🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7095
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، قَالَ: فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ، وَاللَّهُ يَقُولُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؟، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ".
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان ابن بصیر نے، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7095]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی عمدہ حدیث بیان کریں گے۔ اس دوران میں ایک آدمی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا: ”اے ابو عبدالرحمن! ہمیں فتنے کے دور میں جنگ و قتال کے متعلق کوئی حدیث بیان کریں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ”تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔““ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تجھے تیری ماں روئے! کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا ہوتا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو (فتنہ ختم کرنے کے لیے) مشرکین سے جنگ کرتے تھے، ان کے نزدیک مسلمانوں کا دین اسلام میں داخل ہونا فتنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری طرح ملک گیری کے لیے نہ تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7095]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥وبرة بن عبد الرحمن المسلي، أبو العباس، أبو خزيمة
Newوبرة بن عبد الرحمن المسلي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥بيان بن بشر الأحمسي، أبو بشر
Newبيان بن بشر الأحمسي ← وبرة بن عبد الرحمن المسلي
ثقة ثبت
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← بيان بن بشر الأحمسي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن شاهين الواسطي، أبو بشر
Newإسحاق بن شاهين الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4650
الله يقول وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة قال ابن عمر قد فعلنا على عهد رسول الله إذ كان الإسلام قليلا كان الرجل يفتن في دينه إما يقتلونه وإما يوثقونه حتى كثر الإسلام فلم تكن فتنة
صحيح البخاري
7095
يقاتل المشركين وكان الدخول في دينهم فتنة وليس كقتالكم على الملك
صحيح البخاري
4651
وهل تدري ما الفتنة كان محمد يقاتل المشركين وكان الدخول عليهم فتنة وليس كقتالكم على الملك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7095 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7095
حدیث حاشیہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ خیال تھا کہ جب مسلمانوں میں آپس میں فتنہ ہو تو لڑنا درست نہیں۔
دونوں طرف والوں سے الگ رہ کر خاموش گھر میں بیٹھنا چاہئے۔
اسی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے شریک رہے نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے۔
اس شخص نے گویا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جواب دیا کہ اللہ تو فتنہ رفع کرنے کا حکم دیتا ہے اور تم فتنے میں لڑنا منع کرتے ہو۔
آیت (وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ) (البقرة: 193)
میں فتنہ سے مراد شرک ہے۔
یعنی مشرکوں سے لڑو تاکہ دنیا میں توحید پھیلے۔
اسلامی لڑائی صرف توحید پھیلانے کے لئے ہوتی ہے۔
فتنے سے متعلق لفظ مشرق والی حدیث کی مزید تشریح پارہ 30 کے خاتمہ پر ملاحظہ کی جائے۔
(راز)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7095]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7095
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے یہ تھی کہ فتنے کے زمانے میں مسلمانوں کا آپس میں جنگ کرنا جائز نہیں۔
آیت کریمہ میں "فتنہ" سے مراد کفر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ کفر ختم کرنے کے لیے تھی اور اب اسلام کاغلبہ ہے، کفر مغلوب ہو چکا ہے لیکن تمہاری جنگ کفر کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ ملک گیری اور لوگوں میں فساد برپا کرنے کے لیے ہے۔
میرے نزدیک ایسی جنگ جائز نہیں، اس لیے اس میں اتنا حصہ نہیں لیتا۔
2۔
جمہور اہل علم کا موقف ہے کہ جب ایک گروہ کے متعلق پتا چل جائے گا کہ وہ باغی ہے تو ایسے حالات میں اسے اطاعت کی طرف لانے کے لیے جنگ کرنا فتنہ نہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
”اور اگراہل ایمان کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرادو،پھر اگر ان میں کوئی فریق دوسرے پر زیادتی کرتا ہے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔
“ (الحجرات 9)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دو آدمی آئے اور کہنے لگے کہ لوگوں کا قتل ہو رہا ہے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جلیل ہیں، آپ اس کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کرتے جبکہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے:
”تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔
“ (البقرہ 193)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:
ہم نے لڑائی کر کے فتنہ ختم کر دیا تھا اورہمارے دور میں اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہو چکا تھا، لیکن تمہاری لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ مزید بھڑکے اور دین بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے ہو جائے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4513)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7095]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4650
4650. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں کیا فرمایا ہے؟ "اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں (تو ان میں مصالحت کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے)۔" ان حالات میں آپ کو لڑائی کرنے سے کس نے روکا ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اس آیت کی تاویل کروں جو اللہ تعالٰی نے فرمایا: ”اور جو کوئی کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے (اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔“ پھر اس آدمی نے کہا: اچھا اس آیت کے متعلق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4650]
حدیث حاشیہ:
یعنی حضرت علی ؓ کا تقرب اور علو مرتبہ تو ان کے گھر کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ان کا گھر ملا ہوا ہے اور قرابت قریب یہ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ کے داماد بھی تھے۔
ایسے صاحب فضیلت کی نسبت بد اعتقادی کرنا کم بختی کی نشانی ہے۔
شاید یہ شخص خوارج میں سے ہوگا جو حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ دونوں کی تکفیر کرتے ہیں۔
(وحیدی)
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ جنگ خانگی ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کافروں سے ہماری جنگ دنیا کی حکومت یا سرداری کے لیے نہیں بلکہ خالص دین کے لیے تھی تاکہ کافروں کا غرور ٹوٹ جائے اور مسلمان ان کی ایذاء سے محفوظ رہیں تم تو دنیا کی سلطنت اور حکومت اور خلافت حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہو اور دلیل اس آیت سے لیتے ہو جس کا مطلب دوسرا ہے۔
قرآن مجید کی آیات کو بے محل استعمال کرنے والوں نے اسی طرح امت میں فتنے اورفساد پیدا کئے اور ملت کے شیرازے کو منتشر کر دیا ہے۔
آج کل بھی بہت سے نام نہاد عالم بے محل آیات واحادیث کواستعمال کرنے والے بکثرت موجود ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو لڑاتے رہتے ہیں۔
ھداھم اللہ إلیٰ صراط مستقیم۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے اس طرز عمل میں بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں، کاش! ہم غور کر سکیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4650]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4651
4651. حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر ؓ ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک صاحب نے ان سے دریافت کیا: فتنے کی لڑائی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تجھے فتنے کے متعلق علم ہے کہ وہ کیا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے جبکہ ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4651]
حدیث حاشیہ:
تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4651]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4650
4650. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں کیا فرمایا ہے؟ "اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں (تو ان میں مصالحت کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے)۔" ان حالات میں آپ کو لڑائی کرنے سے کس نے روکا ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اس آیت کی تاویل کروں جو اللہ تعالٰی نے فرمایا: ”اور جو کوئی کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے (اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔“ پھر اس آدمی نے کہا: اچھا اس آیت کے متعلق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4650]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے پاس جو آدمی آیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان آپس میں جنگ وقتال میں ہیں اور آپ کسی جنگ میں حصہ نہیں لیتے بلکہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ آپ کو ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا موقف یہ تھا کہ جو امور نظم ملک سے متعلق ہیں ان میں جنگ وقتال درست نہیں بلکہ ایسے حالات میں علیحدگی اختیار کرنے میں عافیت ہے۔
2۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آدمی خارجی تھا کیونکہ خوارج کو حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ سے عداوت تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے دونوں حضرات کی خوبیاں ذکر کر کے اس شخص کا رد کیا اور بتایا کہ حضرت عثمان ؓ کے جنگ اُحد سے فرار کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔
لیکن تم لوگ انھیں معاف نہیں کرتے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
"یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
" (آل عمران: 155/3)
حضرت علی ؓ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی قرابت اور قرابت محل (رہائش)
دونوں کو بیان فرمایا یعنی وہ ہر اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ہیں لیکن تمھیں یہ قرب گوارا نہیں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4650]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4651
4651. حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر ؓ ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک صاحب نے ان سے دریافت کیا: فتنے کی لڑائی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تجھے فتنے کے متعلق علم ہے کہ وہ کیا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے جبکہ ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4651]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا مطلب یہ تھا کہ تمھاری موجود ہ جنگ خانگی اور حصول اقتدار کے لیے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہماری جنگ خالص دین کی سر بلندی کے لیے تھی تاکہ کافروں کا غرور خاک میں مل جائے۔
اور مسلمان ان کی تکلیفوں سے محفوظ رہیں لیکن تم لوگ تو دنیا کی سلطنت اور حکومت حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہو اور بطور دلیل قرآنی آیات کو بے محل پیش کرتے ہو۔
2۔
بلا شبہ قرآن مجید کی آیات کو بے محل استعمال کرنے والوں نے اسی طرح امت میں فتنے اور فساد پیدا کیے اور ملت کے شیرازے کو منتشر کردیا جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ نے خوارج کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ مخلوق میں انتہائی بدتر ہیں کیونکہ جو آیات کفار و مشرکین کے متعلق نازل ہوئی تھیں وہ انھیں مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں۔
(صحیح البخاري، استابة المرتدین، باب: 65)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4651]

Sahih Bukhari Hadith 7095 in Urdu