صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب إذا حنث ناسيا فى الأيمان:
باب: اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں۔
حدیث نمبر: 6668
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ: أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ"، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَبِي أَبِي، قَالَتْ:" فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ"، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ عُرْوَةُ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6668]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”غزوہ احد میں مشرکین شکست سے دوچار ہوئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہوگئی تو شیطان لعین زور سے چلایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے سے دشمن کا خیال کرو“، چنانچہ آگے والے لوگ پیچھے کی طرف پلٹ پڑے پھر یہ (آگے والے) اور پیچھے والے باہم مصروف پیکار ہو گئے۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اچانک ان کے والد اس جماعت میں ہیں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پکارنے لگے: ”یہ میرا باپ ہے! یہ میرا باپ ہے!“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! لوگ پھر بھی نہ رکے حتیٰ کہ انہیں قتل کر دیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ» ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔““ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد گرامی کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک افسوس رہا یہاں تک کہ وہ اپنے اللہ سے جا ملے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6668]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3290
| لما كان يوم أحد هزم المشركون فصاح إبليس أي عباد الله أخراكم فرجعت أولاهم فاجتلدت هي وأخراهم فنظر حذيفة فإذا هو بأبيه اليمان فقال أبي فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه فقال حذيفة غفر الله لكم |
صحيح البخاري |
3824
| لما كان يوم أحد هزم المشركون هزيمة بينة فصاح إبليس أي عباد الله أخراكم فرجعت أولاهم على أخراهم فاجتلدت أخراهم فنظر حذيفة فإذا هو بأبيه فنادى أبي فقالت فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه فقال حذيفة غفر الله لكم |
صحيح البخاري |
6668
| هزم المشركون يوم أحد هزيمة تعرف فيهم فصرخ إبليس أي عباد الله أخراكم فرجعت أولاهم فاجتلدت هي وأخراهم فنظر حذيفة بن اليمان فإذا هو بأبيه فقال أبي قالت فوالله ما انحجزوا حتى قتلوه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6668 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6668
حدیث حاشیہ:
جنگ احد میں ابلیس معلون نے دھوکا دیا پیچھے سے مسلمان ہی آ رہے تھے مگر ان کو کافر بتلا کر آگے والے مسلمانوں کو ان سے ڈرایا وہ گھڑاہٹ میں اپنے ہی لوگوں پر پلٹ پڑے اورحضرت حذیفہ کے والد یمان کو شہید کر دیا۔
اس روایت کی مطابقت باب سے یوں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے قسم کھا کر کہا۔
بعضوں نے یہ مطابقت بتلائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسلمانوں سےکچھ نہیں کہا جنہوں نے حذیفہ کے باپ کو بھول سے قتل كر دیا تھا تو اس طرح بھول چوک سے اگر قسم توڑ دے تو کفارہ واجب نہ ہوگا۔
حضرت حذیفہ کو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص رازداں کہا گیا ہے۔
شہادت عثمان کے چالیس دن بعد 35ھ میں مدائن میں ان کا انتقال ہوا۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
ایک روایت میں بقیة خیر کا لفظ ہے تو ترجمہ یہ ہوگا کہ حذیفہ پر مرتے دم تک اس خیر وبرکت کا اثر رہا یعنی اس دعا کا جو انہوں نے مسلمانوں کے لیے کی تھی کہ اللہ تم کو بخشے اس روایت کی مطابقت باب سے یوں ہےکہ حضرت عائشہ ؓ نے قسم کھا کر کہا فواللہ مازالت في حذیفة۔
جنگ احد میں ابلیس معلون نے دھوکا دیا پیچھے سے مسلمان ہی آ رہے تھے مگر ان کو کافر بتلا کر آگے والے مسلمانوں کو ان سے ڈرایا وہ گھڑاہٹ میں اپنے ہی لوگوں پر پلٹ پڑے اورحضرت حذیفہ کے والد یمان کو شہید کر دیا۔
اس روایت کی مطابقت باب سے یوں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے قسم کھا کر کہا۔
بعضوں نے یہ مطابقت بتلائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسلمانوں سےکچھ نہیں کہا جنہوں نے حذیفہ کے باپ کو بھول سے قتل كر دیا تھا تو اس طرح بھول چوک سے اگر قسم توڑ دے تو کفارہ واجب نہ ہوگا۔
حضرت حذیفہ کو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص رازداں کہا گیا ہے۔
شہادت عثمان کے چالیس دن بعد 35ھ میں مدائن میں ان کا انتقال ہوا۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
ایک روایت میں بقیة خیر کا لفظ ہے تو ترجمہ یہ ہوگا کہ حذیفہ پر مرتے دم تک اس خیر وبرکت کا اثر رہا یعنی اس دعا کا جو انہوں نے مسلمانوں کے لیے کی تھی کہ اللہ تم کو بخشے اس روایت کی مطابقت باب سے یوں ہےکہ حضرت عائشہ ؓ نے قسم کھا کر کہا فواللہ مازالت في حذیفة۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6668]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6668
