🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب كشف المرأة فى المنام:
باب: خواب میں عورت کا منہ کھولنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7011
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُهَا، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے لیے جا رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، ان کے (چہرے سے) پردہ ہٹاؤ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7011]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن إسماعيل الهباري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسماعيل الهباري ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7011
أريتك في المنام مرتين إذا رجل يحملك في سرقة من حرير فيقول هذه امرأتك فأكشفها فإذا هي أنت فأقول إن يكن هذا من عند الله يمضه
صحيح البخاري
5078
أريتك في المنام مرتين إذا رجل يحملك في سرقة حرير فيقول هذه امرأتك فأكشفها فإذا هي أنت فأقول إن يكن هذا من عند الله يمضه
صحيح البخاري
7012
أريتك قبل أن أتزوجك مرتين رأيت الملك يحملك في سرقة من حرير فقلت له اكشف فكشف فإذا هي أنت فقلت إن يكن هذا من عند الله يمضه
صحيح البخاري
3895
أريتك في المنام مرتين أرى أنك في سرقة من حرير ويقول هذه امرأتك فاكشف عنها فإذا هي أنت فأقول إن يك هذا من عند الله يمضه
صحيح مسلم
6283
أريتك في المنام ثلاث ليال جاءني بك الملك في سرقة من حرير فيقول هذه امرأتك فأكشف عن وجهك فإذا أنت هي فأقول إن يك هذا من عند الله يمضه
جامع الترمذي
3880
هذه زوجتك في الدنيا والآخرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7011 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7011
حدیث حاشیہ:
یہی مرضی ہے تو ضرور پوری ہو کر رہے گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7011]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7011
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! نے تجھے خواب میں دیکھا کہ فرشتہ تجھے ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر لایا اور اس نے کہا:
یہ آپ کی بیوی ہے۔
میں نے تمھارے چہرے سے نقاب اٹھایا تو وہ تم تھیں۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث 5125)

ان روایات میں اختلاف نہیں کیونکہ فرشتہ انسانی صورت میں آیا تھا۔
عورت کو خواب میں دیکھنے کی کئی تعبیریں ہیں۔
ایک یہ کہ دیکھنے والے کوکوئی عورت بطور بیوی میسر آئے گئی۔
دوسری یہ کہ دنیا میں عظیم مرتبہ اور رزق میں فراخی میسر آئے گی اور تیسری یہ کہ کبھی عورت کو خواب میں دیکھنا فتنے پر دلالت کرتا ہے۔
(عمدة القاري: 294/16)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد مجھے ریشمی کپڑے میں لپیٹی ہوئی ایک لڑکی دکھائی گئی جب میں نے اس کا نقاب الٹا تو وہ تم تھیں۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 23/19، حدیث 13155)
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ نبوت کے بعد کا ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7011]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3880
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3880]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو،
کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کر دیا ہے،
یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرئیل علیہ السلام کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے،
عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے،
واللہ اعلم۔

2؎:
یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم:5 اور باب رقم:35 میں آئی ہے،
اس میں جبرئیل کی بجائے صرف فرشتہ کا لفظ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3880]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6283
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم مجھے تین راتیں خواب میں دکھائی گئیں،تمھیں ایک فرشتہ ریشمی کپڑے میں لے کرآیا،وہ کہتا تھا،یہ تیری بیوی ہے تو میں تیرے چہرے سے پردہ اُٹھاتا،چنانچہ تو وہی ہے،سو میں کہتا،اگر یہ فیصلہ اللہ کی طرف سے ہے تو اسے نافذ فرمائے گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6283]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خواب میں ریشمی ٹکڑے میں لانے والے حضرت جبرائیل تھے اور یہ آپ کی نبوت کے بعد کا واقعہ ہے اور انبیاء کے خواب حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں،
اس لیے ان يك شک کے لیے نہیں ہے،
بلکہ یقین کے لیے ہے کہ اس کا اللہ کی طرف سے ہونا یقینی ہے،
اس لیے یہ میری بیوی بن کر رہیں گی،
جس طرح غار میں پھنسنے والے افراد نے کہا تھا،
ان كنت تعلم:
اگر تو جانتا ہے،
حالانکہ اللہ کے جاننے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے،
نیز آپ کے دیکھنے پر اعتراض نہیں ہو سکتا،
کیونکہ یہ خواب کا واقعہ ہے،
فرشتہ لایا ہی دکھانے کے لیے تھا اور منگیتر کو دیکھنا جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6283]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5078
5078. سیدنا عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ ایک آدمی تمہیں ریشمی کپڑے کے ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں نے اس کپڑے کو کھولا تو اس میں تمہاری صورت تھی۔ میں نے (دل میں) کہا: اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور شرمندہ تعبیر کرے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5078]
حدیث حاشیہ:
بعض خواب ہوبہو سچے ہو جاتے ہیں جس کی مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خواب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5078]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3895
3895. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا: میں نے تجھے دو بار خواب میں دیکھا کہ تم ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں ہو اور ایک شخص مجھ سے کہتا ہے کہ آپ کی اہلیہ ہیں۔ جب میں نے اس سے کپڑا ہٹایا تو تمہیں دیکھا۔ میں نے کہا: اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3895]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ میں نے تیرے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے اس طرح دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشمی کپڑے میں تجھے اٹھائے تھا۔
میں نے اسے کہا:
اس سے پردہ اٹھاؤ۔
جب اس نے پردہ اٹھایا تو وہ تو تھی اسی طرح میں نے دوبارہ دیکھا تو یہی منظر سامنے آیا۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7012)
کپڑا ہٹایا تو تمھیں دیکھا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس صورت کی طرح ہو جو میں نے بحالت خواب ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی دیکھی تھی۔
اگر یہ بعثت سے قبل کا واقعہ ہے تو کوئی اشکال نہیں۔
اگر بعثت کے بعد کا ہے تو پھر یہ تجاہل عارفانہ ہے جس میں شک کو یقین کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔

امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ عقد نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کو ایک نظر دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(صحیح البخاري، النکاح، باب: 36۔
قبل حدیث: 5125)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3895]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5078
5078. سیدنا عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ ایک آدمی تمہیں ریشمی کپڑے کے ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں نے اس کپڑے کو کھولا تو اس میں تمہاری صورت تھی۔ میں نے (دل میں) کہا: اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور شرمندہ تعبیر کرے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5078]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ حتمی اور یقینی تھا، البتہ علماء نے اس کے تین معانی بیان کیے ہیں:
٭ یہ خواب اپنے ظاہر پر ہو جو تعبیر کا محتاج نہیں لیکن آپ نے اسے بصورت شک اس لیے بیان کیا کہ مذکورہ خواب اپنے ظاہر پر ہے یا تعبیر کا محتاج ہے۔
٭اگر یہ دنیا کی بیوی ہے تو اللہ اس خواب کو ضرور پورا کرے گا اور یہ بات ہو کر رہے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں شک تھا کہ یہ آپ کی دنیوی بیوی ہے یا آخرت میں ملنے والی شریک حیات ہے۔
٭ آپ کو اس میں کسی قسم کا شک نہیں تھا، آپ نے شک کی صورت میں ایک مبنی بر حقیقت خبر دی۔
یہ بلاغت کی ایک قسم ہے جسے مزج الشك باليقين کہا جاتا ہے۔
(عمدة القاري: 14/18) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جامع ترمذی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو فرشتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کی تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حديث: 3880، و فتح الباري: 9/152)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5078]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7012
7012. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے شادی کرنے سے پہلے مجھے تم دو مرتبہ دکھائی گئی۔ میں نے فرشتے کو دیکھا وہ تمہیں ریشمی کپڑے اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے اسے کہا: اس نے کھولا وہ تم تھی۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ پھر تم مجھے دکھائی گئیں۔ وہ (فرشتہ) تمہیں ریشمی کپڑے میں اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے اسے کہا: اسے کھولو۔ اس نے کھولا وہ تم تھیں۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7012]
حدیث حاشیہ:

پہلی روایت میں ہے کہ ریشمی کپڑے کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھولا جبکہ اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کو کھولنے کا حکم دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھولنے کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ آپ اس کا حکم دینے والے تھے اور جس نے اپنے ہاتھوں سے اسے کھولا وہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے۔
(فتح الباري: 500/12)

خواب میں عورتوں کے لیے ریشمی لباس لینا نکاح عزت و احترام، مال و دولت اور تونگری و امیری پر دلالت کرتا ہے نیز سونا چاندی اور لباس پہننے والے کی عظمت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا محل ہے۔
خواب میں مردوں کا ریشمی لباس پہننا اچھا نہیں کیونکہ شریعت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(عمدة القاري: 294/16)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7012]