🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ:
باب: امیر اور سردار اور خلیفہ ہمیشہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7140
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ امر خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو شخص بھی باقی رہیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7140]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ امرِ خلافت قریش میں اس وقت تک رہے گا جب تک ان کے دو شخص بھی باقی رہیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7687

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عاصم بن محمد العمري
Newعاصم بن محمد العمري ← محمد بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← عاصم بن محمد العمري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3501
لا يزال هذا الأمر في قريش ما بقي منهم اثنان
صحيح البخاري
7140
لا يزال هذا الأمر في قريش ما بقي منهم اثنان
صحيح مسلم
4704
لا يزال هذا الأمر في قريش ما بقي من الناس اثنان
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7140 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7140
حدیث حاشیہ:
اور جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔
اگر دین کو چھوڑ دیں گے تو امر خلافت دیگر اقوام کے حوالہ ہوجائے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7140]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7140
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں اشارہ ہے کہ جب تک قریش موجود رہیں گے خلافت کے حق دار ہوں گے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دین اسلام کے علمبردار اور اس کےنفاذ کے لیے عملاً اقدام کریں،بصورت دیگرانھیں اس خلافت سے محروم کردیا جائے گا،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
\"یہ قبیلہ قریش لوگوں کو تباہی کے کنارے پر پہنچادے گا۔
\"لوگوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ایسے حالات میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟آپ نے فرمایا:
\"کاش! لوگ ان سےالگ ہوجائیں۔
\"(صحیح البخاری المناقب حدیث 3604)
کیونکہ اس وقت ان میں دین اسلام کی سربلندی کے بجائے ملک گیری کی ہوس آجائے گی اور دنیا کی خاطر جنگ و قتال کریں گے۔
2۔
بہرحال امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ خلافت کے حقداار قریش ہیں بشرط یہ کہ اس معیار کو قائم رکھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی بات کو معیار بنا کر انصار کو لاجواب کیا تھا،ان کاموقف تھا کہ ایک امیرانصار سے اور ایک امیر مہاجرین سے مقرر کردیا جائے،پھرتمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اس امرپر اتفاق ہوگیا کہ خلافت صرف قریش کا حق ہے،البتہ معتزلہ اور خوارج نے اس سے اختلاف کیا ہے۔
واللہ اعلم۔w
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7140]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3501
3501. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”یہ خلافت قریش میں رہے گی، جب تک ان میں دو آدمی بھی(دیندار)باقی رہیں گے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3501]
حدیث حاشیہ:
امام نووی ؒنے کہا ہے کہ اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے اور قیامت تک سوا قریشی کے غیر قریشی سے خلافت کی بیعت کرنا درست نہیں اور صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اگر کسی زمانہ میں قریشی کے سوا اور کسی قوم کا شخص بادشاہ بن بیٹھا ہے تو ا س نے قریشی خلیفہ سے اجازت لی ہے اور اس کا نائب بن کر رہا ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3501]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3501
3501. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”یہ خلافت قریش میں رہے گی، جب تک ان میں دو آدمی بھی(دیندار)باقی رہیں گے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3501]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے، لیکن یہ استحقاق اقامت ِ دین سے مقید ہے، اس لیے جب خلفاء نے امور دین میں کمزوری ظاہر کی تو حالات تبدیل ہوگئے اور جب تک یہ قریشی حضرات دین کو درست رکھیں گے تو قیادت ان میں باقی رہے گی اگرچہ وہ تعداد میں دو ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ قحطان سے ایک شخص نکلے گا جو اپنی لاٹھی سے لوگوں کو ہانگے گا۔
“ (صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7117)
اس پرامام بخاری ؒنے عنوان قائم کیا ہے کہ حالات تبدیل ہوجائیں گے حتی کہ بتوں کی پوجاشروع ہوجائےگی۔
اس تبدیلی سے پہلے پہلے قریش ہی خلافت کے مستحق ہوں گے۔
دورحاضر میں اگرچہ قریش حکمران نہیں ہیں، تاہم ان کےاستحقاق کےمتعلق کسی کو بھی مجالِ انکار نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکور حدیث میں کسی واقعے کی خبر نہیں دی بلکہ حکماً فرمایا کہ ان میں حکومت رهنی چاہیے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3501]

Sahih Bukhari Hadith 7140 in Urdu