صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ”ایک بلا سے جو نزدیک آ گئی ہے عرب کی خرابی ہونے والی ہے“۔
حدیث نمبر: 7059
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً، قِيلَ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی (تو ایسا ہی ہو گا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7059]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، عربوں کی تباہی اس آفت سے ہوگی جو قریب ہی آ لگی ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا سوراخ ہو گیا ہے“۔ سفیان نے نوے یا سو کا اشارہ کر کے بتایا؛ میں نے عرض کیا: ”کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب بدکاری اور خباثت زیادہ بڑھ جائے گی“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7059]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7060
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ الْقَطْرِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے پھر فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7060]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا: ”میں جو کچھ دیکھتا ہوں کیا تم بھی دیکھتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں فتنے دیکھ رہا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة