🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب التعوذ من الفتن:
باب: فتنوں سے پناہ مانگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7091
وقَالَ لِي خَلِيفَةُ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَمُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ.
اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا پھر یہی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی، اس میں بجائے «سوء» کے «شر» کا لفظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7091]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی، اس میں فتنوں کی برائی کے بجائے فتنوں کے شر کا لفظ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥خليفة بن خياط العصفري، أبو عمرو
Newخليفة بن خياط العصفري ← يزيد بن زريع العيشي
صدوق حسن الحديث
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7091 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7091
حدیث حاشیہ:
اس روایت کے لانے سے امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ سعید کی روایت میں خیر یا شر شک کے ساتھ مذکور ہے۔
جتنے صحابہ وہاں موجود تھے، سب رونے لگے کیوں کہ ان کو معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ کثرت سوالات بالکل رنجیدہ ہوگئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رنجیدہ ہونا خدا کے غضب کی نشانی ہے۔
جب کثرت سوالات سے آپ کو غصہ آیا تو خیال کرنا چاہئے کہ جو شخص آپ کے ارشادات کو سن کر اس پر عمل نہ کرے اور دوسرے چیلے چاٹروں کی بات سنے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ کس قدر ہوگا اور اس کو خدا کے غضب سے کتنا ڈرنا چاہئے۔
میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ اہل ہند کی غفلت اور بے اعتنائی اور حدیث اور قرآن کو چھوڑ دینے کی سزا میں کئی سال سے ان پر طاعون کی بلا نازل ہوئی ہے، معلوم نہیں آئندہ اور کیا عذات اترتا ہے۔
ابھی یہ پارہ ختم نہیں ہوا تھا یعنی یعنی ماہ صفر سنہ 1323ہجری میں پنجاب سے خبر آئی کہ وہاں سخت زلزلہ ہوا اور ہزاروں لاکھوں مکانات تہ خاک ہوگئے اور جو بچ رہے ہیں ان کی بھی حالت تباہ ہے نہ رہنے کو گھر نہ بیٹھنے کا ٹھکانہ۔
غرض اہل ہند کسی طرح خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوتے اور تعصب اور ناحق شناسی نہیں چھوڑتے، معلوم نہیں آئندہ اور کیا کیا عذاب آنے والے ہیں۔
یا اللہ! سچے مسلمانوں پر رحم کر اور ان کو ان عذابوں سے بچادے آمین یا رب العالمین۔
مولانا وحیدالزماں مرحوم آج سے 75 سال پہلے کی باتیں کر رہے ہیں مگر آج سنہ1398 ہجری میں بھی آندھرا پردیش اور علاقہ میوات میں پانی کے طوفان نے عذابوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7091]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7091
حدیث حاشیہ:
ابن بطال نے کہا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ احادیث اس شخص کی تردید میں پیش کی ہیں جو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے فتنوں کا سوال کرنا چاہیے کیونکہ ان میں منافقین کی بیخ کنی ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں ایک غیر مرفوع حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
آخر زمانے میں فتنوں کو بُرا خیال نہ کرو کیونکہ یہ منافقین کی تباہی کاباعث ہیں لیکن اس کی سند کمزور اور اس کے راوی مجہول ہیں۔
(فتح الباري: 55/13)
بہرحال فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ ان سے انسان کے ایمان کو خطرہ رہتا ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7091]

Sahih Bukhari Hadith 7091 in Urdu