الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب الحاكم يحكم بالقتل على من وجب عليه دون الإمام الذى فوقه:
باب: ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 7156
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قرہ نے، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7156]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7156
| بعثه وأتبعه بمعاذ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7156 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7156
حدیث حاشیہ:
حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ مکہ میں اسلام لائے اور ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے پھر اہل سفینہ کے ساتھ خیبر میں خدمت نبوی میں واپس ہوئے۔
سنہ52ھ میں وفات پائی۔
رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ مکہ میں اسلام لائے اور ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے پھر اہل سفینہ کے ساتھ خیبر میں خدمت نبوی میں واپس ہوئے۔
سنہ52ھ میں وفات پائی۔
رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7156]
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري