صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم} :
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے“۔
حدیث نمبر: 6862
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا".
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعد بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے (اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے) جب تک ناحق خون نہ کرے جہاں ناحق کیا تو مغفرت کا دروازہ تنگ ہو جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6862]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن آدمی اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے جب تک خونِ ناحق نہ کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6862]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سعيد بن عمرو الأموي، أبو عثمان، أبو عنبسة سعيد بن عمرو الأموي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥إسحاق بن سعيد القرشي إسحاق بن سعيد القرشي ← سعيد بن عمرو الأموي | ثقة | |
👤←👥علي بن الجعد الجوهري، أبو الحسن علي بن الجعد الجوهري ← إسحاق بن سعيد القرشي | ثقة ثبت رمي بالتشيع |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6862
| لن يزال المؤمن في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6862 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6862
حدیث حاشیہ:
مومن کا سینہ کشادہ رہتا ہے اور اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے لیکن جب وہ بلاوجہ کسی کو قتل کردے تو تنگی میں پڑ جاتا ہے اور اس کے لیے مغفرت کا دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے کیونکہ بلاوجہ قتل کرنے کے متعلق بہت سخت وعید آئی ہے،اتنی سنگین وعید کسی دوسرے جرم کے متعلق نہیں ہے،اس وجہ سے اس کا دین اس پر تنگ ہوجاتا ہے۔
(فتح الباري: 233/12)
مومن کا سینہ کشادہ رہتا ہے اور اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے لیکن جب وہ بلاوجہ کسی کو قتل کردے تو تنگی میں پڑ جاتا ہے اور اس کے لیے مغفرت کا دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے کیونکہ بلاوجہ قتل کرنے کے متعلق بہت سخت وعید آئی ہے،اتنی سنگین وعید کسی دوسرے جرم کے متعلق نہیں ہے،اس وجہ سے اس کا دین اس پر تنگ ہوجاتا ہے۔
(فتح الباري: 233/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6862]
Sahih Bukhari Hadith 6862 in Urdu
سعيد بن عمرو الأموي ← عبد الله بن عمر العدوي