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ''بقية خير'' کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4065)
اس روایت کے مطابق ترجمہ یوں ہو گا:
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پر مرتے دم تک اس دعا کی خیر و برکت کا اثر رہا جو اس وقت انہوں نے اپنے باپ کے قاتلوں کے لیے کی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔
(فتح الباري: 674/11) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو کچھ نہیں کہا جنہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد کو بھول کر غلطی اور لاعلمی میں شہید کر دیا تھا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بھول چوک سے اپنی قسم توڑ دے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ''بقية خير'' کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4065)
اس روایت کے مطابق ترجمہ یوں ہو گا:
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پر مرتے دم تک اس دعا کی خیر و برکت کا اثر رہا جو اس وقت انہوں نے اپنے باپ کے قاتلوں کے لیے کی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔
(فتح الباري: 674/11) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو کچھ نہیں کہا جنہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد کو بھول کر غلطی اور لاعلمی میں شہید کر دیا تھا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص بھول چوک سے اپنی قسم توڑ دے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6668]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3824
3824. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب غزوہ اُحد میں مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کو قتل کرو۔ آگے والے مسلمان پیچھے والے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ ؓ نے اپنے والد گرامی کو دیکھا (کہ مسلمان انہیں قتل کر رہے ہیں) توبہ آواز بلند کہا: اللہ کے بندو! یہ میرے والد گرامی ہیں۔ یہ میرے باپ ہیں۔ لیکن لوگ نہ رُکے حتی کہ انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا: اللہ تعالٰی تمہیں معاف فرمائے۔ ہشام کے والد عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس کے باعث ہمیشہ دعا کرتے رہتے حتی کہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3824]
حدیث حاشیہ:
اس سے ان کے صبر و استقلال اور فہم و فراست کا پتہ چلتا ہے۔
غلط فہمی میں انسان کیا سے کیا کر بیٹھتا ہے۔
ا س لئے اللہ کا ارشاد ہے کہ ہر سنی سنائی خبر کا یقین نہ کرلیا کرو جب تک اس کی تحقیق نہ کر لو۔
اس سے ان کے صبر و استقلال اور فہم و فراست کا پتہ چلتا ہے۔
غلط فہمی میں انسان کیا سے کیا کر بیٹھتا ہے۔
ا س لئے اللہ کا ارشاد ہے کہ ہر سنی سنائی خبر کا یقین نہ کرلیا کرو جب تک اس کی تحقیق نہ کر لو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3824]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3290
3290. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب غزوہ احد میں مشرکین شکست خوردہ ہوئے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کی خبر لو۔ آگے والے پچھلوں پر ٹوٹ پڑے اور آپس میں الجھ گئے۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ ؓنے دیکھاکہ ان کے والد حضرت یمان ؓبھی پیچھے تھے۔ انھوں نے کہا: اللہ کے بندو!یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں، لیکن اللہ کی قسم! مسلمان نہ رکے حتیٰ کہ انھوں نے ان کو قتل کردیا۔ حضرت حذیفہ ؓنے صرف اتنا کہا: اللہ تمھیں معاف کرے (یہ تم نے کیاکیا ہے؟) حضرت عروہ فرماتے ہیں: پھر حضرت حذیفہ ہمیشہ (آخری دم تک اپنے والد کے قاتلوں کے لیے) دعائے خیر کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ سے جاملے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3290]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو حذیفہ ؓ کو ان کے باپ کی دیت آپ دلانے گئے۔
لیکن حذیفہ ؓ نے وہ بھی مسلمانوں کو معاف کردیا، سبحان اللہ! صحابہ ؓکی ایک ایک نیکی ہماری عمر بھر کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو حذیفہ ؓ کو ان کے باپ کی دیت آپ دلانے گئے۔
لیکن حذیفہ ؓ نے وہ بھی مسلمانوں کو معاف کردیا، سبحان اللہ! صحابہ ؓکی ایک ایک نیکی ہماری عمر بھر کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3290]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3290
