صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ظهور الفتن:
باب: فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7065
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ: الْقَتْلُ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7065]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔““ اسی (سابقہ حدیث) کی مثل (بیان کیا) حبشی زبان میں «الْهَرْجُ» کے معنیٰ ہیں: ”قتل۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7065 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7065
حدیث حاشیہ:
حضرت ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ہیں جو مکہ میں اسلام لائے اور ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے سنہ 52ھ میں وفات پائی رضي اللہ عنه و أرضاھا اور حبشی زبان میں ہر ج قتل کے معنی میں ہے۔
حضرت ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ہیں جو مکہ میں اسلام لائے اور ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے سنہ 52ھ میں وفات پائی رضي اللہ عنه و أرضاھا اور حبشی زبان میں ہر ج قتل کے معنی میں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7065]
Sahih Bukhari Hadith 7065 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن قيس الأشعري