🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَالْعِلْمِ كَيْ لاَ يَنْفِرُوا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے شعبہ نے، ان سے ابوالتیاح نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 69]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دین میں) آسانی کرو، سختی نہ کرو اور لوگوں کو خوشخبری سناؤ، انہیں (ڈرا ڈرا کر) متنفر نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7596 12811

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
69
يسروا ولا تعسروا وبشروا ولا تنفروا
صحيح البخاري
6125
يسروا ولا تعسروا وسكنوا ولا تنفروا
صحيح مسلم
4528
يسروا ولا تعسروا وسكنوا ولا تنفروا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 69 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 69
� تشریح:
معلّمین و اساتذہ و واعظین و خطباء اور مفتی حضرات سب ہی کے لیے یہ ارشاد واجب العمل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 69]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:69
حدیث حاشیہ:
1۔
اصول تعلیم یہ ہے کہ تعلیم کے لیے نشاط اور دلچسپی کا خیال رکھا جائے اس میں زیادہ شدت صحیح نہیں کہ طلباء کے دماغ تھک جائیں اور بالآخر وہ اپنے اندر بے دلی اور کم ہمتی محسوس کرنے لگیں۔
حدیث بالا میں اسی پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ڈرانے دھمکانے کا عمل نفرت کا باعث ہوتا ہے، اس لیے خوشخبری کے مقابلے میں نفرت کو بیان کیا گیا ہے حالانکہ خوشخبری کے مقابلے میں ڈرانا ہوتا ہے اس لیے ایک مبلغ اور معلم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرے ڈرانے دھمکانے سے نفرت پیدا ہوگی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ گھبرا کر ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔
(فتح الباري: 215/1)
2۔
واعظین کو چاہیے کہ وہ وعظ کرتے وقت ایسا پرکشش اور جاذب نظر اسلوب اختیار کریں جس سے لوگوں کے دلوں میں رغبت و محبت پیدا ہو صرف قرآن و حدیث میں آمدہ وعیدوں ہی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ قرآن کریم کے طرز پر بشارت و انذار کو ساتھ ساتھ رکھا جائے۔
اگر ہمیشہ بشارت ہی دی جائے گی تو لوگ رحمت پر بھروسہ کر کے بے خوف ہو جائیں گے اور اگر وعید ہی وعید پر زور ہوگا۔
تو لوگ رحمت سے مایوس ہو جائیں گے اور یہ دونوں چیزیں ایک متلاشی حق کے لیے بہت خطرناک ہیں مذکورہ حدیث میں تعلیم و تبلیغ کے لیے ایک درمیانی راہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 69]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6125
6125. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسانی کرو تنگی میں نہ ڈالو۔ لوگوں کو تسلی دو۔ ان کے لیے نفرت کی فضا پیدا نہ کرو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6125]
حدیث حاشیہ:
(1)
دین اسلام کی بنیاد آسانی پر رکھی گئی ہے جیسا کہ درج ذیل آیات سے معلوم ہوتا ہے:
٭ ”اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے وہ تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔
'' (البقرة: 2: 185)
٭ ”اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کرے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔
“ (النساء4: 28)
٭ ”اس نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔
“ (الحج22: 78)
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے تو ابتدائے اسلام میں اس کی تالیف کرو اور اس قدر سختی نہ کرو کہ وہ اس سے نفرت کرتے ہوئے بھاگ جائے۔
(2)
ابتدا میں جس انسان کے لیے آسانی ہو وہ بعد کی سختی کو بخوشی قبول کر لیتا ہے اور شروع میں اس پر سختی کی جائے تو نتیجہ برعکس نکلتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6125]

Sahih Bukhari Hadith 69 in Urdu