3290. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب غزوہ احد میں مشرکین شکست خوردہ ہوئے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کی خبر لو۔ آگے والے پچھلوں پر ٹوٹ پڑے اور آپس میں الجھ گئے۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ ؓنے دیکھاکہ ان کے والد حضرت یمان ؓبھی پیچھے تھے۔ انھوں نے کہا: اللہ کے بندو!یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں، لیکن اللہ کی قسم! مسلمان نہ رکے حتیٰ کہ انھوں نے ان کو قتل کردیا۔ حضرت حذیفہ ؓنے صرف اتنا کہا: اللہ تمھیں معاف کرے (یہ تم نے کیاکیا ہے؟) حضرت عروہ فرماتے ہیں: پھر حضرت حذیفہ ہمیشہ (آخری دم تک اپنے والد کے قاتلوں کے لیے) دعائے خیر کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ سے جاملے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3290]
حدیث حاشیہ:
1۔
ابلیس لعین کا یہ مقصد تھا کہ مسلمانوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرکے انھیں آپس میں لڑادے، چنانچہ اگلے لوگوں نے پچھلوں کو مشرک سمجھتے ہوئے ان پر حملہ کردیا اور وہ آپس میں الجھ کررہ گئے۔
اس بھگدڑ کے نتیجے میں حضرت یمان ؓقتل کردیے گئے۔
2۔
بہرحال یہ ابلیس کا ایک فریب تھا، جس میں وہ کامیاب ہوا جو کہ شدت کی جنگ تھی۔
مسلمان غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے، اس لیے اس غلطی میں حضرت حذیفہ ؓ کے والد گرامی قتل ہوگئے۔
حضرت حذیفہ ؓ نے اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کردیا اور ہمیشہ ان کے لیے دعا اور استغفار کرتے رہے۔
اگرہمارے جیسا کوئی ہوتا تو ایسے موقع پر ہنگامہ کھڑا کردیتا لیکن یہ صحابہ کرام ؓ کی عظمت تھی کہ وہ مشکل حالات میں بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔
۔
۔
رضوان اللہ عنھم أجمعین۔
۔
۔
1۔
ابلیس لعین کا یہ مقصد تھا کہ مسلمانوں کو غلط فہمی میں مبتلا کرکے انھیں آپس میں لڑادے، چنانچہ اگلے لوگوں نے پچھلوں کو مشرک سمجھتے ہوئے ان پر حملہ کردیا اور وہ آپس میں الجھ کررہ گئے۔
اس بھگدڑ کے نتیجے میں حضرت یمان ؓقتل کردیے گئے۔
2۔
بہرحال یہ ابلیس کا ایک فریب تھا، جس میں وہ کامیاب ہوا جو کہ شدت کی جنگ تھی۔
مسلمان غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے، اس لیے اس غلطی میں حضرت حذیفہ ؓ کے والد گرامی قتل ہوگئے۔
حضرت حذیفہ ؓ نے اپنے باپ کے قاتلوں کو معاف کردیا اور ہمیشہ ان کے لیے دعا اور استغفار کرتے رہے۔
اگرہمارے جیسا کوئی ہوتا تو ایسے موقع پر ہنگامہ کھڑا کردیتا لیکن یہ صحابہ کرام ؓ کی عظمت تھی کہ وہ مشکل حالات میں بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے تھے۔
۔
۔
رضوان اللہ عنھم أجمعین۔
۔
۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3290]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3824
3824. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب غزوہ اُحد میں مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کو قتل کرو۔ آگے والے مسلمان پیچھے والے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ ؓ نے اپنے والد گرامی کو دیکھا (کہ مسلمان انہیں قتل کر رہے ہیں) توبہ آواز بلند کہا: اللہ کے بندو! یہ میرے والد گرامی ہیں۔ یہ میرے باپ ہیں۔ لیکن لوگ نہ رُکے حتی کہ انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا: اللہ تعالٰی تمہیں معاف فرمائے۔ ہشام کے والد عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس کے باعث ہمیشہ دعا کرتے رہتے حتی کہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3824]
حدیث حاشیہ:
1۔
ممکن ہے کہ ابلیس نے مشرکین کو آواز دے کر کہا ہو کہ تم اپنے پچھلے لوگوں پر حملہ کروجو مسلمان ہیں، لیکن اس سے مسلمان غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے۔
چونکہ وہ شدت کی لڑائی تھی اور اس میں غلطی سے حضرت حذیفہ ؓ کے والد محترم حضرت یمان ؓ مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے جنھوں نے اسے قتل کیاتھا وہ عقبہ بن مسعود ؓ تھے، حضرت حذیفہ ؓ نے انھیں معاف کردیا اور ان کے قاتل کے لیے ہمیشہ دعا اور استغفار کرتے رہے۔
2۔
اس حدیث سے حضرت حذیفہ ؓ کے صبرواستقلال اور ان کی فہم وفراست کا پتہ چلتا ہے۔
3۔
غلط فہمی سے انسان کیا سے کیا کر بیٹھتا ہے، اس لیے حکم ہے کہ ہر سنی سنائی بات کا یقین نہ کرو جب تک اس کی تحقیق نہ کرلو۔
1۔
ممکن ہے کہ ابلیس نے مشرکین کو آواز دے کر کہا ہو کہ تم اپنے پچھلے لوگوں پر حملہ کروجو مسلمان ہیں، لیکن اس سے مسلمان غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے۔
چونکہ وہ شدت کی لڑائی تھی اور اس میں غلطی سے حضرت حذیفہ ؓ کے والد محترم حضرت یمان ؓ مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے جنھوں نے اسے قتل کیاتھا وہ عقبہ بن مسعود ؓ تھے، حضرت حذیفہ ؓ نے انھیں معاف کردیا اور ان کے قاتل کے لیے ہمیشہ دعا اور استغفار کرتے رہے۔
2۔
اس حدیث سے حضرت حذیفہ ؓ کے صبرواستقلال اور ان کی فہم وفراست کا پتہ چلتا ہے۔
3۔
غلط فہمی سے انسان کیا سے کیا کر بیٹھتا ہے، اس لیے حکم ہے کہ ہر سنی سنائی بات کا یقین نہ کرو جب تک اس کی تحقیق نہ کرلو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3824]
Sahih Bukhari Hadith 6668 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق