🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ:
باب: فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7061
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَ هُوَ؟، قَالَ: الْقَتْلُ الْقَتْلُ"، وَقَالَ شُعَيْبٌ، وَيُونُسُ، وَاللَّيْثُ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سوید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ قریب ہوتا جائے گا اور عمل کم ہوتا جائے گا اور لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونے لگیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! یہ «هرج» کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قتل! قتل!۔ اور یونس اور لیث اور زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7061]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ قریب ہوتا جائے گا، عمل کم ہو جائیں گے، لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا، فتنے زیادہ ہونے لگیں گے اور ہرج کی کثرت ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، قتل۔ یونس، شعیب، لیث اور امام زہری کے بھتیجے نے امام زہری سے بیان کیا، انہوں نے حمید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7062
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اترے پڑے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7062]
حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک قیامت سے کچھ وقت پہلے جہالت عام ہو جائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا۔ اس زمانے میں «الْهَرْجُ» (ہرج) بکثرت ہو گا اور «الْهَرْجُ» (ہرج) قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7063
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سے پہلے ایسے دن ہوں گے جن میں جہالت اترے پڑے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7063]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک قیامت سے کچھ وقت پہلے جہالت عام ہو جائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا۔ اس زمانے میں ہرج بکثرت ہوگا۔ اور ہرج قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7064
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ: جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7064]
حضرت شقیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت اتر پڑے گی اور «الْهَرْجُ» کی کثرت ہوگی۔ اور «الْهَرْجُ» کے معنی ہیں: قتل۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7065
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ: الْقَتْلُ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7065]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اسی (سابقہ حدیث) کی مثل (بیان کیا) حبشی زبان میں «الْهَرْجُ» کے معنیٰ ہیں: قتل۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ رَفَعَهُ، قَالَ:" بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ، يَزُولُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ"، قَالَ أَبُو مُوسَى: وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7066]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں (میرا (ابو وائل) کا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث مرفوع بیان کی تھی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے «الْهَرْجُ» ہرج کے دن ہوں گے۔ ان (دنوں) میں علم ختم ہو جائے گا جبکہ جہالت کا غلبہ ہوگا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حبشی زبان میں «الْهَرْجُ» ہرج کے معنی ہیں، قتل۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7067
وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنِ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَعْلَمُ الْأَيَّامَ الَّتِي ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْهَرْجِ، نَحْوَهُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكْهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ.
اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «هرج» کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7067]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ ہرج کے متعلق بیان فرمائی تھی؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگوں میں بدترین اور شریر وہ ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں