🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ظهور الفتن:
باب: فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7067
وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنِ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَعْلَمُ الْأَيَّامَ الَّتِي ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ الْهَرْجِ، نَحْوَهُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكْهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ.
اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «هرج» کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسى
Newعبد الله بن قيس الأشعري ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن قيس الأشعري
مخضرم
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← شقيق بن سلمة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7067 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7067
حدیث حاشیہ:
علم دین کا خاتمہ قیامت کی علامت ہے۔
جب علم دین اٹھ جائے گا اور مرے ہی لوگ رہ جائیں گے ان ہی پر قیامت قائم ہو جائے گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7067]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7067
حدیث حاشیہ:
ایک حدیث میں ہے:
ایک گروہ ایسا زندہ رہے گا جو قیامت تک حق کی حمایت میں لڑتارہے گا۔
(صحیح مسلم، الإیمان 395(156)
اس کامطلب یہ معلوم ہوتا ہےکہ قیامت بڑے بڑے افاضل پر بھی قائم ہوگی، لیکن ہمارے رجحان کے مطابق قیامت شرارتی لوگوں پر ہی قائم ہوگی۔
اور اس سے پہلے نیک لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:
قیامت سے پہلے ایک پاکیزہ ہوا چلے گی، جس میں ہر مومن مرد اور مومن عورت کی روح کوقبض کر لیا جائے گا پھر دنیا میں خبیث لوگ رہ جائیں گے اور وہ گدھوں کی طرح گلی کوچوں میں بدکاری کریں گے اور ان لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔
(صحیح مسلم، الفتن: 7373(2937)
اس کامطلب یہ ہے کہ عمدہ ہوا چلنے تک افاضل لوگ زندہ رہیں گے پھر گندگی پھیل جائے گی اور گندے لوگوں پر قیامت قائم ہوگی، ایک روایت میں ہے:
قیامت اس وقت آئے گی جب دنیا میں کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہیں رہے گا۔
(مسند أحمد: 307/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7067]