الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم} :
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے“۔
حدیث نمبر: 6865
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، وَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، أَأَقْتُلُهُ؟ قَالَ: لَا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ، فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، کہا مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عدی نے بیان کیا، ان سے بنی زہرہ کے حلیف مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ بدر کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تمہارے مرتبہ میں ہو گا جو تمہارا اسے قتل کرنے سے پہلے تھا یعنی معصوم معلوم الدم اور تم اس کے مرتبہ میں ہو گے جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا جو اس نے اب کیا ہے (یعنی ظالم مباح الدم)۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6865]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المقداد بن الأسود الكندي، أبو الأسود، أبو معبد، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عدي القرشي عبيد الله بن عدي القرشي ← المقداد بن الأسود الكندي | لم تثبت صحبته | |
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد عطاء بن يزيد الجندعي ← عبيد الله بن عدي القرشي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عطاء بن يزيد الجندعي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6865
| لا تقتله فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله وأنت بمنزلته قبل أن يقول كلمته التي قال |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6865 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6865
حدیث حاشیہ:
(1)
کافر، کلمہ پڑھنے سے پہلے مباح الدم تھا، یعنی اسے قتل کرنا حلال تھا، جب اس نے کلمہ پڑھ تو دوسرے مسلمانوں کی طرح اس کا خون محفوظ ہو گیا، یعنی وہ معصوم الدم ٹھہرا، اس کے بعد اگر کوئی مسلمان اسے قتل کرے گا تو اسے قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔
(2)
حدیث میں تشبیہ اباحت دم میں ہے، کافر ہو جانے میں تشبیہ نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ کلمۂ اسلام کہنے والے کو قتل کرنا ممنوع اور حرام ہے۔
ابن بطال رحمہ اللہ نے مہلب سے اس کے معنی اس طرح بیان کیے ہیں کہ تو اس کے قتل کے ارادے سے گناہ گار ہوگا جیسے وہ تیرے قتل کے ارادے سے گناہ گار تھا۔
نافرمانی کرنے میں تم دونوں ایک ہی مقام پر ہوگے۔
(فتح الباري: 235/12)
(1)
کافر، کلمہ پڑھنے سے پہلے مباح الدم تھا، یعنی اسے قتل کرنا حلال تھا، جب اس نے کلمہ پڑھ تو دوسرے مسلمانوں کی طرح اس کا خون محفوظ ہو گیا، یعنی وہ معصوم الدم ٹھہرا، اس کے بعد اگر کوئی مسلمان اسے قتل کرے گا تو اسے قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔
(2)
حدیث میں تشبیہ اباحت دم میں ہے، کافر ہو جانے میں تشبیہ نہیں۔
مقصد یہ ہے کہ کلمۂ اسلام کہنے والے کو قتل کرنا ممنوع اور حرام ہے۔
ابن بطال رحمہ اللہ نے مہلب سے اس کے معنی اس طرح بیان کیے ہیں کہ تو اس کے قتل کے ارادے سے گناہ گار ہوگا جیسے وہ تیرے قتل کے ارادے سے گناہ گار تھا۔
نافرمانی کرنے میں تم دونوں ایک ہی مقام پر ہوگے۔
(فتح الباري: 235/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6865]
عبيد الله بن عدي القرشي ← المقداد بن الأسود الكندي