صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب من قضى ولاعن فى المسجد:
باب: جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے۔
حدیث نمبر: 7166
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں بنی ساعدہ کے ایک فرد سہل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر سکتا ہے؟ پھر دونوں (میاں بیوی) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي | ثقة حافظ | |
👤←👥يحيى بن جعفر البيكندي، أبو زكريا يحيى بن جعفر البيكندي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7166 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7166
حدیث حاشیہ:
1۔
فیصلے کرنے کے لیے مسجد میں بیٹھنا گھر میں بیٹھنے سے بہتر ہے کیونکہ گھر میں آنے جانے والوں کے لیے کئی قسم کی رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں جبکہ مسجد کا معاملہ اس سے جدا گانہ ہے۔
وہاں ہر کوئی آجا سکتا ہے لیکن کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ فیصلوں کے لیے مسجد سے باہر کسی جگہ کا انتخاب کیا جائے کیونکہ مسجد میں مشرک اور حائضہ عورت کا آنا درست نہیں جبکہ فیصلے کے لیے انھیں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
2۔
ہمارے رجحان کے مطابق مسجد کے احاطے میں ہی کوئی ایک کمرہ اس کے لیے تعمیر کیا جائے جہاں قاضی لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے بیٹھے تاکہ وہاں ہر قسم کے لوگوں کو آنے جانے کی سہولت ہو پھر اس میں تواضع اور انکسار کا پہلو بھی نمایاں ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
فیصلے کرنے کے لیے مسجد میں بیٹھنا گھر میں بیٹھنے سے بہتر ہے کیونکہ گھر میں آنے جانے والوں کے لیے کئی قسم کی رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں جبکہ مسجد کا معاملہ اس سے جدا گانہ ہے۔
وہاں ہر کوئی آجا سکتا ہے لیکن کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ فیصلوں کے لیے مسجد سے باہر کسی جگہ کا انتخاب کیا جائے کیونکہ مسجد میں مشرک اور حائضہ عورت کا آنا درست نہیں جبکہ فیصلے کے لیے انھیں بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
2۔
ہمارے رجحان کے مطابق مسجد کے احاطے میں ہی کوئی ایک کمرہ اس کے لیے تعمیر کیا جائے جہاں قاضی لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے بیٹھے تاکہ وہاں ہر قسم کے لوگوں کو آنے جانے کی سہولت ہو پھر اس میں تواضع اور انکسار کا پہلو بھی نمایاں ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7166]
محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي