے حق میں نفع مندہوگا،
لیکن اس قدرمحبت وپیار،
نصرت وحمایت اورانتہائی قریبی رشتہ داری کے باوجود کفر کی غلاظت کی بنا پر وہ دوزخ سےنہیں نکل سکے گا،
اور اپنے کفر کی بنا پر جس عذاب کامستحق ہوگا،
اس میں کمی نہیں ہوگی۔
کفر کی شدت اور اعمال فاسدہ کی کثرت وقلت کی بنا پرسب کافر ایک جیسے عذاب کے حق دارنہیں ہوں گے،
لیکن ابو طالب کے عذاب کی تخفیف وتقلیل (قلت)
سے آپ کے والدین کے ایمان پر استدلال کرناعجیب منطق ہے،
ابو طالب کےبارےمیں سفارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ بھی ہوسکتاہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 513]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3885
3885. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: قیامت کے دن اس کو میری سفارش کچھ فائدہ دے گی کہ کم گہری آگ میں رکھا جائے گا جس میں اس کے صرف ٹخنے ڈوبے ہوں گے مگر اس سے بھی اس کا دماغ ابل رہا ہو گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3885]
حدیث حاشیہ:
روایت میں ابو طالب کا ذکر ہے یہی وجہ منا سبت باب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3885]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3885
3885. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب آپ کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: قیامت کے دن اس کو میری سفارش کچھ فائدہ دے گی کہ کم گہری آگ میں رکھا جائے گا جس میں اس کے صرف ٹخنے ڈوبے ہوں گے مگر اس سے بھی اس کا دماغ ابل رہا ہو گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3885]
حدیث حاشیہ:

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دعوت حق پیش کی تو اس نے کہا:
اگر مجھے قریش کی عار کا اندیشہ نہ ہو کہ وہ کہیں گے ابو طالب نے موت سے گھبرا کر اپنا دین چھوڑدیا ہے، تو میں ضرور تیری آنکھیں ٹھنڈی کرتا۔
(مسند أحمد: 441/2)
بہر حال اس نے کلمہ نہیں پڑھا، اس لیے وہ عذاب میں گرفتار ہوگا۔

ایک روایت میں ہے کہ جب اس کا دماغ ابلنے لگے گا تو اندر سے بھیجا نکل کر اس کے قدموں پر پڑے گا۔
(السیرةالنبویة لابن ِسحاق: 65/1، وفتح الباري: 245/7۔
246)
کفار کے اعمال انھیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے لیکن ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ فائدہ ضرورہوگا۔
یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت اور آپ کی برکت ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل جہنم کے عذاب کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہوگی۔
(فتح الباري: 246/7)
4اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی صحیح رہنمائی کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمے داری ہے لیکن صراط مستقیم پر چلانا اللہ تعالیٰ کا اختیارہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو راہ راست پر نہیں لا سکتے آپ صرف راستہ دکھا سکتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے۔
(الشوری: 42۔
52)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3885]

Sahih Bukhari Hadith 6564 in Urdu